دو پلیسی ڈی ولیئرز اور ہاشم آملا سے بہتر کپتان، لیکن کیسے؟

یہ کرکٹ تاریخ کا سب سے بڑا "راز" ہے کہ ایک سے بڑھ کر ایک باصلاحیت کھلاڑی موجود ہونے کے باوجود جنوبی افریقہ بڑے مقابلوں میں پیچھے کیوں رہ جاتا ہے؟ وکٹری سٹینڈ کے قریب پہنچ کر "چوک" کیوں جاتا ہے؟ بڑی ناکامیوں کی طویل تاریخ رکھنے والے "پروٹیز" دستے کو اسی وجہ سے "چوکرز" کہا جاتا ہے۔

جنوبی افریقہ ایک لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اسے گریم اسمتھ جیسے "وژنری" کپتان کا ساتھ ملا، جو نہ صرف میدان میں کارنامے دکھانے کے قابل تھے بلکہ ٹیم کو بڑے مقابلوں میں نفسیاتی دباؤ سے نکالنے کے لئے بھی کوشاں رہے۔ مگر اسمتھ کی غیر متوقع ریٹائرمنٹ نے ایک ایسا خلا چھوڑا ہے کہ تمام تر کوششوں کے بعد بھی جانشین کی کھوج اب تک جاری ہی ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب کرکٹ سال بھر اور مستقل کھیلی جاتی ہے بورڈ اور کھلاڑیوں کا کام تو بڑھ ہی گیا ہے لیکن ساتھ ساتھ کپتانوں پر دباؤ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اسی لئے جنوبی افریقہ کے سلیکٹرز تینوں فارمیٹس میں ایک ہی کپتان کی پالیسی پر مطمئن نہیں ہیں اور تینوں طرز کے الگ الگ کپتانوں کو آزمایا۔ جیسے ٹیسٹ دستے کی قیادت ہاشم آملا کو دی گئی تھی اور مختصر فارمیٹ میں ایک روزہ دستہ ابراہم ڈی ولیئرز کے حوالے جبکہ ٹی ٹوئنٹی میں کپتانی فف دو پلیسی۔

گزشتہ عالمی کپ میں تمام گروپ مقابلے جیتنے کے باوجود سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ سے مایوس کن شکست اور اس کے بعد بھارت سے ٹیسٹ سیریز میں عبرتناک ہار نے بورڈ کی اس نئی حکمت عملی پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  تلکارتنے دلشان کے 10 دلچسپ ریکارڈز

ہاشم آملا اور ڈی ولیئرز کے بیٹنگ کارناموں کی تو دنیا معترف ہے، مگر کیا وہ قیادت کی ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی اتنے ہی قابل ہیں؟ یہ بحث تا حال جاری ہے۔ ہاشم آملا کا معاملہ واضح ہے کیونکہ وہ شروع سے ہی کپتان بننے کے لئے تیار نہیں تھے مگر گریم اسمتھ کے چانک الگ ہونے سے قیادت کا بوجھ اچانک ان کے سر آ پڑا۔ مگر انڈیا اور انگلینڈ سے شکست کے بعد سلیکٹرز دوبارہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے، جبکہ دوسری طرف ڈی ولیئرز کا معاملہ اس لئے مختلف ہے کیونکہ وہ تو قیادت کی شدید خواہش رکھتے تھے مگر وہ بھی خاطرخواہ بہتری نہیں لا سکے۔

جہاں تک دو پلیسی کی بات ہے وہ گریم اسمتھ کی طرح کم عمری میں نہ صرف قیادت تک پہنچے بلکہ مسلسل کارکردگی سے شائقین کا اعتماد بھی حاصل کیا۔ ان میں قیادت کے جراثیم قدرتی طور پر اور بدرجہ اتم موجود ہیں۔

ڈی ولیئرز کی جارحانہ بلے بازی اور ہاشم آملا کے غیر متنازع کردار نے دو پلیسی کی صلاحیتوں کو کھل کر نمایاں نہیں ہونے دیا مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور مسلسل اچھی کارکردگی سے خود کو ان کے برابر لا کھڑا کیا۔ ان کی قیادت کی عمدہ مثال ڈی ولیئرز کے زخمی ہونے کے بعد عالمی چیمپیئن آسٹریلیا کو پانچ-صفر سے عبرتناک شکست سے دوچار کرنا ہے۔ اب عوام اور میڈیا کی جانب سے تعریفوں کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے، اس نے فف کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

ویسے تو سینئرز اور جونیر کے مابین تقابل بنتا نہیں مگر جنوبی افریقہ کے تناظر میں کپتانوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے اعداو شمار جاننا ضروری ہے۔ کیونکہ یہی ثابت کرتے ہیں کہ دو پلیسی نے قیادت کی ذمہ داریوں کو آملا اور ڈی ولیئرز سے بہتر نبھایا ہے۔ تینوں فارمیٹ میں فف کی قیادت میں جیت کا تناسب بہتر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  دھونی 9 ہزاری منصب پر

دو ٹیسٹ میں سے ایک میں کامیابی اور ایک بے نتیجہ، 9 میں سے 8 ایک روزہ مقابلوں میں فتح اور 31 میں سے 18 ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں فتح ظاہر کرتی ہے کہ فف کے اندر "کچھ" ہے اور اگر وہ آسٹریلیا میں کچھ غیر معمولی کارنامہ دکھانے میں کامیاب ہوگئے تو ہو سکتا ہے ماضی کی طرح تمام طرز کی کرکٹ میں جنوبی افریقہ کا ایک ہی کپتان بن جائے۔

Faf Du Plessis

Facebook Comments