’’اُستاد‘‘ کے ساتھ زیادتی کیوں؟؟

چند دن قبل قائد اعظم ٹرافی کے ایک میچ کے دوران میں نے معین خان کے بڑے بھائی اور بائیں ہاتھ کے اسپن بالر ندیم خان سے یہ سوال پوچھا کہ اقبال قاسم کے بعد پاکستان کی تاریخ کا سب سے عمدہ 'لیفٹ آرم' اسپنر کون ہے؟ تو سابق 'کھبے' اسپنر نے ایک لمحہ کی تاخیر کے بغیر جواب دیا، ذوالفقار بابر!

اپنی 38ویں سالگرہ کی جانب بڑھتے ہوئے ذوالفقار بابر پاکستان کے لیے 13 ٹیسٹ میچز میں 51 وکٹیں اپنے نام کرچکے ہیں اور یہ تعداد زیادہ بھی ہوسکتی تھی اگر ’’زلفی‘‘ کو اِن اور آؤٹ کا شکار نہ کیا جاتا۔ لیکن نامساعد حالات میں بھی ذوالفقار نے پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا، جسے دیکھ کر بائیں ہاتھ کے روایتی اسپنرز کی یاد تازہ ہوجاتی ہے جو کبھی ٹیسٹ کرکٹ کا حُسن ہوا کرتے تھے۔ ڈینیئل ویٹوری کی ریٹائرمنٹ کے بعد ذوالفقار بابر نے اس فن کو زندہ رکھا ہوا تھا کیونکہ ذوالفقار روایتی انداز میں فلائٹ اور اسپن کے ذریعے بیٹسمین کو اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کرتا ہے مگر ویسٹ انڈیز کے خلاف دبئی ٹیسٹ میں محمد نواز کو ڈیبیو کرتے دیکھ کر محسوس ہوا کہ اب پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کو بھی کھبے اسپنر کی ضرورت باقی نہیں رہی بلکہ ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے کی طرح ٹیسٹ میں بھی پارٹ ٹائم کھبے اسپنرز اور منی آل راؤنڈرز سے کام چلایا جائے گا۔ محمد نواز کی صلاحیتوں پر کوئی شک نہیں جو روشن مستقبل کا حامل نوجوان کھلاڑی ہے مگر حقیقی کھبے اسپنر کو ٹیسٹ کرکٹ سے دور کردینا بھی عقل مندی نہیں ہے۔

ذوالفقار بابر کے کیریئر پر نظر ڈالیں تو انہیں 35 سال کی عمر میں پہلا ٹیسٹ دیا گیا، وہ بھی آسٹریلیا کے خلاف لیکن انہوں نے دو ٹیسٹ کی سیریز میں دو مرتبہ پانچ، پانچ وکٹوں کا کارنامہ سر اناجم دیتے ہوئے 14 وکٹیں حاصل کیں اور پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ پھر نیوزی لینڈ کے خلاف دبئی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں چار، چار وکٹیں لیں اور پہلے دونوں ٹیسٹ مقابلوں میں 13 وکٹوں پر ہاتھ صاف کیا۔ سری لنکا کے خلاف بڑی کامیابی تو حاصل نہ کر سکے لیکن انگلستان کے خلاف ہوم سیریز میں 9 وکٹیں لے کر دوسرے اینڈ سے یاسر شاہ کو بھرپور مدد فراہم کی۔

یہ بھی پڑھیں:  سابق پلیئرزکا زبانی جمع خرچ یا جیب خرچ کا ذریعہ؟

یاسر شاہ کے سائے میں رہنے کی وجہ سے اکثر اوقات ذوالفقار کو باہر بھی ہونا پڑا او راس بات میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ ذوالفقار کو کپتان اور کوچ کی جانب سے وہ سپورٹ نہیں ملی جو یاسر شاہ کے حصے میں آئی۔ انگلستان کے دورے پر کہ جہاں وکٹیں اسپن بالنگ کے لیے سازگار تھیں، وہاں بھی ذوالفقار کو موقع نہیں دیا گیا جو محض انگلستان کی سیر کرکے واپس آ گئے۔ اب ’’گلابی ٹیسٹ‘‘ بھی ذوالفقار نے ڈریسنگ روم میں بیٹھ کر دیکھا ہے کیونکہ مصنوعی روشنیوں میں کھیلے جانے والے مقابلے میں تین فاسٹ بالرز کو کھلانا ضروری سمجھا گیا مگر سب سے زیادہ وکٹیں اسپنر کے حصے میں ہی آئی ہیں۔

