دھونی اگلا ورلڈ کپ کھیلیں یا نہیں؟ بحث کا آغاز ہوگیا

مہندر سنگھ دھونی دھیمے مزاج کے جارحانہ بلے باز ہیں اور پھرتیلی وکٹ کیپنگ اور ہوشیاری سے قیادت ہی ان کی کامیابی کا راز ہے، جس کی بدولت بھارت نے نیوزی لینڈ کو ایک مشکل سیریز میں تین-دو سے پچھاڑا۔ یہی وجہ ہے کہ ابھی سے اس بحث کا آغاز ہو چکا ہے کہ آیا دھونی کو عالمی کپ 2019ء تک یہ ذمہ داری ادا کرنی چاہیے یا اب سنجیدگی کے ساتھ فراغت کے بارے میں سوچنا چاہیے۔

دھونی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ کپتان خود کو الگ کرکے اگلے ورلڈ کپ کے لیے ٹیم کی تیاری کے متعلق سوچ رہے ہیں اس لیے عین ممکن ہے کہ چیمپیئنز ٹرافی 2017ء کے بعد دھونی اپنے کیریئر کے متعلق حتمی فیصلہ کرلیں۔ لیکن یہ سب دھونی کی فارم اور فٹنس کے معاملات سے بھی مشروط ہے، جس کا وہ 2016ء کے اختتام پر ازسرنو جائزہ لیں گے۔

"ایم ایس" نے 2014ء میں طویل فارمیٹ کی کرکٹ سے خود کو الگ کر کے اب ساری توجہ مختصر طرز کی کرکٹ پر مرکوز کر رکھی ہیں۔ اب ان نظریں 2017ء کی چیمپیئنز ٹرافی پر جمی ہیں جو ایک مرتبہ پھر انگلستان میں کھیلی جائے گی اور بھارت اپنے اعزاز کا دفاع کرے گا۔

البتہ دھونی کے قریبی دوست اور تیز گیند باز اشیش نہرا کا کہنا ہے کہ دھونی کو اگلے ایک روزہ عالمی کپ تک قیادت کرنی چاہیے، کیونکہ 2019ء تک ان کی عمر 38 سال ہو گی جو کہ موجودہ کرکٹ کے لحاظ موزوں ہے۔ جب پاکستان کے یونس خان اور کپتان مصباح الحق 40 کی عمر میں بھی کھیل سکتے ہیں تو دھونی کیوں نہیں؟ اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ وہ ریٹائرمنٹ کے حوالے سے سوچیں۔ ویسے بھی نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں دھونی کی اپنی افادیت، صلاحیت اور فٹنس ثابت کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  آل راؤنڈ جدیجا اور مردِ بحران دھونی، انگلستان چت اور سیریز برابر

دوست ہی نہیں بلکہ سابق سلیکٹر وکرم راٹھور نے بھی دھونی پر زور دیا ہے کہ انہیں اگلے عالمی کپ تک ضرور کھیلتے رہنا چاہیے، کیونکہ وہ اپنے ہم عمر کھلاڑیوں کی نسبت اب بھی مکمل فٹ ہیں ویسے بھی عمر کا معاملہ صرف اعداد کا ہے، جسے انہیں خود پر طاری نہیں کرنا چاہیے۔

سابق ٹیم ڈائریکٹر روی شاستری نے بھی دھونی کو 2019ء تک کرکٹ جاری رکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا شمار عظیم کھلاڑیوں کپل دیو، سنیل گاوسکر اور سچن تنڈولکر کے ساتھ ہوتا ہے، اس لیے عمر کے چکروں میں پڑنے کی بجائے کھیل سے محظوظ ہوں۔

سابق وکٹ کیپر کرن مورے نے بھی تقریباً ایسے ہی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یقیناً بین الاقوامی کرکٹ میں فٹنس بہت اہم ہے، مگر دھونی کو اس کی فکر نہیں کرنی چاہیے وہ مکمل فٹ ہیں اور 2019ء تک آرام سے کھیل سکتے ہیں۔ ملک کو دھونی کی ضرورت ہے۔

ویسے یووراج سنگھ اور گوتم گمبھیر بھی اگلا عالمی کپ کھیلنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو دھونی کیوں نہیں؟

MS-Dhoni2

Facebook Comments