کرکٹ چھوڑنے کے بعد خودکشی کی کوشش کی، بریڈ ہوگ

گزشتہ چند ہفتوں میں کھلاڑیوں کی آپ بیتیوں نے سرخیوں میں جگہ پائی ہے۔ کئی کھلاڑیوں نے اپنی زندگی سے پردے اٹھائے ہیں جن میں نیا نام آسٹریلیا کے بریڈ ہوگ کا ہے۔ سابق آسٹریلوی کھلاڑی نے اپنی کتاب میں یہ حیران کن دعویٰ کیا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے خودکشی کا ارادہ کیا تھا۔

بائیں ہاتھ سے اسپن باؤلنگ کروانے والے اسپنر نے اتوار کو اپنی آپ بیتی 'رونگ ون' (The Wrong’Un) جاری کی ہے، جس میں انہوں نے ذہنی تناؤ کے ساتھ اپنی جنگ اور شراب نوشی کی لت میں مبتلا ہوجانے کے بارے میں لکھا ہے۔ اس دوران انہوں نے اس خطرناک لمحے کا بھی ذکر کیا ہے جب انہوں نے خودکشی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

انہوں نے لکھا کہ"میں نے پورٹ بیچ پر اپنی گاڑی روکی اور چہل قدمی کے لیے نکل گیا۔ میں سمندر کو گھورتا رہا اور سوچتا رہا کہ کیا میں دوسری سمت پر واقع اس سمندری پشتے تک پہنچ سکتا ہوں، اور اگر ایسا ہوگیا تو ٹھیک ورنہ قسمت۔"

ہوگ لکھتے ہیں کہ وہ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں تھے کیونکہ اس وقت کوئی ان کے ساتھ نہیں تھا۔ تب انہوں نے سب کچھ قسمت پر چھوڑ دیا۔ "میں تیار تھا جو قسمت فیصلہ کرے۔ یہ بہت ہی سخت مرحلہ تھا۔" وہ بتاتے ہیں کہ خودکشی کی کوشش کے لیے وہ چار مرتبہ فریمینٹل شہر گئے اور ہر مرتبہ کوئی سخت قدم اٹھانے کی کوشش کی۔

بائیں ہاتھ سے اسپن باؤلنگ کرنے والے بریڈ ہوگ نے 2008ء میں قومی ٹیم سے ریٹائرمنٹ لی تاکہ وہ اپنی شادی کو بچا سکیں جو باہمی سرد مہری کا شکار تھی۔ انہوں نے یہ تک بتایا کہ جنوری 2008ء میں ایڈیلیڈ کے مقام پر کھیلے گئے بھارت کے خلاف اپنے آخری ٹیسٹ میں وہ فیلڈنگ کے دوران رو رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  آسٹریلیا کے حیران کن فیصلے، جارج بیلے ٹی ٹوئنٹی کپتان، 41 سالہ بریڈ ہوگ کی واپسی

ہوگ کا کہنا ہے کہ اس کے بعد انہوں نے ایک سال تک کرکٹ نہیں دیکھی اور شراب نوشی اختیار کرلی۔ ہوگ 2011ء میں پہلی بگ بیش لیگ کے ذریعے کرکٹ میں واپس آئے جب ان کی عمر 40 سال تھی اور وہ تین ماہ بعد آسٹریلیا کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں منتخب ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے پرتھ اسکارچرز کے لیے پانچ سیزن کھیلے۔ اب 45 سال کی عمر میں وہ رواں سال بگ بیش میں ملبورن رینیگیڈز سے کھیلیں گے۔

Brad-Hogg

Facebook Comments