جنوبی افریقا کی نظریں آسٹریلیا کے خلاف پہلے وائٹ واش پر

دنیائے کرکٹ’عظیم‘ آسٹریلیا کی عظمت کے سورج کو جنوبی افریقا کے میدانوں پر میزبان ٹیم کے ہاتھوں گرہن لگتے ہوئے دیکھ رہی ہے، جہاں آسٹریلیا کو پانچ ایک روزہ مقابلوں کی سیریز میں صفر-چار کی ہزیمت کا سامنا ہے۔ اگر سیریز کے پانچویں اور آخری میچ میں بھی آسٹریلیا کو کامیابی نہ ملی تو دو طرفہ ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کی تاریخ میں آسٹریلیا کو پہلی بار وائٹ واش کی خفت اٹھانی پڑے گی۔

سیریز کے آغاز سے قبل اس انجام کا تصور دونوں ٹیموں نے نہ کیا ہوگا۔ پہلے ایک روزہ مقابلے میں آسٹریلیا نے 295 رنز کا ہدف دیا تو جنوبی افریقا نے ڈی کوک کے 178 رنز کی بدولت 37 ویں اوور ہی میں چار وکٹوں کے نقصان پر یہ ہدف حاصل کرلیا۔ دوسرے مقابلے میں آسٹریلیا کو 142 رنز کی شکست کا سامنا کرنا پڑا، جب وہ جنوبی افریقا کے 361 رنز کے جواب میں 219 رنز پر ہمت ہار گیا۔ تیسرے ایک روزہ میں آسٹریلیا کی بیٹنگ لائن اپنی فارم میں نظر آئی اور چھ وکٹوں پر 371 رنز بنا ڈالے۔ لیکن جنوبی افریقا ہدف کا تعاقب کرنے میں مہارت حاصل رکھتا ہے۔ چنانچہ یہ بھاری ہدف چھ وکٹوں ہی پر آخری اوور میں حاصل کرلیا گیا۔ چوتھے مقابلے میں آسٹریلیا کی بیٹنگ لائن نے ایک بار پھر دھوکا دیا اور 167 رنز پر پوری ٹیم چلتی بنی، جنوبی افریقا کو چھ وکٹوں سے کامیابی ملی۔

تمام تر سیریز میں ایک طرف میزبان ٹیم کی تجربہ کار بالنگ لائن کے مقابلے میں آسٹریلیا کی بالنگ لائن کمزور اور ناتجربہ کار نظر آئی، تو دوسری طرف آسٹریلیا کی بیٹنگ لائن نے بھی نام ڈبویا۔ چوتھے ایک روزہ میچ میں صرف چار کھلاڑی دہرے ہندسے میں داخل ہوسکے۔ تیسرے ایک روزہ مقابلے کے علاوہ جنوبی افریقا کے گیند بازوں نے ہر میچ کو اپنے ہاتھوں میں رکھا ہے، اور تیسرے میچ میں جہاں افریقی گیند باز کمزور پڑے تو وہاں بلے بازوں نے کسر پوری کردی۔ اب تک سیریز میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے سرِ فہرست پانچ کھلاڑیوں میں آسٹریلیا کے صرف ڈیوڈ وارنر شامل ہیں۔ اسی طرح سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے پانچ کھلاڑیوں میں بھی آسٹریلیا کے صرف جان ہیسٹنگز جگہ بناسکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ڈیوڈ ملر کے فولادی اعصاب، جنوبی افریقہ کی شاندار کامیابی

ایک تجربہ کار اور آزمودہ بیٹنگ لائن کے باوجود ایسی کارکردگی پر آسٹریلوی وکٹ کیپر، میتھیو ویڈ کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ’’ہم کہیں بھی بہترین کے قریب تر بھی کھیل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ہمیں بہت آگے جانا ہوگا اور اگلے مقابلے میں بہترین کھیل پیش کرنے کا راستہ ڈھونڈنا ہوگا۔ ہم ایسی حالت میں ہرگز نہیں ہیں کہ کہیں بھی ٹہلتے ہوئے جائیں اور جیت کر آجائیں۔‘‘

آسٹریلیا کو اس سے پہلے صفر-چار کی واحد ہزیمت کا سامنا انگلستان کے خلاف 2012ء میں ہوا تھا، جب سیریز کا ایک میچ بغیر کسی گیند کے منسوخ ہوگیا تھا۔ سیریز کا آخری میچ آج (12 اکتوبر) کو کیپ ٹاؤن میں پاکستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے چار بجے کھیلا جائے گا۔

Facebook Comments