یاسر شاہ، امارات میں جیت کا ’’فارمولا‘‘!

ایک زمانہ تھا، کراچی کا نیشنل اسٹیڈیم پاکستان کا قلعہ ہوا کرتا تھا۔ جہاں ایک عرصے تک ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان ناقابل تسخیر رہا اور یہ خوش بختی 2001ء تک برقرار رہی۔ اب کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں صرف ڈومیسٹک میچز کا انعقاد ہوتا ہے اور متحدہ عرب امارات پاکستان کا ’’نیا گھر‘‘ بن چکا ہے جہاں ویسٹ انڈیز کے خلاف کامیابی حاصل کرتے ہوئے پاکستان ابوظہبی میں اپنا ناقابل شکست ریکارڈ برقرار رکھا ہے۔

’’گلابی گیند‘‘ اور’’کالی آندھی‘‘ نے دبئی میں پاکستان کو کافی تنگ کیا تھا مگر ابوظہبی میں گرین شرٹس نے خامیوں پر قابو پاتے ہوئے باآسانی ویسٹ انڈیز کو ٹھکانے لگایا۔ اس فتح کے مرکزی کردار حسب روایت یاسر شاہ ہی تھے جو سال میں دوسری مرتبہ میچ میں 10 وکٹوں کے منفرد اعزاز کے مالک بنے۔ عین ممکن ہے کہ 2016ء کا خاتمہ ہونے سے قبل یاسر شاہ تیسری مرتبہ یہ کارنامہ انجام دے ڈالیں۔

پہلے ٹیسٹ میچ میں کامیابی حاصل کرنے کے باوجود پاکستانی ٹیم نے دوسرے ٹیسٹ میں تین تبدیلیاں کیں جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ٹیم انتظامیہ بھی فوری طور پر غلطیوں سے سبق سیکھ رہی ہے۔ یونس خان کی واپسی طے شدہ تھی مگر محمد عامر اور وہاب ریاض کو ’’آرام‘‘ کروانا معنی خیز تھا جو دبئی میں ’’گلابو‘‘ کے ساتھ کمال دکھانے میں ناکام رہے جبکہ محمد عامر کی پابندی کے دنوں میں امارات کی وکٹوں پر اچھی کارکردگی دکھانے والے راحت علی اور تجربہ کار ذوالفقار بابر کی واپسی نہایت کارآمد ثابت ہوئی جنہوں نے دوسرے اینڈ سے یاسر شاہ کو بھرپور سپورٹ کیا۔ ویسٹ انڈیز کی پہلی اننگز میں راحت علی اور سہیل خان نے پانچ وکٹیں آپس میں بانٹیں جو مہمان ٹیم کو 224 پر ڈھیر کرنے کی وجہ ثابت ہوئیں جبکہ ذوالفقار بابر نے 21اوورز میں صرف 39 رنز دے کر بیٹسمینوں کو باندھ کر رکھ دیا جس کا فائدہ دوسرے بالرز نے اُٹھایا۔

یہ بھی پڑھیں:  حفیظ کی واپسی۔۔۔تلوار کس پر گرے گی؟؟

دوسری اننگز میں وکٹ کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے یاسر شاہ ویسٹ انڈیز کے بیٹسمینوں پر چڑھ دوڑے اور دونوں "کھبے" اسپنرز نے تین وکٹیں لیتے ہوئے روایتی انداز میں پاکستان کی جیت کا اعلان کیا۔

اگر بیٹنگ کی بات کی جائے تو دبئی ٹیسٹ میں جس طرح دوسری اننگز میں گرین شرٹس کی بیٹنگ ڈانواڈول ہوئی تھی، وہ یونس خان کی واپسی کے بعد سنبھل گئی۔ بیماری سے نجات کا جشن یونس خان نے پہلی اننگز میں 127رنز بنا کر منایا اور یونس کی وکٹ پر موجودگی سے دوسرے بیٹسمینوں نے استفادہ کیا۔ 35ویں سالگرہ کے بعد یہ یونس خان کی 13ویں سنچری ہے جبکہ کوئی دوسرا بیٹسمین اب تک 12 سے زائد سنچریاں اسکور نہیں کرسکا۔

