ٹرپل سنچریاں بنانے والے بیٹسمین

ٹیسٹ کرکٹ میں ٹرپل سنچری بنانا دل گردے کا کام ہے۔ چاہے حریف کتنا ہی کمزور کیوں نہ ہوں، حالات بلے بازی کے لیے کیسے ہی سازگار ہوں لیکن 300 کے ہندسے کو چھونے کے لیے سخت محنت، بھرپور لگن، آہنی عزم اور مضبوط ارادے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہی کچھ اظہر علی میں موجود ہے۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف تاریخی ٹیسٹ مقابلے میں اظہر علی نے 302 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیل کر اپنا نام تاریخ کے عظیم ترین بلے بازوں میں لکھوا لیا ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں اظہر علی 25 ویں بلے باز ہیں جنہوں نے ٹرپل سنچری بنائی ہے۔

پہلی بار یہ اعزاز انگلستان کے اینڈی سینڈہیم نے حاصل کیا۔ انہوں نے کنگسٹن، جمیکا میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 640 گیندوں پر 325 رنز بنائے تھے۔ اس کے بعد سے اب تک 29 بار مختلف بلے باز اس سنگ میل کو عبور کر چکے ہیں جن میں آخری نام اظہر علی کا ہے۔

عظیم آسٹریلوی بلے باز ڈان بریڈمین، بھارت کے وریندر سہواگ اور ویسٹ انڈیز کے کرس گیل اور برائن لارا دو، دو مرتبہ ٹرپل سنچریاں بنا چکے ہیں بلکہ لارا نے تو تاریخ کی واحد کواڈریپل سنچری بنا رکھی ہے جس میں انہوں نے اپریل 2004ء میں انگلستان کے خلاف ناٹ آؤٹ 400 رنز بنائے تھے۔

آئیے آپ کو ٹیسٹ ٹرپل سنچریاں بنانے والے تمام بلے بازوں کی اننگز کے بارے میں بتاتے ہیں۔ مندرجہ ذیل فہرست طویل ترین ٹیسٹ اننگز کے حساب سے ترتیب دی گئی ہے لیکن آپ تاریخ، یا گیندوں کی تعداد اور دیگر لحاظ سے بھی ترتیب دے سکتے ہیں، صرف ان پر کلک کے ذریعے:

یہ بھی پڑھیں:  بھارت کی کامیابی اور 6 کا ‘بھاگوان’ عدد
Brian-Lara

ٹیسٹ کرکٹ میں ٹرپل سنچریاں بنانے والے بلے باز

نام ملک رنز منٹ گیندیں چوکے چھکے بمقابلہ میدان تاریخ
برائن لارا ویسٹ انڈیز 400* 778 582 43 4 انگلستان سینٹ جانز 2004ء اپریل
میتھیو ہیڈن آسٹریلیا 380 622 437 38 11 زمبابوے پرتھ 2003ء اکتوبر
برائن لارا ویسٹ انڈیز 375 766 538 45  0 انگلستان سینٹ جانز 1994ء اپریل
مہیلا جے وردھنے سری لنکا 374 752 572 43 1 جنوبی افریقہ کولمبو 2006ء جولائی
گیری سوبرز ویسٹ انڈیز 365* 614 - 38  0 پاکستان کنگسٹن 1958ء فروری
لین ہٹن انگلستان 364 797 847 35  0 آسٹریلیا اوول 1938ء اگست
سنتھ جے سوریا سری لنکا 340 799 578 36 2 بھارت کولمبو 1997ء اگست
حنیف محمد پاکستان 337 970 - 24  0 ویسٹ انڈیز برج ٹاؤن 1958ء جنوری
والی ہیمنڈ انگلستان 336* 318 - 34 10 نیوزی لینڈ آکلینڈ 1933ء مارچ
مارک ٹیلر آسٹریلیا 334* 720 564 32 1 پاکستان پشاور 1998ء اکتوبر
ڈان بریڈمین آسٹریلیا 334 383 448 46  0 انگلستان لیڈز 1930ء جولائی
گراہم گوچ انگلستان 333 628 485 43 3 بھارت لارڈز 1990ء جولائی
کرس گیل ویسٹ انڈیز 333 653 437 34 9 سری لنکا گال 2010ء نومبر
مائیکل کلارک آسٹریلیا 329* 609 468 39 1 بھارت سڈنی 2012ء جنوری
انضمام الحق پاکستان 329 579 436 38 9 نیوزی لینڈ لاہور 2002ء مئی
اینڈی سینڈہیم انگلستان 325 600 640 28  0 ویسٹ انڈیز کنگسٹن 1930ء اپریل
وریندر سہواگ بھارت 319 530 304 42 5 جنوبی افریقہ چنئی 2008ء مارچ
کمار سنگاکارا سری لنکا  319   551  482  32  8  بنگلہ دیش  چٹاگانگ  2014ء فروری
کرس گیل ویسٹ انڈیز 317 630 483 37 3 جنوبی افریقہ سینٹ جانز 2005ء اپریل
یونس خان پاکستان 313 760 568 27 4 سری لنکا کراچی 2009ء فروری
ہاشم آملا جنوبی افریقہ 311* 790 529 35  0 انگلستان اوول 2012ء جولائی
باب سمپسن آسٹریلیا 311 762 740 23 1 انگلستان مانچسٹر 1964ء جولائی
جان ایڈریخ انگلستان 310* 532 450 52 5 نیوزی لینڈ لیڈز 1965ء جولائی
وریندر سہواگ بھارت 309 531 375 39 6 پاکستان ملتان 2004ء مارچ
باب کاؤپر آسٹریلیا 307 727 589 20 انگلستان ملبورن 1966ء فروری
ڈان بریڈمین آسٹریلیا 304 430 473 43 2 انگلستان لیڈز 1934ء جولائی
اظہر علی پاکستان 302* 658 469 23 2 ویسٹ انڈیز دبئی 2016ء اکتوبر
لارنس رو ویسٹ انڈیز 302 612 430 36 1 انگلستان برج ٹاؤن 1974ء مارچ
برینڈن میک کولم نیوزی لینڈ 302 775 559 32 4 بھارت ویلنگٹن 2014ء فروری
یہ بھی پڑھیں:  میک کولم، ایک عہد جو تمام ہوا

Facebook Comments