کرکٹ کے ناقابل بیان لمحات

جب برا وقت چل رہا ہو تو چاہے اونٹ پر بیٹھے ہوں، کتا کاٹ لیتا ہے۔ ایسی انہونی کو قسمت و حالات کی ستم ظریفی کہہ کر نظر انداز کر سکتے ہیں لیکن شرمندگی کا احساس عرصے تک چمٹا رہتا ہے۔ ایسے واقعات سے زندگی کا کوئی شعبہ محفوظ نہیں، اب کرکٹ کو ہی لے لیجیے کہ جہاں کبھی کبھی ایسا تماشہ دیکھنے کو مل جاتا ہے کہ انسان سر پکڑ کر بیٹھ جائے کہ ایک پروفیشنل کھیل میں ایسا بھی ممکن ہے؟

Inzamam-Hit-Wicket

وہ واقعہ کسے یاد نہ ہوگا کہ جسے یاد کرکے آج بھی ہنسی نہیں رکتی، جب اپنے انضمام الحق سویپ شاٹ کھیلتے ہوئے ایسا گھومے کہ بھاری بھرکم جسم کے ساتھ انہی وکٹوں پر جا گرے جنہیں بچانے کے لئے پورا پورا دن دیوار بنے کھڑے رہتے تھے۔ وکٹوں پر گرنے کی شرمندگی تو ایک طرف بڑا نقصان پاکستان کو ان کی وکٹ کی کی صورت میں برداشت کرنا پڑا۔ اسے کرکٹ کی زبان میں "ہٹ وکٹ" کہتے ہیں، یعنی گیند کا سامنا کرتے ہوئے بلے باز کسی بھی وجہ سے بیلز گرا بیٹھے، اس صورت میں اسے آؤٹ تصور کیا جائے گا۔ یہ حریف کھلاڑی کا کام کم اور اپنی کوتاہی زیادہ ہوتا ہے۔

اسی طرح فیلڈر بھی اپنے لیے شرمندگی کا سامان خود پیدا کرتے ہیں، جب کسی بلے باز کا زور دار شاٹ ہوا کو چیرتا ہوا اس کی طرف آتا ہو، تماشائی منہ کھولے کیچ کا یقین کیے بیٹھے ہوں اور ٹیم خوشی کے بھنگڑے ڈالنے کے لیے بے تاب ہو، مگر گیند فیلڈر صاحب کے ہاتھوں میں نہ آ سکے، یا منظر کچھ یوں ہو کہ کیچ لینے کے لئے ہاتھ ہوا میں بلند ہوں مگر گیند سر کے اوپر سے شوں کر کے گزر جائے۔ ان صورتوں میں فیلڈر بے شک سارا قصور سورج یا مصنوعی روشنیوں کے سر ڈال دے پر لیکن اندر ہونے والی شرمندگی، تماشائیوں سے ملنے والے خطابات اور سب سے بڑھ کر اس کوتاہی کے میچ پر پڑنے والے اثرات کو سوچ کر پریشان ضرور ہوتا ہے۔ اگر مس فیلڈنگ ہو، اور باؤنڈری لائن پر ہو تو اس غلطی کا خمیازہ حریف کو دستے مفت کے چار یا چھ رنز کی شکل میں مل سکتا ہے۔ فیلڈر شرمندگی میں گرفتار ہو اور گیند باؤنڈری کی جانب رواں دواں۔

یہ بھی پڑھیں:  ماہِ اکتوبر کا بہترین باؤلر کون؟

ایک بڑی شرمندگی بلکہ "بلنڈر" تب ہوتا ہے جب ایک بلے باز کی غلطی کی سزا دوسرے جوڑی دار کو ملے۔ یعنی رن آؤٹ ہو جائے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے اپنے فوجی کو خود مار کر دشمن کو تحفتاً پیش کر دینا یعنی فوجی زبان میں "فرینڈلی فائر"۔ اس کا بنیادی سبب غلط کال ہے، یعنی سادہ الفاظ میں اپنے جوڑی دار کو رنز کے لئے پکارتے وقت گیند کے فاصلے اور فیلڈر کی پہنچ کا غلط اندازہ لگانا ۔ کبھی یوں بھی ہوتا ہے رنز کے لئے تمام حالات موافق ہوتے ہیں مگر دونوں بلے بازوں کی نظریں ایک دوسرے پر نہیں ہوتیں نتیجہ زور دار باہمی ٹکر کی صورت میں نکلتا ہے۔ ایسے میں ایک بلے باز کا آؤٹ ہونا تو یقینی ہے۔ اس لیے شرمندگی سے بچنے کے لیے بہتر یہی ہوتا ہے کہ کمزور بلے باز اپنی وکٹ کی قربانی دے کر مضبوط بلے باز کو بچا لے۔

شرمندگی کے ایسے لمحات سے گیند باز بھی محفوظ نہیں۔ اندازہ کریں کہ جب میچ سنسی خیز لمحات میں جا پہنچے اور ایک ایک رنز اتنا قیمتی ہو کہ فتح و شکست کو قریب تر کر دے تو ایسے میں گیند باز اتنی لمبی وائیڈ کروا دے کہ وکٹ کیپر بھی پکڑنے میں ناکام رہے یا باؤنسر کی خواہش میں گیند اتنی اونچائی سے گزار دے کہ بلے باز تو ایک طرف گیند وکٹ کیپر کے بھی سر کے اوپر سے گزرتے ہوئے باؤنڈری پار کر جائے، تو اس لمحے کی ذاتی شرمندگی شکست سے بڑا روگ بن جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  [باؤنسرز] مصباح ‪…‬ اب بس کردو!

ایک تکلیف دہ شرمندگی تب ہوتی ہے جب بلے باز گیند کی رفتار اور اونچائی کا ٹھیک اندازہ نہ کر سکے اور زور سے بلّا گھما دے مگر گیند بلے کے قریب سے ہوئی سیدھا "نازک مقام" پر جا لگے۔ گارڈ کے استعمال کے باوجود اس درد کا اندازہ کوئی اور نہیں لگا سکتا، سوائے اس کے جو خود اس تکلیف سے گزرا ہو۔ ایسی صورت حال دوسروں کے لیے مضحکہ خیز اور "شکار" کے لیے ناقابل بیان ہوتی ہے۔

Facebook Comments