اب محمد نواز کے ڈیبیو کے بعد یوں محسوس ہورہا ہے کہ ذوالفقار بابر کے میدان میں اترنے کے مواقع محدود ہوگئے ہیں کیونکہ آل راؤنڈر نواز کی بدولت پاکستانی ٹیم کو پانچواں بالر میسر آگیا ہے جس کی موجودگی میں یاسر شاہ اور تین فاسٹ بالرز کا کمبی نیشن نہایت سہولت سے بنایا جاسکتا ہے۔ ماضی میں اس صورتحال کاسامنا بائیں ہاتھ کے اسپنر عبدالرحمٰن کو بھی کرنا پڑا جنہیں اسی صورت میں کھلایا جاتا جب وکٹ دو اسپنرز کھلانے کے لیے سازگار ہوتی تھی ورنہ دوسری صورت میں پاکستانی ٹیم صرف سعید اجمل پر بھروسہ کرتی تھی جنہیں آل راؤنڈ محمد حفیظ کا ساتھ میسر آجاتا تھا۔ 99ٹیسٹ وکٹیں لینے والے بائیں ہاتھ کے اسپنر عبدالرحمٰن کے ساتھ سلوک کیا گیا، اسی زیادتی کا نشانہ ذوالفقار بابر بھی بن رہے ہیں جو درحقیقت ’’مانے‘‘ سے کہیں بہتر بالر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بڑے ناموں کو ’’بڑا پن‘‘ بھی دکھانا ہوگا!

ذوالفقار بابر نے طویل عرصے تک فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتے ہوئے صرف اور صرف محنت کے بل پر اُس عمر میں پاکستانی ٹیم تک رسائی حاصل کی جب اکثر کھلاڑی میدان چھوڑنے کا فیصلہ کرلیتے ہیں۔ اننگز میں 10 وکٹوں کے کارنامے کے ساتھ 88 فرسٹ کلاس میچز میں 421 وکٹیں ذوالفقار بابر کی انتھک محنت اور تسلسل کے ساتھ دکھائی گئی کارکردگی کا ثبوت ہیں جو 38 برس کی عمر میں بھی مکمل فٹ اور کارکردگی دکھانے کے لیے بے چین ہیں۔

ذوالفقار بابر جیسے کھلاڑی چاہے فیلڈ میں اپنی توجہ مبذول نہ کرواتے ہوں، ممکن ہے کہ ان کے مداحوں کی تعداد بھی کم ہو، وہ گلیمر سے بھی کوسوں دور ہوں مگر ٹیم میں ان کی موجودگی نہایت ضروری ہے کیونکہ یہ کھلاڑی ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے صرف میرٹ کی بنیاد پر اپنی جگہ بناتے ہیں۔ ممکن ہے ذوالفقار زیادہ لمبے عرصے تک پاکستان کی نمائندگی نہ کرسکیں لیکن ان میں جتنی کرکٹ باقی ہے اس کا پورا فائدہ ٹیسٹ میچز میں اُٹھانا چاہیے۔ بائیں ہاتھ کے اسپنرز کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا سلسلہ بھی اب بند ہوجانا چاہیے جس کا شکار اقبال قاسم، عبدالرقیب، ندیم خان، محمد حسین اور عبدالرحمٰن جیسے بالرز ہوئے۔ ایسا ’’استاد‘‘ کے ساتھ نہ کریں!!

Facebook Comments