جب منزل صرف دو قدم دور تھی

یہ بات تو یقینی تھی کہ چٹاگانگ میں سوموار کی صبح یادگار ہوگی، چاہے مقابلہ انگلستان جیتے یا بنگلہ دیش۔ لیکن اگر بنگلہ دیش جیتتا تو زیادہ تاریخی موقع ہوتا کیونکہ 'بابائے کرکٹ' انگلستان کے خلاف بنگال کے شیروں نے کبھی کوئی ٹیسٹ نہیں جیتا اور یہ بنگلہ دیش کے ہاتھ آنے والا سب سے آسان موقع تھا جو بہرحال، اس نے گنوا دیا ہے۔

صرف 22 رنز سے مقابلہ جیتنا انگلستان کے لیے بھی ایک یادگار لمحہ تھا کیونکہ اس سے پہلے تاریخ میں صرف 7 ایسے مواقع آئے ہیں کہ انگلستان نے اس کے کم رنز کے فرق سے کوئی ٹیسٹ جیتا ہو۔ ایشیز 2005ء کا ایجبیسٹن، برمنگھم میں کھیلا گیا ٹیسٹ کون بھلا سکتا ہے؟ جہاں انگلستان نے روایتی حریف آسٹریلیا کو صرف 2 رنز سے شکست دی تھی۔ اسے انگلش تاریخ کی یادگار ترین فتح قرار دیا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ لیکن انگلستان اس کے علاوہ بھی متعدد مواقع پر بہت کم فرق سے مقابلے جیت چکا ہے۔ جیسا کہ 1982ء میں آسٹریلیا کے خلاف ملبورن کے روایتی باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 3 رنز سے کامیابی۔ ویسے دلچسپ بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش کے خلاف اس کامیابی کے علاوہ انگلستان نے جتنی بھی کم مارجن سے فتوحات حاصل کی ہیں، سب آسٹریلیا کے خلاف ہیں۔ یوں آسٹریلیا کے علاوہ کسی اور ٹیم کے خلاف یہ انگلستان کی سب سے کم فرق سے حاصل کردہ کامیابی بن گئی ہے۔ انگلستان نے اگست 1998ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف ہیڈنگلے ٹیسٹ میں 23 رنز سے فتح حاصل کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  ایشین چیمپئن کون؟ فیصلہ آج ہوگا!

اگر ہم ٹیسٹ تاریخ میں سب سے کم رنز سے حاصل کردہ کامیابی کو دیکھیں تو یہ اعزاز ویسٹ انڈیز کو حاصل ہے۔ جنوری 1993ء میں آسٹریلیا کے خلاف ایڈیلیڈ کے مقام پر ویسٹ انڈیز نے صرف 1 رن سے کامیابی حاصل کی تھی۔ یوں یہ کرکٹ تاریخ کے سنسنی خیز ترین مقابلوں میں سے ایک بنا کہ جہاں کورٹنی واش ویسٹ انڈیز کے لیے ہیرو ثابت ہوئے تھے۔

پاکستان نے سب سے کم رنز سے کامیابی روایتی حریف بھارت کے خلاف جنوری 1999ء میں حاصل کی تھی۔ جی ہاں! وہی مقابلہ کہ جس میں سچن تنڈولکر کی سنچری رائیگاں گئی تھیں اور ثقلین مشتاق نے آخری وار کرکے پاکستان کو صرف 12 رنز سے تاریخی فتح دلائی تھی۔

خیر، چٹاگانگ کے بعد اب بنگلہ دیش کے پاس سیریز برابر کرنے کا آخری موقع ہے۔ وہ 28 اکتوبر سے ڈھاکا میں ہونے والا دوسرا و آخری ٹیسٹ جیت کر ایسا کر سکتا ہے، لیکن پہلے مقابلے کی دل شکستہ ہار کے بعد اب اس کی واپسی مشکل نظر آتی ہے۔

root-sabbir

سب سے کم مارجن سے حاصل کردہ ٹیسٹ فتوحات

فاتح مارجن بمقابلہ بمقام بتاریخ
ویسٹ انڈیز 1 رن آسٹریلیا ایڈیلیڈ جنوری 1993ء
انگلستان 2 رنز آسٹریلیا برمنگھم اگست 2005ء
آسٹریلیا 3 رنز انگلستان مانچسٹر جولائی 1902ء
انگلستان 3 رنز آسٹریلیا ملبورن دسمبر 1982ء
جنوبی افریقہ 5 رنز آسٹریلیا سڈنی جنوری 1994ء
آسٹریلیا 6 رنز انگلستان سڈنی فروری 1885ء
آسٹریلیا 7 رنز انگلستان اوول اگست 1882ء
جنوبی افریقہ 7 رنز سری لنکا کانڈی جولائی 2000ء
نیوزی لینڈ 7 رنز آسٹریلیا ہوبارٹ دسمبر 2011ء
انگلستان 10 رنز آسٹریلیا سڈنی دسمبر 1894ء

Facebook Comments