کیا یاسر شاہ بھی سعید اجمل بن جائے گا؟

چند ہفتے قبل پاکستان نے ٹیسٹ رینکنگز میں ٹاپ پوزیشن حاصل کرتے ہوئے پہلی مرتبہ آئی سی سی کے ’’گرز‘‘ پر قبضہ کیا تو وہ لمحہ طمانیت کا باعث تھا کیونکہ اس کے پیچھے قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کی پانچ سال کی محنت کارفرما تھی۔ ان میں وہ کھلاڑی بھی شامل ہیں جو آج ٹیسٹ ٹیم کا حصہ نہیں ہیں مگر دو تین سال پہلے وہ پاکستانی ٹیم کا لازمی حصہ تھے۔ ان کھلاڑیوں میں سعید اجمل کا نام سب سے نمایاں ہے جنہوں نے 2011ء اور 2012ء کے سالوں میں غیر معمولی کارکردگی دکھاتے ہوئے متحدہ عرب امارات کی وکٹوں پر مہمان ٹیموں کو رسوا کیا مگر یہ عظیم گیند باز بالنگ ایکشن مشکوک قرار دیے جانے کے بعد آج باہر بیٹھے ہوئے ہیں، جنہیں انٹرنیشنل کرکٹ تو کجا ڈومیسٹک کرکٹ بھی پوری طرح نہیں مل رہی۔

سعید اجمل کی بات اس لیے کی ہے کہ یاسر شاہ کو خبردار کیا جاسکے جو ٹیم کے واحد اسٹرائیک بالر ہونے کی حیثیت سے بہت زیادہ بالنگ کروارہے ہیں اور بالنگ کی اس زیادتی سے یاسر شاہ کی جادوگری میں کمی آرہی ہے۔ اس کی مثال ویسٹ انڈیز کیخلاف ٹیسٹ سیریز ہے جس میں یاسر شاہ نے تین میچز میں 21 وکٹیں لے کر ایک مرتبہ پھر خود کو پاکستان کا ٹاپ بالر ثابت کیا مگر یہ 21وکٹیں یاسر شاہ کو 192.4اوورز میں ملیں اور تین یا اس سے کم ٹیسٹ میچز کی سیریز میں یاسر شاہ کی طرف سے یہ اوورز کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اس سیریز میں یاسر شاہ کی اوسط تقریباً 27 رہی اور ایک وکٹ کیلئے یاسرشاہ کو 9 اوورز تک انتظار کرنا پڑا مگر یہ اوسط اور اسٹرائیک ریٹ کے حوالے سے یاسر کی سب سے خراب کارکردگی نہیں ہے لیکن اعدادوشمار یاسر شاہ کی کارکردگی کے معیار میں آنے والی کمی کو بالکل واضح کررہے ہیں جبکہ شارجہ ٹیسٹ میں ہونے والی کندھے کی تکلیف بھی حد سے زیادہ بالنگ کی داستان بیان کررہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  [ریکارڈز] یاسر شاہ کی تیز ترین ’ففٹی‘

اگر یاسر شاہ کے 19 ٹیسٹ میچز پر مشتمل کیرئیر کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے تو اکتوبر 2014ء سے اکتوبر 2015ء تک ایک سال کے عرصے میں یاسر شاہ نے 12ٹیسٹ میچز میں شرکت کرتے ہوئے 24.55کی اوسط اور 48.7کے اسٹرائیک ریٹ سے 76 وکٹیں حاصل کیں۔ دوسری طرف آخری سات ٹیسٹ میچز میں یاسر شاہ کو 33.45کی اوسط سے 40وکٹیں ملیں جبکہ لیگ اسپنر کا اسٹرائیک ریٹ 64.6رہا یعنی پہلے دور کے مقابلے میں یاسر کو ان 7ٹیسٹ میچزمیں ایک وکٹ کے حصول کیلئے اوسطاً 17گیندیں زیادہ کروانا پڑی ہیں۔ یاسر شاہ کے پہلے 12ٹیسٹ میچز میں پاکستان نے آٹھ جیتے جبکہ آخری سات میں سے چار میں گرین شرٹس کو فتح ملی یعنی پاکستانی ٹیم کی جیت کے تناسب میں بھی کمی آئی ہے اور یاسر شاہ کو بھی پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ بالنگ کروانا پڑی رہی ہے کیونکہ دوسرے اینڈ سے یاسر کو بہت زیادہ سپورٹ نہیں مل رہی۔

