’’گلابو‘‘کیا گل کھلائے گی؟؟

انٹرنیشنل کرکٹ میں طویل عرصہ تک ’’سرخ و سفید‘‘ گیند کے استعمال کے بعد جب ٹیسٹ کرکٹ میں جدت لانے کی خاطر پانچ روزہ میچز کو ڈے اینڈ نائٹ کرنے کی تجویز سامنے آئی تو سب سے بڑا مسئلہ گیند کا رنگ تھا۔ ابتدائی طور پر تجرباتی طور پر نارنجی (اورنج) رنگ کی گیند استعمال کی گئی مگر مصنوعی روشنیوں میں جب اس گیند نے بیٹسمینوں کی بینائی کا امتحان لیا تو قرعہ فال گلابی گیند کے حق میں نکلا جو فرسٹ کلاس میچز میں اپنی دھاک بٹھانے کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں بھی وارد ہوگئی ہے ۔

گزشتہ برس ایڈیلیڈ میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان تاریخ کا اولین ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچ کھیلا گیا جس میں گلابی گیند کا استعمال کیا گیا اور اب اس گیند سے تاریخ کا دوسراڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچ کل سے پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں کے درمیان دبئی میں ہوگا، جہاں اپریل 2010ء میں ڈرہم اور ایم سی سی کی ٹیمیں گلابی گیند سے برسر پیکار ہوچکی ہیں مگر گلابی گیند سے پہلا فرسٹ کلاس مقابلہ جنوری 2010ء میں گیانا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا تھا۔

ایڈیلیڈ میں کھیلے گئے اولین ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچ میں بیٹسمینوں کی جانب سے کافی شکایات سامنے آئیں کیونکہ گیند کی سلائی کا رنگ آف وائٹ ہونے کے باعث گیند پر نظریں جمانا آسان نہیں تھا اور بیٹسمینوں کی بے بسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پورے میچ میں صرف تین نصف سنچریاں اسکور کی گئیں جبکہ 224 سب سے بڑا مجموعہ ثابت ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ اب گلابی گیند کی سلائیوں کا رنگ سیاہ کیا گیا ہے تاکہ بیٹسمینوں کو یہ گیند دیکھنے میں آسانی ہو اور بالرز مکمل طور پر حاوی نہ ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:  بلے بازوں کا راج، 7 مہینوں میں ریکارڈ 85 سنچریاں

آسٹریلین کمپنی "کوکابورا" کا تیار کردہ گلابی گیند روایتی سرخ گیند کی نسبت رات کے وقت زیادہ سوئنگ ہوتا ہے جو بیٹسمینوں کیلئے مشکلات کا سبب ہے۔ اس لیے فرسٹ کلاس میچز میں عام طور پر یہ دیکھنے کو ملا ہے کہ ٹاس جیت کر ٹیمیں پہلے بیٹنگ کرنے کو ترجیح دیتی ہیں تاکہ انہیں دن کی روشنی میں کچھ رنز بنانے کا موقع مل جائے کیونکہ دن ڈھلنے کیساتھ ساتھ ’’گلابو‘‘ کی اثر انگیزی بڑھنا شروع ہوجاتی ہے۔

دسمبر2011ء میں پاکستانی فرسٹ کلاس سیزن میں گلابی گیند کی پہلی آزمائش کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں قائد اعظم ٹرافی کے فائنل کے دوران پی آئی اے اور زرعی ترقیاتی بینک کی ٹیموں کے درمیان کی گئی ۔اب ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچ کی تیاریوں سے غرض سے پی سی بی نے قائد اعظم ٹرافی میں کچھ میچز میں گلابی گیند اور مصنوعی روشنیوں کے استعمال کا تجربہ کیا ہے جس میں کھلاڑیوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کراچی میں خرم منظور نے ڈے اینڈ نائٹ مقابلے میں تیسری اننگز کے دوران 250 رنز بنائے مگر ٹیسٹ بیٹسمین کا کہنا تھا کہ پہلی اننگزمیں گلابی گیند کا سامنا کرنا آسان نہیں تھا اور دونوں ٹیموں کے بیٹسمینوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح راولپنڈی میں بھی دفاعی چمپئن سوئی نادرن گیس اور میزبان ٹیمیں پہلی اننگز میں بے بسی کی تصویر بنی رہیں۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں بیٹسمینوں نے گلابی گیند پر تحفظات کا اظہار کیا کیونکہ مسئلہ صرف گیند کا صحیح نظر آنانہیں بلکہ رات کے وقت اس کی سوئنگ سے نبردآزما ہونا بھی ایک کٹھن مرحلہ ہے۔

اگر پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کی بات کی جائے تو اس کے متعدد کھلاڑی پاکستان میں گلابی گیند سے رات کے وقت فرسٹ کلاس میچز کھیلنے کا تجربہ رکھتے ہیں جبکہ شارجہ میں تین روزہ پریکٹس میچ میں بھی اسی گیند سے برقی قمقموں کی روشنیوں میں کھیلا گیاجس سے کھلاڑیوں کو خاطر خواہ مشق مل گئی ہے مگرٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنا اس میچ میں ایک آسان فیصلہ ہوگا کیونکہ دن کی روشنی کے برعکس رات کے وقت فلڈ لائٹس میں گلابی گیند پوری آب و تاب کیساتھ اپنا رنگ دکھائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  یاسر شاہ: پاکستان کا شین وارن؟

جس طرح تاریخ کے اولین ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچ میں تماشائیوں کا سمندر اُمڈ آیا تھا بالکل اسی طرح یہ امید کی جاسکتی ہے کہ پاکستان کے 400ویں ٹیسٹ اور ڈے اینڈ نائٹ مقابلے کے تاریخی موقع پر دبئی کااسٹیڈیم بھی تماشائیوں سے بھرا ہوگا ۔گلابی گیند اور ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچز کے حوالے سے تحفظات میں کمی اور تماشائیوں کی دلچسپی میں اضافہ ہورہا ہے ۔ اگلے برس انگلینڈ میں اس طرز کے پہلے مقابلے کے بعد اس کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوگا ۔ٹی20کرکٹ کے دور میں ٹیسٹ کرکٹ کو زندہ رکھنے کیلئے اس طرح کے انقلابی فیصلوں کی اشد ضرورت محسوس کی جارہی تھی اور گلابی گیند کیساتھ ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچز یقینی طور پر بہت زیادہ دلچسپی کے حامل ہونگے۔

ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچز کے حوالے سے تشویش کی بات صرف اتنی ہے کہ سرخ گیند کے مقابلے میں گلابی گیند کیساتھ کھیلنا آسان نہیں ہے اور ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں یہ بات ثابت بھی ہوگئی تھی۔ دیکھتے ہیں کہ دبئی میں ’’گلابو‘‘ کیا گل کھلاتی ہے مگر اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ اگر ’’گلابو‘‘ نے آئی سی سی کی مدد سے اپنے تیور بدل لیے تو پھر ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچز کا مستقبل میدان میں روشن برقی قمقموں سے بھی زیادہ روشن ہوجائے گا!!

Facebook Comments