وہ عظیم کھلاڑی جنہیں مہدی حسن نے پیچھے چھوڑ دیا

بنگلہ دیش کے 19 سالہ مہدی حسن نے انگلستان کے خلاف صرف دو ٹیسٹ میچز میں 19 وکٹیں حاصل کرکے دنیا کو حیران کردیا ہے۔ یہ دو مقابلوں پر مشتمل ٹیسٹ سیریز میں کسی بھی بنگلہ دیشی باؤلر کی بہترین کارکردگی ہے، جس کی بدولت انہیں دوسرے ٹیسٹ میں میچ کے بہترین کھلاڑی کے ساتھ ساتھ 'مین آف دی سیریز' ایوارڈ بھی ملا۔ یوں مہدی حسن دنیا کے ان چند کھلاڑیوں میں شامل ہوگئے ہیں جنہیں اپنی پہلی ٹیسٹ سیریز ہی میں یہ اعزاز حاصل ہوا۔

مہدی حسن سے قبل 8 کھلاڑی ایسے گزرے ہیں جنہیں اپنی "ڈیبیو" سیریز میں ہی بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ حاصل ہوا۔ ان میں بھارت کے سارو گانگلی سب سے پہلے تھے۔ 1996ء کے دورۂ انگلستان میں گانگلی نے 105 کے اوسط سے اور دو سنچریوں کی مدد سے 315 رنز بنائے تھے جبکہ آخری بار بھی یہ کارنامہ ایک بھارتی کا ہی تھا۔ 2013ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنی پہلی ٹیسٹ سیریز میں روہیت شرما نے دو سنچریوں کی مدد سے 288 رنز بنائے تھے اور یہ اعزاز حاصل کیا۔

کتنی حیرت کی بات ہے کہ ویرنن فلینڈر، روی چندر آشون اور اجنتھا مینڈس کے علاوہ یہ اعزاز جیمز پیٹنسن، اسٹورٹ کلارک اور ژاک روڈلف جیسے نسبتاً غیر معروف کھلاڑی پہلے ہی ہلّے میں 'مین آف دی سیریز' بنے لیکن کرکٹ تاریخ کے کئی بڑے نام ایسے ہیں جنہیں اپنے طویل کیریئرز میں ایک بار بھی سیریز تو کجا 'مین آف دی میچ' کا بھی ایوارڈ کبھی نہیں ملا۔

نیوزی لینڈ کے ناتھن آسٹل کا نام ہی لے لیں۔ 12 سال طویل کیریئر اور درجن بھر نہیں پورے 81 ٹیسٹ میچز ان کے ریکارڈ پر موجود ہیں۔ ان میں 27 سنچریاں ان کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ 2002ء میں انگلستان کے خلاف تاریخ کی تیز ترین ڈبل سنچری کا ریکارڈ انہیں نیوزی لینڈ کی تاریخ کے بہترین بلے بازوں میں لانے کے لےی کافی ہے۔ کرکٹ تاریخ کی اس دلچسپ ترین اننگز کے باوجود آسٹل ایک بار بھی تنہا 'مرد میدان' نہیں بنے۔ انہیں ایک مرتبہ مشترکہ 'مین آف دی میچ' ضرور قرار دیا گیا لیکن اس کے علاوہ وہ کبھی یہ اعزاز لینے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارت بمقابلہ نیوزی لینڈ، کیا آج ریکارڈ ٹوٹ پائے گا؟

انہی بدنصیب کھلاڑیوں میں سے ایک پاکستان کے معین خان بھی ہیں۔ وہ 90ء کی دہائی میں پاکستان کے عالمی چیمپیئن دستے کے اہم رکن تھے۔ اپنی بیٹنگ صلاحیت کی وجہ سے ہمیشہ اپنے قریبی حریف راشد لطیف پر برتری حاصل رکھی۔ 69 ٹیسٹ میچز کھیلے اور 28 کے اوسط سے 2741 رنز بنائے۔ چار سنچریوں اور 15 نصف سنچریوں کی مدد سے اتنے رنز بنانے والے معین خان اپنے وسیع تجربے کی وجہ سے پاکستان کے کپتان بھی بنے۔ وکٹوں کے پیچھے بھی انہوں نے کارنامے انجام دیے لیکن کبھی 'مین آف دی میچ' نہیں بنے۔

