پی ایس ایل2، کون ہے کھیلنے کے لیے تیار؟

پاکستان سپر لیگ 2017ء کے لیے اکتوبر کا جاری مہینہ بہت اہم ہے کیونکہ یہ اگلے سیزن کے لیے تمام ٹیموں کا پہلا قدم ثابت ہوگا۔ رواں ماہ کی 18 اور 19 تاریخ کو دبئی میں کھلاڑیوں کے انتخاب کے لیے پہلا میدان سجے گا۔ جوش و جذبہ اپنے عروج پر ہے، چند ٹیموں نے تو پہلے ہی 'منتقلی' و 'سودے' کرلیے ہیں جیسا کہ کراچی کنگز نے اپنا ٹی ٹوئنٹی اسپیشلسٹ سہیل تنویر لاہور قلندرز کو دے کر ان کے بدلے 'طوفانی' کرس گیل کو حاصل کرلیا ہے۔ ساتھ ہی کراچی نے اپنی پہلی باری اسلام آباد یونائیٹڈ کو دے کر اس کے بدلے میں 'لمحہ موجود' کے مقبول کھلاڑی بابر اعظم کو حاصل کرلیا ہے۔ یوں اس وقت پی ایس ایل میں خوب رونق لگی ہوئی ہے اور سب کی نظریں 10 دن بعد پر لگی ہیں۔

اس 'ڈرافٹ' میں کون سے کھلاڑی انتخاب کے لیے دستیاب ہوں گے، اس کے لیے پی ایس ایل انتظامیہ نے ایک طویل فہرست جاری کی ہے، جس میں 'پلاٹینم'، 'ڈائمنڈ'، 'گولڈ' اور 'سلور' کے زمروں میں کئی کھلاڑیوں کے نام ظاہر کیے گئے ہیں۔

جو کھلاڑی پہلے سیزن میں بھی کھیلے ہیں، ان کے انتخاب کا انحصار ٹیموں کے فیصلے پر ہوگا۔ اگر کوئی ٹیم اپنے کسی کھلاڑی کو فروخت کے لیے پیش کرتی ہے تو تبھی کوئی اور فرنچائز انہیں خرید سکے گی۔ 'منتقلی' اور 'سودے' کے معاملات بھی ہیں۔ پھر بھی کھلاڑیوں کی مکمل فہرست کا موجود ہونا ضروری ہے تاکہ اندازہ ہو سکے کہ کن کھلاڑیوں کو حاصل کیا جا سکتا۔ بہترین زمرے 'پلاٹینم' میں آسٹریلیا کے شین واٹسن، بنگلہ دیش کے شکیب الحسن، انگلستان کے ایون مورگن، کیون پیٹرسن اور اسٹورٹ براڈ، نیوزی لینڈ کے برینڈن میک کولم، سری لنکا کے کمار سنگاکارا اور مہیلا جے وردھنے، ویسٹ انڈیز کے کرس گیل، آندرے رسل، ڈیرن سیمی، ڈیوین براوو، کیرون پولارڈ اور مارلون سیموئلز اور پاکستان کے مصباح الحق، شاہد آفریدی، سرفراز احمد، عمر اکمل اور یونس خان سمیت دیگر کھلاڑی شامل ہیں۔ ان میں سے بیشتر کھلاڑی پہلے سیزن میں کھیل چکے ہیں، اسٹورٹ براڈ، برینڈن میک کولم، مہیلا جے وردھنے، کیرون پولارڈ، مارلون سیموئلز اور یونس خان اس مرتبہ نئے ہیں۔ میک کولم کا معاملہ تو پہلے ہی طے پا چکا ہے، کیونکہ کھلاڑیوں کے انتخاب میں پہلی بار لاہور قلندرز کی ہوگی، اس لیے وہ ممکنہ طور پر نیوزی لینڈ کے سابق کپتان کے نام پر انگلی رکھے گا۔ ہو سکتا ہے کہ اگلے سیزن میں وہ قلندران لاہور کے کپتان بھی ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:  ہربھجن بمقابلہ آشون: "پیشہ ورانہ حسد" یا "حقیقت"؟

اگر ہم 'ڈائمنڈ' کیٹیگری کو دیکھیں تو یہاں میں آسٹریلیا کے بریڈ ہیڈن، انگلستان کے جیمز اینڈرسن، روی بوپارا، معین علی اور گزشتہ شب بنگلہ دیش کے چھکے چھوڑ دینے والے جیک بال، نیوزی لینڈ کے نیتھن میک کولم، جنوبی افریقہ کے البی مورکل اور وین پارنیل، سری لنکا کے تلکارتنے دلشان، ویسٹ انڈیز کے کارلوس بریتھویٹ اور جیسن ہولڈر اور پاکستان کے شرجیل خان، محمد عامر، سہیل تنویر، یاسر شاہ اور محمد عرفان سمیت دیگر کھلاڑی نمایاں نظر آتے ہیں۔ اینڈرسن، پارنیل اور دلشان اگر کھیلے تو پہلی بار پی ایس ایل کا حصہ بنیں گے۔

تیسرے زمرے "گولڈ" میں افغانستان کے محمد شہزاد، آسٹریلیا کے شان ٹیٹ، بنگلہ دیش کے تمیم اقبال، انگلینڈ کے گیری بیلنس، لیام پلنکٹ، نیوزی لینڈ کے جیسی رائیڈر، جنوبی افریقہ کے رچرڈ لیوی، راین میک لارن، ویسٹ انڈیز کے جانسن چارلس، زمبابوے کے برینڈن ٹیلر، سکندر رضا اور ایلن چگمبورا اور پاکستان کے اسد شفیق، اظہر علی، بابر اعظم، جنید خان، خالد لطیف اور سلمان بٹ جیسے اہم نام شامل ہیں۔

سلور کیٹیگری طویل ہے جس میں افغانستان کے محمد نبی، بنگلہ دیش کے سومیا سرکار، گزشتہ روز بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ون ڈے میں عمدہ بیٹنگ کرنے والے انگلینڈ کے بین ڈکٹ، آئرلینڈ کے کیون اوبرائن اور پاکستان کے فواد عالم اور ناصر جمشید فوری طور پر نظروں میں آتے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ان میں سے کون اگلے سیزن کے لیے منتخب ہوتا ہے اور کون نہیں۔ واقعی اب انتظار نہیں ہو رہا!

Pakistan-Super-League-logos

Facebook Comments