بھارت میں عدالت اور بورڈ کے درمیان 'فائنل' مقابلہ

بھارت کی عدالت عظمیٰ اور کرکٹ بورڈ کے درمیان 'فائنل' مقابلے کی تاریخ آ گئی ہے۔ عدالت 17 اکتوبر کو حتمی فیصلہ سنائے گی اور اگلے اقدامات کے بارے میں بتائے گی۔ کورٹ نے لودھا کمیشن کی اصلاحات کو عملی طور پر نافذ کرنے کے لیے قرارداد منظور کیے جانے تک بی سی سی آئی کو ریاستی ایسوسی ایشنز کو فنڈز تقسیم کرنے تک سے روک دیا ہے۔ عدالت نے 21 ستمبر کو ہونے والے سالانہ عموی اجلاس کے بعد اعلان کردہ رقم کو بھی منجمد کردیا ہے۔ عدالت کے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بی سی سی آئی کو ایک دن کا وقت دیا ہے کہ وہ غیر مشروط ضمانت دے کہ وہ ان اصلاحات کو نافذ کرے گا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں عدالت بی سی سی آئی کی موجودہ انتظامیہ کو ہٹا بھی سکتی ہے اور اس کی جگہ عدالت کا مقرر کردہ ایک آزاد پینل سنبھال سکتا ہے۔

اب کرکٹ بورڈ کے اراکین کی بے چینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر نئے نظام اور قواعد وضوابط تھوپنے کی کوشش کی گئی تو بھارت کو عالمی کرکٹ کیلنڈر سے باہر کردیں گے اور یوں بھارت بین الاقوامی کرکٹ سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ بورڈ کے کچھ ارکان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اگر موجودہ نظام کو تلپٹ کرکے اس کی جگہ نئے بھی لے آئے تو وہ سفارشات پر عمل نہیں کر سکیں گے کیونکہ اس کے لئے تمام رکن ایسوسی ایشنز کی دو تہائی اکثریت کی حمایت درکار ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاک-بھارت ٹیسٹ سیریز آئندہ سال انگلستان میں ہونے کا امکان

عدالت کے حتمی فیصلے کی تلوار پڑنے سے پہلے بورڈ کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ اعلیٰ عدلیہ سے غیر مشروط معافی مانگے اور لودھا پینل کی تمام سفارشات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کروائے۔ مگر لگتا ہے کہ بورڈ کے سربراہ انوراگ ٹھاکر نے اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا ہے اور وہ پسپائی اختیار کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے تمام رکن ایسوسی ایشنز کو ای میل بھیجی ہے کہ وہ سب رائج نظام کے حق میں متحد ہو جائیں، اس سے پہلے کہ یہ پورا نظام معطل ہو جائے۔ اس لیے جسٹس لودھا کی سفارشات کے خلاف بھرپور مزاحمت کی تیاری کرلیں۔

یوں موجودہ حالات میں بھارتی بورڈ کا مستقبل دھندلا سا گیا ہے۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ آئندہ بورڈکیسے اور کس نظام کے تحت چلے گا اور کون چلائے گا۔ گومگو کی اس کیفیت میں رنجی ٹرافی سمیت مقامی کرکٹ بری طرح متاثر ہوگی۔

بی سی سی آئی تامل ناڈو سوسائٹیز ایکٹ کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے اور یہ واضح ہے کہ سپریم کورٹ اب اس ایکٹ کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔ بورڈ ممبرز کا کہنا ہے کہ ہمیں حالات کی سنگینی کہ احساس ہے، اور اعلیٰ عدلیہ کچھ بھی فیصلہ کر سکتی ہے۔ وہ موجودہ سیٹ اپ کی جگہ نیا سیٹ اپ مقرر کر دے یا ایک اور موقع فراہم کرتے ہوئے پوچھے کہ سفارشات پر عملدرآمدر کا حتمی ارادہ ہے یا نہیں؟ اور ممکن ہے کہ نئے قواعد و ضوابط کے مطابق دوبارہ انتخابات کا حکم جاری کر دے۔اگر بی سی سی آئی کو مکمل طور پر نیا آئین اپنانے کے لئے کہا جاتا ہے تو پھر یہ عدالت اور لودھا پینل پر ہوگا کہ انڈیا کرکٹ بورڈ کے مستقبل کے متعلق لائحہ عمل بتائے۔

یہ بھی پڑھیں:  'ٹیم انڈیا' کی صلاحیتوں کو برباد کرنے کا اصل ذمہ دار بی سی سی آئی
anurag-thakur

Article Tags

Facebook Comments