کہانی "ورلڈ الیونز" کی

ہم سال بھر سے ایک رحجان کو پنپتے ہوئے دیکھ رہے، ہر کچھ عرصے بعد کوئی عظیم سابق کھلاڑی اپنی 'ورلڈ الیون' دنیا کے سامنے لے کر آتا ہے۔ آسٹریلیا کے شین وارن سے لے کر پاکستان کے وقار یونس، بھارت کے سچن تنڈولکر سے لے کر ویسٹ انڈیز کے برائن لارا تک، تقریباً سبھی نے کچھ نہ کچھ طبع آزمائی کی ہے اور اپنی دانست میں تاریخ کے، یا اپنے زمانے کے، بہترین کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیموں کا اعلان کیا ہے۔ یہ کوئی نیا یا اچھوتا خیال نہیں ہے، بین الاقوامی کرکٹ کونسل کا "ہال آف فیم" اور ماضی میں انٹرنیشنل مقابلے کھیلنے والی ورلڈ الیون بھی ایسے ہی خیالات تھے۔ "ہال آف فیم" کیونکہ گیارہ کھلاڑیوں پر مشتمل نہیں اس لیے ہمارے خیال میں وزڈن کی "آل ٹائم ورلڈ الیون" کو بہت خاص اہمیت حاصل ہے۔

وزڈن کو "کرکٹ کی بائبل" کہا جاتا ہے۔ ڈیڑھ صدی سے جاری اس جریدے کی الیون میں آسٹریلیا کے عظیم بیٹسمین ڈان بریڈمین کپتان ہیں۔ 100 کے بیٹنگ اوسط تک نہ پہنچ کر تاریخ میں 99.94 کے ہندسے کو امر کرنے والے ڈان نے اپنا آخری ٹیسٹ 1948ء میں کھیلا تھا۔ آج 68 سال بعد بھی ٹیسٹ اوسط سمیت کئی ریکاڈز ایسے ہیں جو دنیا کا کوئی بیٹسمین نہیں توڑ سکا۔ سب سے زیادہ ڈبل سنچریاں ہوں یا ٹرپل سنچریاں، ایک سیریز میں سب سے زیادہ رنز ہوں یا مسلسل میچز میں سنچریاں، ایک دن میں سب سے زیادہ رنز بنانا ہو یا ایک سیشن میں سب سے زیادہ سنچریاں بنانے کا، ایسے کئی ریکارڈز آج بھی ڈان کے پاس ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چاہے ورلڈ الیون وزڈن کی ہو یا گلی کے نکڑ پر بیٹھے محو گفتگو چند "کرکٹ بزرگوں" کی، ڈان کا ہونا لازمی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  [گیارہواں کھلاڑی] پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز ایک روزہ مقابلے، "نمبروں کا کھیل"

وزڈن کی "آل ٹائم ورلڈ الیون" میں سب سے زیادہ ٹیسٹ رنز بنانے والے سچن تنڈولکر بھی ہیں۔ بلکہ "کرکٹ کا میراڈونا" وسیم اکرم بھی۔ بس وزڈن کی پاک-بھارت جوڑی یہی ہے، دونوں ملکوں کا کوئی دوسرا کھلاڑی اس فہرست میں نہیں ہے۔
انگلستان کے چار کھلاڑی جیک ہوبس، "بابائے کرکٹ" ڈبلیو جی گریس، سڈنی بارنیس اور وکٹ کیپر ایلن ناٹ اس فہرست میں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزڈن واقعی انگلستان سے جاری ہوتا ہے۔ ویسٹ انڈیز کو 'کالی آندھی' بنانے والے ویوین رچرڈز، گیری سوبرز اور میلکم مارشل بھی ورلڈ الیون کا حصہ ہیں جبکہ ڈان بریڈمین کا ساتھ دینے کے لیے واحد ہم وطن شین وارن ہیں۔ یعنی جنوبی افریقہ، سری لنکا اور نیوزی لینڈ کا کھلاڑی اس قابل نہيں سمجھا گیا جو آل ٹائم ورلڈ الیون کا حصہ بنے۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے 2005ء میں نیا کے موجودہ بہترین کھلاڑیوں پر مشتمل ایک "ورلڈ الیون" بنائی تھی۔ اس ٹیم نے 2005ء کے تباہ کن سونامی کے لیے امدادی مقابلہ کھیلا تھا جس میں اس کا مقابلہ ایشیا الیون کے ساتھ ہوا تھا۔

آئی سی سی ورلڈ الیون میں ویسٹ انڈیز کے کرس گیل اور برائن لارا، آسٹریلیا کے ایڈم گلکرسٹ، رکی پونٹنگ، گلین میک گرا، میتھیو ہیڈن اور شین وارن، نیوزی لینڈ کے کرس کیرنز، اسٹیفن فلیمنگ اور ڈینیل ویٹوری جبکہ انگلینڈ کے ڈیرن گف کھیلے تھے۔ ایشیا الیون میں سری لنکا کے سنتھ جے سوریا، کمار سنگاکارا، چمندا واس اور مرلی دھرن تھے، پاکستان کی طرف سے یوسف یوحنا اور عبد الرزاق نے شرکت کی تھی جبکہ بھارت کے وریندر سہواگ، سارو گانگلی، راہول ڈریوڈ، ظہیر خان اور انیل کمبلے نے حصہ لیا تھا۔ ملبورن میں ہونے والے اس مقابلے میں ورلڈ الیون نے 112 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  پی ایس ایل الیون، بہترین کھلاڑی، بہترین ٹیم

اسی سال آئی سی سی نے ورلڈ چیمپیئن آسٹریلیا کے مقابلے کے لیے ایک ورلڈ الیون بنائی جس نے تین ایک ٹیسٹ اور تین ون ڈے کھیلے اور مزیدار بات یہ ہے کہ سارے ہی میچز ہار گئی۔ اس ورلڈ الیون میں پاکستان کے شاہد آفریدی نے ون ڈے اور انضمام الحق نے ٹیسٹ میں حصہ لیا تھا۔

اس خیال پر زیادہ عرصے تک کام نہیں ہو سکا یہاں تک کہ 2009ء میں آئی سی سی نے "ہال آف فیم" کا آغاز کیا۔ اس میں سب سے پہلے 55 کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا یہاں تک کہ یہ تعداد اب 84 تک جا پہنچی ہے۔ پاکستان کے عمران خان، جاوید میانداد، وسیم اکرم، وقار یونس اور حنیف محمد ہال آف فیم میں شامل ہیں، جس میں سب سے زیادہ انگلستان کے کھلاڑی ہیں جن کی تعداد 27 ہے۔ آسٹریلای کے 22 اور ویسٹ انڈیز کے 19 کھلاڑی بھی ہیں۔ پاکستان و بھارت کے پانچ، پانچ، نیوزی لینڈ کے دو اور سری لنکا کا محض ایک کھلاڑی اس مرتبے تک پہنچا ہے۔

آپ کے خیال میں "آل ٹائم ورلڈ الیون" میں کون کون سے کھلاڑی ہونے چاہئیں؟

ICC-Hall-of-Fame

Facebook Comments