یاسر شاہ: پاکستان کا شین وارن؟

ایک ڈیڑھ دہائی پہلے تک پاکستان دنیائے کرکٹ میں اعلیٰ ترین تیز باؤلرز کی وجہ سے جانا جاتا تھا۔ وسیم اکرم، وقار یونس، شعیب اختر اور پھر محمد آصف، وہاب ریاض اور محمد عامر۔ لیکن گزشتہ چند سالوں سے یہ رجحان بدلتا ہوا نظر آرہا ہے۔ شاید یہ حالات کا تقاضہ تھا کیونکہ پاکستان اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے نتیجے میں اپنے دو مرکزی باؤلرز محمد آصف اور محمد عامر سے محروم ہوگیا تھا۔ اس کے بعد ایسے اسپن گیندباز سامنے آنے لگے جو ہر قسم کے حالات میں عمدہ کارکردگی دکھانے اور میچ کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہی میں سے ایک یاسر شاہ بھی ہیں کہ جنہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف گزشتہ ٹیسٹ میں میچ میں دس وکٹیں لینے کا اعزاز حاصل کرکے پاکستانی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ ابوظہبی میں یاسر نے پہلی اننگز میں چار اور دوسری میں چھ وکٹیں حاصل کیں۔ یہ رواں چوتھا موقع تھا جب انھوں نے کسی ایک اننگز میں پانچ یا زائد وکٹیں لی ہوں۔یاسر کئی مواقع پر خود کو عالمی معیار کا اسپنر ثابت کرچکے ہیں۔ صرف 17 مقابلوں میں اپنی 100 وکٹیں مکمل کرنا بھی ان کا ایک کارنامہ ہے۔ تو کیا یاسر شاہ کی صورت میں پاکستان کو شین وارن مل گیا ہے؟

گزشتہ سال انگلستان کے خلاف تیسرے ٹیسٹ سے قبل آسٹریلیا کے اس لیجنڈ اسپنر شین وارن نے یاسر شاہ سے ملاقات کی، اور ان کی صلاحیتوں سے بہت متاثر ہوئے۔ وارن کا کہنا تھا کہ ’’میں نے جب سے یاسر شاہ کو دیکھا ہے، میں ان کا مداح ہوں۔ جس طرح وہ گیند کرتے ہیں، میرے خیال میں وہ دنیا کے بہترین لیگ اسپنر ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:  انضی کی ’’کمیٹی ‘‘روایتی نکلی!!

شین وارن نے اپنی 708 ٹیسٹ وکٹوں میں سے 319 وکٹیں اپنے ملک کی تیز پچوں پر حاصل کی تھیں۔ جبکہ سری لنکا مرلی دھرن نے اپنی 800 ٹیسٹ وکٹوں میں سے 307 شکار غیر ملکی میدانوں پر کیے تھے۔ کسی بھی قسم کے حالات میں وکٹیں لینے کی صلاحیت یاسر کو عصرِ حاضر کے دیگر اسپنرز سے ممتاز کرتی ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ میں دیر سے موقع ملنے کے باوجود یاسر کی کارکردگی پر شین وارن اور وسیم اکرم، دونوں کہہ چکے ہیں کہ یاسر کئی ریکارڈز توڑیں گے۔

موجودہ دور میں یاسر کا تقابل عموماً بھارتی اسپنر روی چندر آشون سے کیا جاتا ہے، لیکن اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ آشون کی کامیابی کا راز اُن کے ہوم گراؤنڈز میں پوشیدہ ہے۔ غیر ملکی حالات میں وہ خود کو ویسے ہی موثر ثابت نہیں کر سکے، جیسی بھارت کی کارکردگی ہے۔

یاسر نے ابھی صرف 18 مقابلے کھیلے ہیں جبکہ وارن کا ٹیسٹ کیریئر 145 میچوں پر مشتمل تھا۔ کیا یاسر شاہ اپنی کامیابیوں کا یہ سلسلہ یونہی قائم رکھ سکیں گے، اور کیا وہ اتنا عرصہ کھیل بھی پائیں گے، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ لیکن آشون کے خلاف جاری 'نمبر ایک' کی دوڑ کا فیصلہ آئندہ نیوزی لینڈ و آسٹریلیا میں ہوگا۔ اگر یاسر وہاں کامیاب ہوئے تو گویا ان کے بہترین اسپنر ہونے پر مہر تصدیق ثبت ہو جائے گی۔

Yasir-Shah-Shane-Warne

Facebook Comments