ٹیسٹ کرکٹ کو چار دن تک محدود کرنے کی تجویز

ٹیسٹ کرکٹ تمام تر افادیت کے باوجود اپنا اثر کھوتی جا رہی ہے۔ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین متحدہ عرب امارات میں جاری سیریز ہی کو دیکھ لیں کہ جو اس تاثر کی گواہ ہے، دبئی، ابوظہبی اور شارجہ میں میدان میں خالی کرسیاں اور ہو کا عالم۔ طویل فارمیٹ کی اس کرکٹ کو بچانے کے لئے مختلف آراء اور تجاویز سامنے آتی رہتی ہیں اس میں ایک اہم تجویز کا اضافہ آسٹریلیا کے سابق کپتان مارک ٹیلر نے کیا ہے۔

مارک ٹیلر کے مطابق وقت آ گیا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کی مدت کم کر کے 4 دن کر دی جائے، ویسے بھی کرکٹ جتنی تیز ہو گئی ہے میچ کے ہار جیت یا برابر ہونے کا فیصلہ 4 دنوں میں ہو جاتا ہے۔ اس لئے اگر ایک میچ جمعرات سے شروع ہو اور اتوار کو اختتام تو اس سے ایک دن بھی بچے گا اور تماشائیوں کو بھی آسانی ہو سکے گی۔

ویسے تو یہ مشورہ نیا نہیں ہے سب سے پہلے یہ تصور بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے 2013ء میں پیش کیا تھا، مگر سابق آسٹریلین کپتان کی تائید کے بعد اب اسے اہمیت ملنے کا امکان ہے۔

مارک ٹیلر نے آسٹریلیا نیوزی لینڈ کے مابین پہلے ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایسی تبدیلیوں سے اس فارمیٹ میں عالمی دلچسپی کی کمی کو روکا جا سکتا ہے۔ جب سے ٹی ٹوئنٹی کے رجحان کو پزیرائی ملی ہے کھیل بحیثیت مجموعی تیز ہو گیا ہے اس لئے جدید تقاضوں کے تحت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ کیونکہ کھیل کا ماحول جتنا دوستانہ اور آسان ہو گا تماشائیوں کی دلچسپی میں اتنا ہی اضافہ ہو گا۔ آسٹریلیا کے اسپن ماسٹر شین وارن نے بھی اس تجویز کو بہتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیسٹ سے "اکتا دینے والے مقابلے" کا تاثر ختم کرنے کے لئے مختلف تبدیلیوں، بہتر تشہیر، جارحانہ کھیل اور ایسی پچز جو اسپن یا تیز گیند بازوں کے لئے مددگار ہوں ، فلیٹ وکٹیں ہرگز نہیں بننی چاہئیں ، تب جا کر بہتری کی امید ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ”شین وارن خوش ہوا!“
day-night-cricket

Facebook Comments