خبردار پاکستان!

اچھا استاد وہی ہوتا ہے جو اپنے شاگردوں کی ناکامی کو مایوسی کی بجائے اسے ان کی طاقت میں بدل دے اور آئندہ آنے والے امتحانوں کے لئے مزید ہمت سے کھڑا کر دے۔ پاکستانی ٹیم کے کوچ مکی آرتھر نے اچھے استاد جیسا کردار ادا کرتے ہوئے تیسرے ٹیسٹ میں ناکامی کو مصباح الیون کی طاقت میں بدل کر آنے والے مشکل امتحان کے لئے تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔

مکی آرتھر نے ویسٹ انڈیز کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میں ناکامی کو مصباح الیون کے لئے ایسا ضروری دھچکا قرار دیا جس کی ٹیم کو ضرورت تھی، کیونکہ محدود فارمیٹ میں کلین سویپ فتح اور پھر طویل طرز کے دو میچز کی باآسانی جیت کا خمار گرین دستے کے سر پر تھا اور وہ ضرورت سے زیادہ پراعتماد ہو چکے تھے۔ یہی خمار آخری ٹیسٹ میں ناکامی کا اصل سبب بنا۔ بلاشبہ کریگ بریتھویٹ اور دیوندر بشو نے مہمانوں کی جیت میں اہم کردار ادا کیا، پر پاکستان میں جیت کی تڑپ کا فقدن بھی اہم عنصر تھا۔ ایک مثال چار اہم کیچز چھوڑنا تھا جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پاکستانی دستہ چاق و چوبند رہنے کی جائے بہت سست ہو چکا تھا۔ اس لئے نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے مشکل ترین دوروں سے قبل یہ دھچکا انہیں جھنجھوڑنے کا سبب بنے گا۔

یاد رہے کہ پاکستان کا اگلا ہدف خاصا مشکل ہے، اس نے رواں ماہ نیوزی لینڈ کا دورہ کرنا ہے کہ جہاں دو ٹیسٹ میچز طے شدہ ہیں۔ 17 نومبر اور 25 نومبر سے شروع ہونے والے ان مقابلوں کے بعد پاکستان کا اگلا محاذ آسٹریلیا ہوگا جہاں 15 دسمبر میں ٹیسٹ سیریز کا آغاز ہوگا

یہ بھی پڑھیں:  وہاب ریاض آسٹریلیا میں ہمارا نمبر 1 ہتھیار ہوگا، مکی آرتھر

پاکستان کے لئے یہ دورہ کئی حوالوں سے مشکل ثابت ہوگا۔ ایک تو متحدہ عرب امارات کی دھیمی وکٹوں سے نکل کر اسے نیوزی لینڈ و آسٹریلیا کی نسبتاً تیز وکٹوں کا سامنا کرنا ہوگا، یہی بات پاکستانی بلے بازوں کے اوسان خطا کر دینے کے لیے کافی ہے۔ دوسرا ان ممالک میں پاکستان کا ریکارڈ کچھ حوصلہ افزا نہیں لیکن سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ دونوں میزبان ٹیمیں زخم خوردہ ہیں۔ نیوزی لینڈ بھارت کے ناکام دورے سے لوٹا ہے تو آسٹریلیا کے لئے بھیانک دورۂ سری لنکا کے بعد جنوبی افریقہ میں ایک روزہ سیریز میں بدترین انجام سے دوچار ہوا۔ اس لئے دونوں مہمان پاکستانی ٹیم بھوکے شیروں کی طرح جھپٹنے کے لئے بے قرار ہوں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو کوچ کا مصباح الیون کو خبردار کرنا اور مشکل دورے سے پہلے سنبھلنے کا مشورہ دینا بہت اہم ہے کیونکہ کسی بھی ملک کو اس کے میدان اور حالات میں ہرانا آسان نہیں ہوتا۔ جہاں تھوڑی سی غفلت حقیقی فتح سے محروم کر سکتی ہے اس لیے پاکستان کو اگلے پانچ اہم ٹیسٹ مقابلوں کے لیے خود کو ذہنی و جسمانی طور پر تیار کرلینا ضروری ہے۔

Mickey-Arthur

Facebook Comments