پاکستان سپر لیگ اور قیادت کا بحران

پاکستان سپر لیگ کے دوسرے سیزن کے لیے سرگرمیوں کا باضابطہ آغاز کھلاڑیوں کے چناؤ سے ہو چکا ہے۔ پانچوں فرنچائزز نے گزشتہ تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے دستوں کا ازسر نو جائزہ تو لیا مگر چند چھوٹی تبدیلیوں کے علاوہ زیادہ تر گزشتہ کھلاڑیوں پر ہی اکتفا کرتے نظر آئے۔

پی ایس ایل حکام کے مطابق پہلے کی نسبت دوسرے سیزن میں یہ خوش آئند تبدیلی آئی ہے کہ پہلے سیزن میں بڑے کھلاڑیوں کی منت سماجت کی گئی بلکہ کچھ کو تو اضافی رقوم کی ترغیب بھی دینا پڑی جبکہ دوسرے سیزن میں نہ صرف کھلاڑیوں نے خود دلچسپی دکھائی بلکہ بہت پرجوش بھی نظر آئے۔ کیون پیٹرسن، کرس گیل، ڈیرن سیمی، ایون مورگن اور برینڈن میک کولم سمیت کئی غیرملکی کھلاڑیوں کی شمولیت پاکستانی لیگ کی قبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

مگر اس بار جو حرکت سب سے زیادہ مایوس کر رہی ہے، وہ چند ٹیموں کے متوقع کپتانوں کا پاکستانی نہ ہونا ہے۔ اب یہ احساس کمتری کی بدولت ہے یا غیر ملکیوں کی مہمان نوازی کی پاکستانی عادت، بہرحال، وجہ جو بھی ہو یہ امر کسی لحاظ سے لائق تحسین نہیں۔ اب تک جن غیر ملکیوں کو کپتان بنانے کی تصدیق ہوئی ہے ان میں پشاور زلمی کی قیادت ڈیرن سیمی کو ملے گی، لاہور قلندرز کے کپتان برینڈن میک کولم ہوں گے جبکہ کراچی کنگز کی رہنمائی روی بوپارا کے پاس ہوگی۔ یعنی صرف دو ٹیمیں باقی بچیں کہ جن کی باگ ڈور کسی پاکستانی کے ہاتھ میں ہے، گزشتہ سال کی فائنلسٹ اسلام آباد یونائیٹڈ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کہ جن کے قائد بالترتیب مصباح الحق اور سرفراز احمد ہوں گے۔

اب بین الاقوامی سطح پر لیگ کرکٹ کو دیکھیں، انڈین پریمیئر لیگ ہو یا آسٹریلیا کی بگ بیش، بلکہ بنگلہ دیش پریمیئر لیگ بھی دیکھ لیں تو زیادہ تر ٹیموں کی قیادت ملکی کھلاڑیوں ہی کو دی جاتی ہے۔ یوں اپنے ملک کے لیے مستقبل کی قیادت تیار کی جاتی ہے اور اس کا بڑا فائدہ ہوتا ہے۔ خود پی ایس ایل میں اس کی ایک مثال موجود ہے، سرفراز احمد، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی قیادت کے دوران ان کی مخفی صلاحیتیں کھل کر سامنے آئیں اور قوم نے انہيں نئے انداز میں دیکھا۔ اب وہ پاکستان کرکٹ کا مستقبل بن چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  [با‎ؤنسرز] کپتان بدلو …… نظام نہ بدلو!!
kevin-pietersen1

بلاشبہ پہلے سیزن میں پشاور زلمی پی ایس ایل کی سب سے مقبول ٹیم تھی جس کی بنیادی وجہ شاہد آفریدی کی پرکشش شخصیت تھی۔ مگر دوسرے سیزن میں 'لالا' نے خود قیادت عالمی چیمپیئن قائد ڈیرن سیمی کو سونپ دی جو وقتی فائدے کے لئے تو شاید بہتر ہوگا مگر پاکستان کرکٹ کو اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ زلمی کے پاس محمد حفیظ کے طور پر بہتر آپشن موجود تھا، گو کہ وہ قومی سطح پر آزمایا ہوا ہے لیکن پھر بھی سیمی کے بجائے وہی بہترین انتخاب تھے۔