ابوظہبی میں پاکستان نے یہ کامیابی روایتی انداز میں حاصل کی جس میں تجربہ کار بیٹسمینوں نے یونس خان اور مصباح الحق نے پہلی باری میں بڑی اننگز کھیلتے ہوئے قومی ٹیم کو ایک بڑا مجموعہ دلوایا اور پھر یاسر شاہ کی دس وکٹوں کے ساتھ دیگر بالرز کی سپورٹ نے جیت کو آسان بنا دیا۔ امارات میں جیت کا یہی فارمولا ہے جس پر چلتے ہوئے پاکستان یہاں فتوحات حاصل کررہا ہے اور ابوظہبی میں پانچویں کامیابی کے ساتھ پاکستانی ٹیم یہاں 9 میچز میں ناقابل شکست ہے۔ اس جیت کے بعد اس بات کا امکان اور بڑھ گیا ہے کہ پاکستانی ٹیم اس سیریز میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کلین سویپ کردے گی۔

انگلینڈ کے دور ے سے قبل پاکستان پر یہی الزام لگایا جاتا تھا کہ یہ ٹیم صرف عرب امارات میں ہی کامیابی حاصل کرسکتی ہے مگر انگلینڈ میں سیریز برابر کرنے کے بعد یہ تاثر ختم ہوگیا ہے اور اسی بنیاد پر یہ امید کی جارہی ہے کہ اس مرتبہ پاکستانی ٹیم آسٹریلیا میں شکستوں کا تسلسل توڑ نے میں کامیاب ہوجائے گی مگر اس کے لیے پاکستان کی "پیس بیٹری" کو بھی زیادہ موثر ہونے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  "گھر کے شیروں" کا خاتمہ کیسے؟

گزشتہ دو برسوں میں پاکستان کی فتوحات کا مرکزی کردار یاسر شاہ ہی رہے ہیں اور ابوظہبی کی یہ ’’فارمولا‘‘ فتح بھی شاہ صاحب کے ہی نام رہی لیکن امارات سے باہر فاسٹ بالرز کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے جو وہ پوری طرح نبھانے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ جب بھی یاسر شاہ ناکام ہوتے ہیں، پاکستان کی بالنگ لائن بھی بے بس ہوجاتی ہے اور محض ایک فتح گر بالر پر بھروسہ کرنے کا فارمولا آسٹریلیا میں ’’بیک فائر‘‘ بھی کرسکتا ہے۔ فاسٹ بالنگ کے شعبے میں محمد عامر اور وہاب ریاض ابھی تک غیر معمولی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں جبکہ سہیل خان تسلسل کے ساتھ اچھی کارکردگی نہیں دکھا رہے۔ راحت علی اور عمران خان سینئر گزشتہ برس امارات میں اچھی کارکردگی دکھانے کے باوجود ٹیسٹ کا مستقل حصہ نہیں ہیں۔

یاسر شاہ کی مدد سے کامیابی حاصل کرنے کا فارمولا اپنی جگہ ہے جو 18 ٹیسٹ میں سب سے زیادہ 112وکٹوں کا عالمی ریکارڈ برابر کرچکے ہیں، مگر پاکستانی ٹیم کو ایک ایسا فتح گر فاسٹ بالر بھی درکار ہے جو یاسر شاہ کی ناکامی کی صورت میں بالنگ لائن کا بوجھ اپنے کندھوں پر اُٹھا سکے۔ اگر گرین شرٹس کے پاس ایسا کوئی بالر ہوتا تو شاید اولڈ ٹریفرڈ میں پاکستان کو شکست نہ ہوتی، جہاں266 رنز کا جرمانہ دے کر یاسر شاہ نے صرف ایک وکٹ کا سودا کیا تھا۔

Facebook Comments