Moin-Khan

یہی کہانی بھارت کے ایک وکٹ کیپر سید مجتبیٰ کرمانی کی ہے۔ وہ بھی ورلڈ چیمپیئن دستے کا حصہ تھے۔ 80ء کی دہائی میں جب ہر ٹیم اسپیشلسٹ وکٹ کیپر کھلایا کرتی تھی، اور اس کی بیٹنگ صلاحیت کی اہمیت زیادہ نہیں ہوتی تھی، اس زمانے میں کرمانی کا بیٹنگ اوسط 27 سے زیادہ تھا۔ لیکن 88 ٹیسٹ میچز کھیلنے کے باوجود وہ معین خان کی طرح تہی دامن رہے۔

یہ تو چلیں وکٹ کیپر تھے، ایک اسٹرائیک باؤلر، جس کی باؤلنگ کا ایک زمانے میں شہرہ تھا، انگلستان کے عظیم باب ولس، وہ بھی کبھی 'مین آف دی میچ' نہیں بنے۔ 90 ٹیسٹ میں 25 کے بہترین اوسط کے ساتھ 325 وکٹیں لینے والے ولس آج بھی سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے انگلش باؤلرز میں ٹاپ 5 میں موجود ہیں۔ 1981ء کے ایک ایشیز ٹیسٹ میں انہوں نے صرف 43 رنز دے کر 8 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، اس سے پہلے 1977ء میں بھی آسٹریلیا ہی کے خلاف اننگز میں 7 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ بھارت کے مقابلے میں دو مرتبہ چھ، چھ وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دیا، یہاں تک کہ 'وزڈن کرکٹر آف دی ایئر' بھی بنے، بس نہیں بنے تو کبھی "مین آف دی میچ" نہیں بنے۔

یہ بھی پڑھیں:  ناصر جمشید سعید انور کے نقش قدم پر!
bob-willis

اب ذکر آسٹریلیا کے ایک کپتان کا۔ این چیپل دنیا کے بہترین بلے بازوں میں سے تھے۔ 1975ء کی یادگار ایشیز سیریز میں آسٹریلیا کو کامیابی دلانے والے چیپل نے اسی سال آسٹریلیا کو ورلڈ کپ فائنل تک بھی پہنچایا۔ وہ ڈیڑھ دہائی تک آسٹریلیا کے لیے کھیلتے رہے۔ 75 ٹیسٹ میچز میں ملک کی نمائندگی کی۔ 42 کے اوسط کے ساتھ 5 ہزار سے زیادہ رنز بنائے۔ لیکن ان کی 14 سنچریاں بھی انہیں کبھی 'مین آف دی میچ' نہیں بنا سکیں۔

ویسے اگر ہم پوچھیں کہ دنیا کی تاریخ کی خطرناک ترین باؤلنگ کس ملک کی تھی، تو کرکٹ کی معلومات رکھنے والا ہر شخص یہی کہے گا 80ء کی دہائی کا ویسٹ انڈین باؤلنگ اٹیک۔ مائیکل ہولڈنگ، میلکم مارشل، اینڈی رابرٹس اور جوئیل گارنر سے دنیا خوف کھاتی تھی۔ ان میں سے گارنر کا قد 6 فٹ 8 انچ تھا، جن کا ہائی آرم باؤلنگ ایکشن اور تباہ کن یارکرز دنیا بھر کے بلے بازوں کے لیے ڈراؤنا خواب تھے۔ 58 ٹیسٹ میں صرف 21 کا شاندار اوسط اور 259 وکٹیں ان کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ گارنر نے کبھی کوئی 'مین آف دی میچ' ایوارڈ نہیں جیتا؟ حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ دو مرتبہ مین آف دی سیریز ضرور رہے ہیں، لیکن کبھی مین آف دی میچ نہیں۔

Joel-Garner

Facebook Comments