عمران خان کی بات مان لیں!!

جب 'بوم بوم' اور 'اسٹریٹ فائٹر' کا مقابلہ ہو تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کیا ہوگا۔ چند دن پہلے جاوید میانداد نے شاہد آفریدی پر الزام لگایا کہ وہ پیسوں کے لیے الوداعی میچ کھیلنا چاہتے ہیں تو شاہد آفریدی نے جوابی حملہ کرتے ہوئے جاوید میانداد کو پیسوں کا لالچی قرار دے دیا۔ پھر سنگین الزامات اور جواب در جواب کا ایک سلسلہ چل پڑا جس میں جاوید میانداد نے شاہد آفریدی کو 'میچ فکسر' تک کہہ ڈالا۔

شاہد آفریدی اور جاوید میانداد کے درمیان اس زبانی جنگ سے محض جگ ہنسائی کے کچھ حاصل نہیں ہوگا کیونکہ مختلف ادوار کے دو بڑے کھلاڑیوں کو ایک دوسرے پر سطحی انداز میں الزامات لگاتے ہوئے دیکھنا ذرا بھی اچھا نہیں لگ رہا۔ ایسا کرنے سے پاکستان کرکٹ کی کوئی خدمت نہیں ہورہی جبکہ یہی جذباتی الزامات مستقبل قریب میں عالمی سطح پر میچ فکسنگ کے حوالے سے ایک نیا پنڈورا بکس کھول سکتے ہیں، جس میں ملک کے نام پر حرف آئے گا مگر ٹی وی چینلز پورے مرچ مصالحہ کیساتھ اس تنازع کو صرف اس لیے اُچھال رہے ہیں تاکہ کچھ دنوں کے لیے اُن کا پیٹ بھرتا رہے۔ سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک ٹی وی چینل شاہد آفریدی سے ’’محبت‘‘ کا حق ادا کرتے ہوئے ہر وقت اُن کی بہترین اننگز کی ویڈیو چلا رہا ہے تودوسری طرف ایک دو چینلز پرائم ٹائم میں جاوید میانداد کے انٹرویوز کررہے ہیں۔

یہاں یہ بحث غیر ضروری ہے کہ دونوں میں کون زیادہ بڑا کھلاڑی تھا کیونکہ جاوید میانداد نے ٹیسٹ اور ون ڈے انٹرنیشنلز میں پاکستان کے لیے جو کارکردگی دکھائی، وہ انہیں عظیم بیٹسمینوں میں شامل کرنے کے لیے کافی ہے اور انہیں اس کے لیے کسی سے سند لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف شارجہ میں لگایا گیا ایک چھکا ہی کئی کھلاڑیوں کے پورے کیرئیرز پر بھاری ہے۔ دوسری جانب شاہد آفریدی ’’عوامی‘‘ کھلاڑی ہیں جنہوں نے اپنی پرکشش شخصیت، جارحانہ انداز اور عوام کی پسندیدگی کی بنیاد پر طویل عرصے تک کرکٹ کھیلی ہے اور اس دوران پاکستان کو کئی میچز میں فتوحات بھی دلوائی ہیں۔ اس لیے یہ بحث نہیں کی جاسکتی کہ کون بڑا کھلاڑی ہے بلکہ قابل بحث اور افسوس ناک امر یہ ہے کہ پاکستان کے دو بڑے اور نامور کھلاڑی ایک دوسرے پر سنگین الزامات لگا کر خود کو ’’پارسا ‘‘ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں حالانکہ اس کوشش میں وہ خود کو بھی ’’گندا‘‘ کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  شاہد آفریدی 16 سال کا بچہ ہے؛ گوتم گمبھیر

اگلے ایک دو دن میں شاہد آفریدی اپنے وکلاء کی مدد سے جاوید میانداد کو قانونی نوٹس بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ جاوید میانداد نوٹس وصول کرنے اور اس کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ جاوید میانداد نے نہ صرف شاہد آفریدی بلکہ پوری ٹیم پر الزام لگایا ہے کہ وہ میچ فکس کرتے رہے ہیں اور انہوں نے کھلاڑیوں کو رنگے ہاتھوں پکڑا ہے۔ دوسری طرف شاہد آفریدی کے کھیلنے کے انداز اور کارکردگی پر لاکھ تنقید ہو، لیکن یہ بات ہضم نہیں ہو رہی کہ شاہد آفریدی پیسوں کے لالچ میں ملک کا سودا کرسکتے ہیں ۔

اگر شاہد آفریدی قانونی نوٹس بھیجتے ہیں تو پھر جاوید میانداد کو بھی اپنے الزامات کے ثبوت کیساتھ سامنے آنا ہوگا۔ اگر جاوید میانداد ایسا نہ کرسکے تو عظیم بیٹسمین کو نہ صرف سبکی کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ آفریدی کے مداحوں اور کچھ ٹی وی چینلز کی جانب سے بھی انہیں شدید ردعمل بھی سہنا ہوگا۔ لیکن جاوید میانداد نے اپنے الزامات کے ثبوت پیش کردیے تو پھر نہ صرف پاکستان کرکٹ بلکہ عالمی کرکٹ میں بھی بھونچال آجائے گا جس سے بہت تباہی ہوگی۔

اس صورتحال میں عمران خان کا مشورہ دل کو لگتا ہے کہ جاوید میانداد اور شاہد آفریدی اس معاملے کو افہام و تفہیم کیساتھ حل کرلیں کیونکہ یہ پاکستان کی بدنامی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جاوید میانداد نے طویل عرصے تک عمران خان کیساتھ کرکٹ کھیلی ہے جبکہ آفریدی بھی سابق کپتان کی بہت عزت کرتے ہیں اس لیے میانداد اور آفریدی دونوں کو چاہیے کہ عمران خان کی بات مان کر اس معاملے کو یہیں ختم کردیں کیونکہ اگر راز کھلنا شروع ہوگئے تو پھر بہت سے پردہ نشینوں کے نام بھی سامنے آئیں گے!!

یہ بھی پڑھیں:  مصباح تجھے سلام!
shahid-afridi

Facebook Comments