بین اسٹوکس کے گن گائے جانے لگے

پاکستانیوں کو تو بین اسٹوکس کی صلاحیتوں کا اندازہ اسی وقت ہوگیا تھا جب پاکستان انگلستان کے دورے پر تھا۔ لیکن اسٹوکس تنہا میچ کا پانسہ کیسے پلٹ سکتے ہیں، اس کا اندازہ اب سب کوہوگیا ہے۔ اب ایک دنیا اسٹوکس کی صلاحیتوں کی معترف ہو چکی ہے۔ خاص طور پر انگلینڈ کے کوچ ٹریور بیلس تو ان کے خوب گن گا رہے ہیں۔

بیلس کہتے ہیں کہ بین کو دیکھ کر لگتا ہے کرائسٹ چرچ میں پیدا ہونے والے ہر کھلاڑی میں آل راؤنڈر بننے کی بھرپور صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ بین اسٹوکس کی ٹیم میں موجودگی بلےبازی کے ساتھ گیندبازی کے شعبے کو بھی تقویت بخش رہی ہے، اور ہمیں ایک اضافی اسپنر کھلانے میں مدد مل جاتی ہے۔ یاد رہے کہ چٹاگانگ میں بین کے 103 رنز اور 6 وکٹوں نے میزبان بنگلہ دیش کی جیتنے کی خواہش پر پانی پھیر دیا تھا۔

یہ جیت انگلش دستے کے لیے اس لیے بھی اہم تھی کہ برصغیر کے میدان ان کے لیے اکثر و بیشتر بھیانک خواب ہی ثابت ہوتے رہے ہیں اور 'بنگال کے شیر' بھی ہوم گراؤنڈ پر کسی کو آسانی سے جیتنے نہیں دیتے۔

ٹریور بیلس نے اعتراف کیا ہے کہ انگلش دستے میں معین علی، کرس ووکس، اسٹورٹ براڈ اور عادل رشید بھی ایسے کھلاڑی ہیں جو بلے بازی اور گیند بازی دونوں میں کمالات دکھا سکتے ہیں مگر بین اسٹوکس کا ثانی نہیں، وہ بہترین اور حقیقی آل راؤنڈر ہیں۔

26 ٹیسٹ میچز میں 34 کے اوسط سے بلے بازی اور 34.86 کے ایوریج سے گیندبازی بین کی صلاحیت کی حقیقی عکاس نہیں۔ بین اسٹوکس میں میچ کا رخ بدلنے کی باکمال صلاحیت ہے اور ویسے بھی ابھی ان کا کیریئر ابتدائی مرحلے میں ہے اور طویل سفر ابھی باقی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مستفیض چھ ماہ کے لیے کرکٹ سے باہر

پھر وقت کے ساتھ ساتھ ان کی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ پہلے وہ اسپن گیند پر موثر دفاع نہیں کر سکتے تھے اور نہ ان کا فٹ ورک گیند کے مطابق ہوتا تھا مگر اب گیند کو سمجھنے کی صلاحیت میں پہلے سے بہتری آئی ہے۔ بس ضرورت یہ ہے کہ دستے میں ان کی مستقل موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔

Ben-Stokes

Facebook Comments