اگر ویسٹ انڈیز جیت جاتا تو؟؟

ویسٹ انڈیز فتح سے صرف 83 رنز کے فاصلے پر تھا، اننگز کا 95 واں اوور جاری تھا کہ جس میں پاکستان نے اپنا دوسرا اور آخری ریویو بھی گنوایا، جو پاکستان کی وکٹ کے لیے بے چینی کو ظاہر کرنے کے لیے کافی تھا۔ ڈیرن براوو سنچری کے بعد ہر لمحے ویسٹ انڈیز کو کامیابی سے قریب کر رہے تھے کہ اوور کی آخری گیند آئی، کرکٹ کی زبان میں بلّے کے بالکل نیچے آنے والی اس گیند کو دیکھ کر وہ للچائے اور لمحوں کی خطا کا فائدہ یاسر شاہ نے اٹھا لیا۔ گیند براوو کے بلّے سے لگ کر یکدم گیند باز کے بائیں جانب سے نکلنے لگی جب یاسر نے فٹ بال کے ماہر گول کیپر کی طرح ہوا میں جست لگائی اور گیند کو دونوں ہاتھوں سے تھام کر براوو کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔ یہ میچ کا فیصلہ کن مرحلہ تھا کہ جس کے بعد ویسٹ انڈیز کو 56 رنز سے شکست ہوئی۔

لیکن تصور کیجیے کہ یہ مشکل کیچ یاسر شاہ نہیں پکڑ پاتے تو کیا ہوتا؟ سادہ سے الفاظ میں پاکستان ہار جاتا۔ ایک ایسی ہار جو پاکستان کے ساتھ ساتھ ریکارڈ بک کو ہلا کر رکھ دیتی۔

سب سے پہلی بجلی تو اظہر علی پر گرتی کہ جنہوں نے پاکستان کی پہلی اننگز میں ناٹ آؤٹ 302 رنز بنائے تھے۔ اگر پاکستان ہار جاتا تو تو یہ کسی بھی شکست خوردہ ٹیم کی تاریخ کی پہلی ٹرپل سنچری ہوتی۔ یعنی اظہر میاں بچ گئے۔ ویسے کسی بھی شکست میں سب سے بڑی اننگز کھیلنے کا "کارنامہ" آسٹریلیا کے رکی پونٹنگ کا ہے۔ 2003ء میں بھارت کے خلاف ایڈیلیڈ میں انہوں نے 242 رنز بنائے لیکن جواب میں راہول ڈریوڈ کی ڈبل سنچری اور دوسری اننگز میں اجیت آگرکر کی تباہ کن باؤلنگ کی وجہ سے آسٹریلیا لڑکھڑایا۔ یہاں تک کہ بھارت نے 4 وکٹوں سے تاریخی کامیابی حاصل کی۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارت میں فتح، پیٹرسن قضیہ اپنی موت آپ مر گیا
Azhar-Ali-Misbah-ul-Haq

دوسرا دھچکا پہنچتا پاکستان کو کہ جس نے پہلی اننگز میں صرف تین وکٹوں کے نقصان پر 579 رنز بنائے تھے۔ اگر پھر بھی میچ ہار جاتا تو یہ کسی بھی شکست خوردہ ٹیم کی دوسری سب سے بڑی اننگز بن جاتی۔ یہ بدنصیبی بھی آسٹریلیا ہی کے حصے میں آئی تھی جس نے 1894ء میں انگلینڈ کے خلاف 586 رنز بنائے لیکن اس کے باوجود شکست کھائی۔ ویسے یہ پہلا میچ تھا کہ جس میں کوئی ٹیم فالو-آن کا شکار ہونے کے باوجود میچ جیت گئی ہو۔ ایسا کرکٹ کی طویل تاریخ میں صرف تین بار ہی ہوا ہے۔

اگر ویسٹ انڈیز دبئی ٹیسٹ جیت جاتا، اور براوو کی وجہ سے جیتتا تو ایک اور ریکارڈ ٹوٹ جاتا۔ بیرون ملک کسی بھی میچ میں سب سے زیادہ گیندیں کھیلنے کا ویسٹ انڈین ریکارڈ۔ برائن لارا نے 2001ء میں سری لنکا کے خلاف کولمبو ٹیسٹ میں 569 گیندیں کھیلی تھیں۔ براوو 507 رنز تک تو پہنچ گئے تھے بس یاسر شاہ سے دھوکا کھا گئے۔

ویسٹ انڈیز کو پاکستان کے خلاف پہلی اننگز میں 222 رنز کا خسارہ ہوا تھا اور اگر وہ میچ جیت جاتا تو بلاشبہ ہی نیا عالمی ریکارڈ ہوتا۔ 1999ء میں ویسٹ انڈیز آسٹریلیا کے خلاف بارباڈوس میں 161 رنز کے خسارے کے ابوجود میچ جیت گیا تھا۔ آخری اننگز میں 308 رنز کے تعاقب میں ویسٹ انڈیز نے یہ میچ صرف ایک وکٹ سے جیتا تھا کہ جس میں آٹھویں اور نویں وکٹ نے 60 قیمتی رنز کا اضافہ کیا تھا۔ یہ کچھ پاکستان کے ساتھ بھی ہو سکتا تھا، بس شکر کریں کہ بال بال بچ گئے۔

یہ بھی پڑھیں:  [سالنامہ 2013ء] مزاحمت کا سال، پے در پے شکستیں اور پھر یادگار فتوحات
Mohammad-Amir2

Facebook Comments