جدید کرکٹ کے دو بڑے حریف پھر آمنے سامنے

جدید کرکٹ کے دو بڑے حریف آسٹریلیا اور جنوبی آفریقہ ایک روزہ مرحلے سے تو نمٹ گئے کہ جہاں معاملہ یکطرفہ رہا اور جنوبی افریقہ نے پانچ-صفر سے کامیابی حاصل کی لیکن اب پروٹیز کا جوابی دورۂ آسٹریلیا کہ یہ جہاں کل یعنی جمعرات سے ایک ٹیسٹ سیریز شروع ہو رہی ہے۔ ایک روزہ سیریز میں کامیابی کے بعد جنوبی افریقہ کے حوصلے تو بلند ہوں گے لیکن آسٹریلیا اس مرتبہ میزبان ہے اور بدلے کی آگ میں بھی جل رہا ہے۔ یعنی زبردست معرکہ آرائی کا امکان ہے۔

گزشتہ چند سیریز کا جائزہ لیا جائے تو دونوں حریفوں میں عجب قدر مشترک ہے کہ دونوں اپنے مورچوں یعنی ہوم گراؤنڈ پر کمزور جبکہ دوسرے کے میدانون میں طاقتور ثابت ہوئے ہیں۔

آسٹریلیا جنوبی افریقہ کے مابین 2014ء کی آخری ٹیسٹ سیریز اور موجودہ سیریز میں نمایاں فرق بس اہم کھلاڑیوں کی عدم موجودگی ہے۔ جیسے 'پروٹیز' دستے میں گریم اسمتھ اور ژاک کیلس ریٹائر ہو چکے اور موجودہ کپتان اے بی ڈی ولیئرز زخمی ہونے کی وجہ سے شریک نہیں جبکہ 'کینگروز' کو مائیکل کلارک اور مچل جانسن کی شدید کمی محسوس ہوگی۔

پہلے سری لنکا سے ٹیسٹ سیریز میں عبرتناک انجام اور اس کے بعد جنوبی افریقہ کے ہاتھوں ایک روزہ سیریز میں شرمناک شکست، آسٹریلیا یقیناً شدید دباؤ میں ہو گا مگر ایک سال پہلے قیادت کی ذمہ داری سنبھالنے والے اسٹیو اسمتھ کی حالت بھی بہتر نہیں ہوگی کیونکہ "ہنی مون پیریڈ" اب ختم ہو چکا، اب سب مثبت نتیجے کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔

اس وقت سب سے زیادہ جو چیز آسٹریلیا کے حق میں جاتی ہے وہ ہے ہوم گراؤنڈ کی برتری۔ دیکھتے ہیں آسٹریلیا اس سے کتنا فائدہ اٹھاتا ہے۔ جہاں تک ٹیسٹ سیریز کے لئے دستے کے انتخاب کی بات ہے تو سلیکٹرز نے شان مارش اور ڈیوڈ وارنر کی اوپنر جوڑی سے ہی امیدیں لگائی ہیں، عثمان خواجہ کی واپسی بھی بلے بازی کے شعبے کو مضبوط کرے گی، جبکہ مڈل آرڈر پر ایڈم ووجس اور دیگر پانچ پر ہی اعتماد کیا ہے۔ مچ مارش اور وکٹ کیپر پیٹر نیول دونوں کا تجربہ کم ہے مگر صلاحیت میں دونوں کم نہیں، اس لئے ان سے بھی توقعات ہیں۔ گیندبازوں میں 'کینگروز' نے اپنی روائتی تیز گیند بازی پر ہی بھروسہ رکھا ہے اور مچل اسٹارک خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  گلابی گیند ٹیسٹ پانچ دن نہیں چلے گا، ڈیل اسٹین

مہمان دستے کی صورتحال کپتان ابراہم ڈی ولیئرز کی عدم موجودگی کے باعث کچھ کمزور ضرور ہے مگر کپتان فف دو پلیسی کے پاس ہاشم آملا جیسا تجربہ کار و بھروسہ مند استاد موجود ہے۔ ان کے بعد آل راؤنڈر جے پی دومنی، باصلاحیت کوئنٹن ڈی کوک اور زیرک اسٹیفن کک پر ہی سب کی نظریں جمی ہیں کہ ٹیم کو اس مرحلے سے بھی فاتح بنا کر نکالیں گے۔ البتہ گزشتہ سیریز کے برعکس مچل اسٹارک اور واکا کی تیز اور باؤنسی پچ مہمان دستے کے لئے پریشانی کا باعث بن سکتی ہیں، مگر ڈیل اسٹین کی صورت میں خطرناک باؤلر میزبان دستے کے ہوش بھی اڑا سکتا ہے۔

سیریز کے لیے اعلان کردہ آسٹریلیا کا دستہ:

اسٹیون اسمتھ (کپتان)، ڈیوڈ وارنر، شان مارش، عثمان خواجہ، ایڈم ووجس، مچل مارش، پیٹر نیول، مچل اسٹارک، پیٹرسڈل، جوش ہیزل وڈ، نیتھن لیون اور جو مینی.

دوسری جانب جنوبی افریقہ کی ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہوگی:

فف دو پلیسی (کپتان)، کائل ایبٹ، ہاشم آملا، تمبا باووما ، اسٹیفن کک، کوئنٹن ڈی کوک، جے پی دومنی، ڈین ایلگر، کیشو مہاراج، مورنے مورکل، ویرنن فلینڈر، کاگیسو رباڈا، ریلی روسو، تبریز شمسی، ڈیل اسٹین اور ڈین ولاس۔

Facebook Comments