پاکستان کا ویسٹ انڈیز کے خلاف پانچواں 'کلین سویپ'

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی تین ون ڈے مقابلوں کی سیریز مکمل طور پر میزبان پاکستان کے نام رہی۔ عالمی درجہ بندی میں شدید زوال کی شکار ٹیم کے لیے تین-صفر کی واضح برتری سے کامیابی پاکستان کے لیے کسی غیبی مدد سے کم نہیں۔

دراصل پاکستان اور ویسٹ انڈیز دونوں میں بہت کچھ مشترک ہے۔ دونوں غیر مستقل مزاج اور ناقابل اعتبار ہیں۔ کچھ کرنے پر آ جائیں تو آسٹریلیا کو ناکوں چنے چبوا دیں، ورنہ بنگلہ دیش سے بھی ایسی پھینٹی کھائیں کہ منہ چھپانے کو جگہ نہ ملے۔ بورڈ میں کشاکش اور ٹیم میں اکھاڑ پچھاڑ دونوں کا یکساں "سرمایہ" ہے اور یہ مسائل ہربورڈ کو ورثے میں ملتے ہیں۔ لیکن تمام تر کمزوریوں کے باوجود یہ انفرادی سطح پر کھلاڑیوں کی باکمال صلاحیت ہے جس سے تمام بڑی ٹیمیں خوفزدہ رہتی ہیں۔

ویسے تو پاک-ویسٹ انڈیز باہمی کرکٹ کی تاریخ طویل ہے اور تینوں طرز کی کرکٹ میں دونوں نے خوب مقابلے کیے ہیں لیکن اگر صرف ایک روزہ کی بات کریں تو دونوں 15 سیریز میں ایک دوسرے کے مقابل آئے ہیں جن میں سے 8 پاکستان کے نام رہیں جبکہ 6 ویسٹ انڈیز نے جیتیں اور ایک سیریز بغیر برابری پر ختم ہوئی۔

ان دونوں کے مابین کھیلی گئی 15 میں سے 7 سیریز کا نتیجہ "کلین سویپ" تھا۔ دو مرتبہ ویسٹ انڈیز نے اور 5 بار پاکستان نے یہ اعزاز حاصل کیا۔

pakistan-team

پاکستان نے ویسٹ انڈيز کو پہلا "کلین سویپ" 1990ء میں اس وقت کیا تھا جب ویسٹ انڈیز حقیقتاً "کالی آندھی" تھا۔ یہ سیریز پاکستان میں کھیلی گئي تھی جب عمران خان پاکستان کے کپتان تھے۔ پھر 1999ء میں کینیڈا میں کھیلی گئی پاک-ویسٹ انڈیز سیریز میں وسیم اکرم کی زیر قیادت پاکستان نے تینوں مقابلے جیتے۔ 2005ء میں انضمام الحق نے ڈوبتے ہوئے ویسٹ انڈیز کو تین-صفر کی واضح برتری سے ہرایا، وہ بھی خود ان کے ملک میں۔

یہ بھی پڑھیں:  خبردار پاکستان! ویسٹ انڈیز جوابی وار کر سکتا ہے

اسی طرح 2008ء میں پاکستان نے شعیب ملک کی زیر قیادت ویسٹ انڈیز کو چوتھی بار چاروں خانے چت کیا۔ یہ سیریز متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی تھی اور اب پانچویں بار انہی میدانوں پر اظہر علی کی قیادت میں "گرین شرٹس" نے ویسٹ انڈیز کو آؤٹ کلاس کیا ہے۔

ویسٹ انڈیز نے 1980ء اور 1988ء میں کھیلی گئی ایک روزہ سیریز میں پاکستان کو کلین سویپ کیا اور یہ دونوں بہت بڑی کامیابیاں تھیں۔ 1980ء میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو پاکستان میں تین-صفر سے ہرایا تھا جب پاکستان کے کپتان جاوید میانداد تھے اور 1988ء میں تو حد ہی ہوگئی۔ عمران خان کی زیر قیادت پاکستان کو ویسٹ انڈیز کے دورے پر تمام پانچوں ایک روزہ مقابلوں میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا، یعنی پانچ-صفر سے وائٹ واش کی ہزیمت اٹھانی پڑی۔

اب ویسٹ انڈیز کے خلاف حالیہ کامیابی نے پاکستان کی عالمی درجہ بندی میں بہتری کی ہے۔ آٹھویں نمبر پر آنے کے بعد اب پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ اگلے ایک سال تک کم از کم اس درجے پر فائز رہے تاکہ عالمی کپ 2019ء کے لیے براہ راست کوالیفائی کر سکے۔

کورٹنی واش اور میلکم مارشل، 1990ء کے دورۂ پاکستان میں

کورٹنی واش اور میلکم مارشل، 1990ء کے دورۂ پاکستان میں

Facebook Comments