"گلابی ٹیسٹ" کے لیے دستہ، بابر اور نواز شامل

پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی اور ایک روزہ مقابلوں میں میدان مارنے کے بعد اب ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے آخری مرحلے کے لیے بھی دستے کا اعلان کردیا ہے۔ ایک روزہ 'کلین سویپ' میں مرکزی کردار ادا کرنے والے دو کھلاڑیوں بابر اعظم اور محمد نواز کو پہلی بار ٹیسٹ کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ بابر اعظم اس وقت بہترین فارم میں ہیں اور ویسٹ انڈیز کے خلاف تینوں مقابلوں میں سنچریاں بنا کر سب کی آنکھوں کا تارا بنے ہوئے ہیں۔

یہ انگلستان کے خلاف اوول کے مقام پر تاریخی کامیابی کے بعد پاکستان کا پہلا ٹیسٹ ہوگا جو 13 اکتوبر سے دبئی میں شروع ہوگا۔ یہ مقابلہ اس لیے بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ پاکستان کا پہلا ڈے نائٹ ٹیسٹ ہوگا، یعنی گلابی گیند سے کھیلا جائے گا۔

اس تاریخی مقابلے کے لیے پاکستان کو تجربہ کار یونس خان کی خدمات حاصل نہیں ہوں گی، جو ڈینگی جیسے مرض کا شکار ہونے کے بعد اب صحت یابی کے مراحل سے گزر رہے ہیں اور امکان ہے کہ دوسرے ٹیسٹ سے پہلے فٹ ہو جائیں گے۔ ان کی عدم موجودگی میں پاکستانی دستے میں صرف پانچ مستند بلے باز موجود ہیں، اظہر علی، سمیع اسلم، بابر اعظم، مصباح الحق اور اسد شفیق۔ اس لیے غالبا امکان ہے کہ محمد نواز کی بطور آل راؤنڈر شمولیت ہوگی، جو لوئر مڈل آرڈر میں وکٹ کیپر سرفراز احمد کے ساتھ کھیلیں گے۔ خود چیف سلیکٹر انضمام الحق نے بھی کہا کہ پاکستان کو معیاری آل راؤنڈر کی سخت ضرورت ہے اور انہیں امید ہے کہ محمد نواز کے ذریعے یہ تلاش مکمل ہوگی۔ محمد نواز 29 فرسٹ کلاس مقابلوں میں 1440 رنز بنانے کے ساتھ 44 وکٹیں بھی لے چکے ہیں۔ وہ بلے بازی میں تین سنچریاں بنا چکے ہیں۔ دوسری طرف ایک روزہ سیریز میں تباہ کن کارکردگی دکھانے والے بابر اعظم فرسٹ کلاس میں 41 سے زیادہ کا اوسط رکھتے ہیں۔ ان کی شمولیت محمد حفیظ کی جگہ ہوئی ہے کہ جو اپنی گزشتہ چھ اننگز میں صرف 102 رنز بنا سکے ہیں اور انگلستان میں بھی انتہائی مایوس کن کارکردگی دکھائی، یہاں تک کہ پاکستان نے آخری ٹیسٹ سے قبل انہیں باہر کردیا۔

یہ بھی پڑھیں:  نکلتی ہوئی بازی پھر ہاتھ آ گئی، لارڈز میں پاکستان کا غلبہ

پاک-ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کا دوسرا مقابلہ 21 اکتوبر سے ابوظہبی میں جبکہ تیسرا 30 اکتوبر سے شارجہ میں کھیلا جائے گا۔

اعلان کردہ دستہ ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے:

مصباح الحق (کپتان)، اسد شفیق، اظہر علی، بابر اعظم، ذوالفقار بابر، راحت علی، سرفراز احمد، سمیع اسلم، سہیل خان، عمران خان، محمد عامر، محمد نواز، وہاب ریاض اور یاسر شاہ۔

Babar-Azam

Facebook Comments