شین واٹسن کو "بیماری" قرار دیا تھا، کلارک کا اعتراف

کرکٹ میں "ڈریسنگ روم" رازوں کا قبرستان ہوتا ہے اور ہر اہم کھلاڑی ان مزاروں کا مجاور۔ ان کے سینوں پر ایک بوجھ ہوتا ہے، جو تب اترتا ہے جب "ضمیر" جاگتا ہے۔ جیسے چند دن پہلے جاوید میانداد کا "ضمیر" جاگتے جاگتے رہ گیا، خیر یہ تو مذاق تھا۔ لیکن کیا آپ نے کبھی دیکھا کہ آسٹریلیا جیسی ٹیم میں ایسے ہی مسائل نے جنم لیا ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ جہاں بھی کرکٹ جیسا جذباتی کھیل ہو، وہاں ایسا ہوتا ہے چاہے ٹیم آسٹریلیا کی ہی کیوں نہ ہو۔ سابق کوچ مکی آرتھر کے ایک پرانے دعوے کے جواب میں سابق کپتان مائیکل کلارک نے ایک وضاحت پیش کی ہے کہ انہوں نے شین واٹسن کو "کینسر" قرار نہیں دیا تھا۔

مائیکل کلارک کا کہنا ہے کہ "میں نے ایسا نہیں کہا تھا بلکہ میرا کہنا تھا کہ چند کھلاڑی، بلکہ کھلاڑیوں کا ایک گروپ ایسا ہے جو بیماری ہے، اور اگر ہم نے اسے ٹھیک نہ کیا تو یہ کینسر میں بدل جائے گا۔" اس سوال پر کہ کیا شین واٹسن اس میں شامل تھے، تو کلارک نے جواب دیا، "جی ہاں!۔"

2009ء میں کلارک کا سائمن کیٹچ کے ساتھ جھگڑا تو سب کو معلوم ہی ہے کہ جس میں بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے اوپنر نے کلارک کا گریبان تک پکڑ لیا ہے۔

کلارک نے کہا کہ میرے خیال میں میں اچھا نائب کپتان نہیں تھا۔ جیسے ہی مجھے نائب کے عہدے پر فائز کیا گیا خود بخود یہ تاثر قائم ہونے لگا کہ میں اگلا کپتان ہوں گا۔ میرے خیال میں رکی پونٹنگ سمجھتے تھے کہ میں نے انہیں مایوس کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  ایشیز ہاتھ سے گئی لیکن کلارک کے لیے یادگار رخصتی
michael-clarke-shane-watson

Facebook Comments