اسکاٹ اسٹائرس نے بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا

نیوزی لینڈ کے معروف آل راؤنڈر اسکاٹ اسٹائرس نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے. اسکاٹ اسٹائرس نے اس سے قبل 2008 میں ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے تمام تر توجہ ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں اور ٹی ٹونٹی پر نظر رکھنے کا فیصلہ کیا تھا. اسٹائرس گزشتہ عالمی کپ میں سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی ٹیم کے اہم رکن تھے.

اسکاٹ اسٹائرس عالمی کپ 2011ء میں سیمی فائنل تک رسائی کرنے والی ٹیم کا حصہ تھے (تصویر: اے ایف پی)

10 جولائی 1975 کو برسبین، آسٹریلیا میں پیدا ہونے والے اسکاٹ اسٹائرس نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز 1999 میں بھارت کے خلاف کیا. ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں اسٹائرس نے مجموعی طور پر 188 میچز میں 4 سنچریوں اور 28 نصف سنچریوں کی مدد سے 4483 رنز بنائے اور گیند بازی کرتے ہوئے 137 وکٹیں بھی حاصل کیں. وہ نیوزی لینڈ کی جانب سے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں چھٹے نمبر پر موجود ہیں.

اسکاٹ اسٹائرس نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کی نمائندگی پر فخر اور مسرت کا اظہار کیا. انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کے بہترین کھلاڑیوں کے ساتھ کئی سالوں پر مشتمل رفاقت کو یادگار لمحات میں سے ایک قرار دیا. انہوں نے کہا کہ وہ بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہنے کے بعد اپنے گھر اور خاندان کو زیادہ وقت دینا چاہیں.

نیوزی لینڈ کے ایک روزہ ٹیم کے کلیدی رکن اسٹائرس نے اپنے کیریئر کا آغاز متاثر کن انداز میں کیا لیکن 2008ء اور 2010ء کے دوران یہ ٹیم سے اندر باہر ہوتے رہے. اسٹائرس کے تجربے کو دیکھتے ہوئے انہیں عالمی کپ 2011ء کی ٹیم میں شامل کیا گیا تاہم وہ گزشتہ عالمی کپ جیسی کارکرگی دہرانے میں ناکام رہے. عالمی کپ 2011ء کے بعد اسکاٹ اسٹائرس نے آئی پی ایل میں چنئی سپر کنگز کی نمائندگی کرتے ہوئے 2 مقابلوں میں حصہ لیا.

اسٹائرس نے کہا کہ وہ مزید ایک یا دو سال تک مقامی طرز پر ٹی ٹونٹی مقابلوں میں حصہ لینے میں دلچسپی رکھتے ہیں. اسٹائرس اس وقت انگلستان میں جاری فرینڈز لائف ٹی 20 میں ایسکس کی نمائندگی کررہے ہیں. وہ رواں سال کے آخر میں نیوزی لینڈ میں ہونے والے ایچ آر وی پی کپ میں نارتھن نائٹس کی جانب سے کھیلیں گے.

اسٹائرس نے ماضی میں نیوزی لینڈ کی کئی ایک یادگار فتوحات میں اہم کردار ادا کیا. وہ 2000ء میں کینیا میں کھیلی جانے والی آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی کی فاتح ٹیم میں شامل تھے اور انہوں نے نیوزی لینڈ کو پہلی بار ویسٹ انڈیز سرزمین پر ٹیسٹ سیریز میں فتحیاب کرنے میں بھی اہم حصہ ڈالا. اسٹائرس کی جانب سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب بلیک کیپس کی قیادت نوجوان کھلاڑی روز ٹیلر کو سونپی گئی ہے. بعض مبصرین کے خیال میں نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کی جانب سے نوجوان کھلاڑیوں کو سینئر کھلاڑیوں پر ترجیح دیا جانا بھی اسٹائرس کے اس فیصلے کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے.

Facebook Comments