لاہور قلندرز نے تو پہلے سیزن ہی میں اظہر علی کو قیادت سونپ کر غلطی کی تھی کیونکہ اظہر دوسرے مزاج اور انداز کا کھلاڑی ہے اور ٹی ٹوئنٹی طرز کی کرکٹ کے رموز سے اتنے واقف نہیں جتنے دیگر کھلاڑی تھے۔ یہی وجہ رہی کہ پہلے سیزن میں لاہور پست ترین مقام پر پہنچا۔ اس لیے قلندروں کے لیے تبدیلی تو ضرور ہونی چاہیے تھی لیکن برینڈن میک کولم کی جگہ عمر اکمل کو یہ مقام دیا جاتا تو بہتر تھا۔ میک کولم گرو کی حیثیت سے ان کی رہنمائی کرتے۔

پی ایس ایل کی سب سے مہنگی ٹیم کراچی کنگز پہلے سیزن میں قیادت کے بحران سے دوچار رہی حالانکہ شعیب ملک تجربہ کار کپتان ہیں اور اپنی زیر قیادت سیالکوٹ اسٹالیئنز کو کئی بار قومی ٹی ٹوئنٹی چیمپیئن بنا چکے ہیں۔ مگر پی ایس ایل میں وہ مطلوبہ کامیابیاں نہ دلا سکے۔ غالباً پہلے ہی سیزن میں ٹیم اندرونی اختلافات کا شکار ہوئی اور قیادت روی بوپارا کے ہاتھوں میں چلی گئی، جن کی ذاتی کارکردگی تو باکمال رہی لیکن ٹیم کو کامیابی کی راہ پر نہیں ڈال سکی۔ اس مرتبہ کمار سنگاکارا کی صورت میں شاید کراچی کنگز کا یہ مسئلہ حل ہو جائے یا پھر روی بوپارا ہی کو آزمایا جائے۔ بہرحال، بہترین آپشن شعیب ملک کا ہی ہے اگر انہیں صحیح طریقے سے ڈیل کیا جائے تو۔

یہ بھی پڑھیں:  آفریدی اور عمر اکمل پر جرمانے، مصباح اور احمد شہزاد کے لیے بونس

ویسے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی طرف سے جس طرح بار بار وضاحتیں آ رہی ہیں کہ کپتان سرفراز احمد ہی ہوں گے، ایسا لگتا ہے کہ یہ صدا بلند ہو رہی ہے کہ قیادت زیادہ تجربہ کار کیون پیٹرسن کو سونپی جائے۔ ایسا ہونے کے امکانات تو کم ہیں لیکن اگر ہوا تو سرفراز احمد کی اس سے بڑھ کر کوئی اور حوصلہ شکنی نہیں ہوگی۔

چیمپیئن اسلام آباد یونائیٹڈ کا اپنے کپتان اور ٹیم پر اعتماد بھرپور ہے۔ مصباح جیسے قائد کی تبدیلی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بلکہ انہوں نے تو ٹیم میں بھی زیادہ تبدیلی نہیں کی جو حوصلہ افزا بات ہے۔

اب تک پاکستان سپر لیگ کا یہی ایک بڑا منفی پہلو سامنے آیا ہے جس کی توجیہ میں کچھ سابق کھلاڑیوں نے بھی دی ہے کہ ابھی پی ایس ایل کا ابتدائی دور ہے اور اسے اپنا مقام بنانے اور ملک کے اندر انعقاد کروانے تک ایسے سمجھوتے کرنے پڑیں گے، مگر جب یہ مضبوط قدموں سے کھڑی ہو جائے گی اور میچز پاکستان کے میدانوں میں کھیلے جائیں گے تو تب زیادہ سے زیادہ اپنا مفاد سامنے رکھ کر موجودہ حکمت عملی میں تبدیلی لائی جا سکے گی۔

Ali-Naqvi-Misbah-ul-Haq

Facebook Comments