کیرئیر کے پہلے 12 ٹیسٹ میچز میں یاسر شاہ نے جہاں 76وکٹیں لیں تھیں وہیں اس دوران 11ٹیسٹ میچز میں ذوالفقار بابر نے بھی ہاتھ صاف کیا تھا جبکہ راحت علی(24 وکٹیں)اور عمران خان سینئر (20) نے بھی اپنے اسپنرز کا بھرپور ساتھ دیا۔ مجموعی طور پر یاسر شاہ کی 76وکٹوں کے مقابلے میں دیگر بالرز نے 150وکٹیں لیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یاسر شاہ کا کردار اسٹرائیک بالر کا تھا مگر دیگر بالرز نے لیگ اسپنر کو بھرپور انداز میں سپورٹ کیا لیکن دوسری طرف آخری سات ٹیسٹ میچز میں یاسر شاہ نے40کھلاڑی آؤٹ کیے تو دیگر بالرز صرف 75وکٹیں ہی لے سکے جبکہ پہلے دور میں پوری طرح یاسر شاہ کا ساتھ دینے والے ذوالفقار بابر کو 2016ء میں صرف دو ٹیسٹ میچز ہی کھلائے گئے ہیں جس کی وجہ سے یاسر شاہ کو وہ اسٹاک بالنگ بھی کرنا پڑ رہی ہے جو ذوالفقار بابر کی ذمہ داری تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  ’’سچن ... سچن‘‘ شکریہ سچن!!

کپتان مصباح الحق اور ٹیم انتظامیہ اسی طرح سعید اجمل سے حد سے زیادہ بالنگ کرواکر ایک بہترین اسپنر گنواچکی ہے اور ماضی کی غلطی سے سبق سیکھنے کی بجائے اب یاسر شاہ کو بھی بے دردی سے استعمال کر رہی ہے۔ ذوالفقار بابر کو سلیکٹرز نے رائٹ آف کردیا ہے اس لیے نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے دوروں پر بالنگ کا بوجھ یاسر شاہ کے کندھوں پر ہی پڑے گا کیونکہ محمد نواز میں ابھی اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ ذوالفقار کا کردار ادا کرسکے جبکہ یاسر شاہ کے پہلے دور میں جن دو فاسٹ بالرز نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اس میں راحت علی کو رواں سال چار ٹیسٹ کھلائے گئے اور عمران خان کو ہر سیریز میں ٹیم کا حصہ بنانے کے باوجود میدان میں نہیں اتارا جاتا۔

یہ وہ عوامل ہیں جو ہر گزرتے ہوئے دن کیساتھ یاسر شاہ کو غیر موثر کرتے جارہے ہیں جو وکٹیں ضرور حاصل کر رہے ہیں مگر بڑھتی ہوئی اوسط اور اسٹرائیک ریٹ تشویش کی بات ہے کیونکہ یاسر شاہ کا ’’بوجھ‘‘ اگر نہ بانٹا گیا تو جلد یا بدیر لیگ اسپنر کسی انجری کا شکار ہوجائے گا یا حد سے زیادہ بالنگ کرنے کی وجہ سے ایک عام سا بالر بن جائے گا۔ اب یہ فیصلہ پی سی بی نے کرنا ہے کہ سونے کا انڈا دینے والی مرغی سے ہر روز ایک انڈا لینا ہے یا زیادہ ’’انڈوں‘‘ کے لالچ میں مرغی کو ’’ذبح‘‘ کردینا ہے!

Yasir-Shah

Facebook Comments