وسیم اور وقار "رول ماڈل" ہیں، جسپریت بمراہ

اسپن باؤلنگ میں روی چندر آشون اور تیز گیند بازی میں جسپریت بمراہ بھارت کے مضبوط ترین ہتھیار بن چکے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بمراہ کی گیندابز صرف محدود اوورز کے مقابلوں تک محدود ہے جبکہ آشون کے لیے سارے میدان کھلے ہیں۔

22 سالہ تیز گیندباز نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کرکٹ سے متعلق اپنی لگن اور دلچسپی کے بارے میں بھی بتایا اور وہیں کھل کر اپنی خواہش کا بھی اظہار کیا کہ وہ ٹیسٹ میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانا چاہتے ہیں جو ان کا سب سے بڑا خواب ہے۔

بمراہ کا کہنا ہے کہ میں اپنے انتخاب کے حوالے سے زیادہ نہیں سوچتا, بس جب موقع مل جائے تو مکمل توجہ اور جذبے سے کھیل پیش کرتا ہوں، خواہ وہ بین الااقوامی مقابلہ ہو یا ڈومیسٹک میچز۔ محدود اور طویل طرز کی کرکٹ کے مابین فرق کی وضاحت کرتے ہوئے نوجوان باؤلر کا کہنا تھا کہ محدود اوورز کے کھیل میں یک جہتی باؤلر فائدہ مند نہیں ہوتا، نہ ہر گیند پر یارکر مفید ثابت ہوتا ہے اور نہ باونسر، بلکہ ہر گیند الگ انداز کی ہو تبھی کامیابی ملتی ہے، یارکر گیندباز کا بہت خطرناک ہتھیار ہوتا ہے اس لئے وقت اور ضرورت کے مطابق ہی استعمال کرنے کا فن آنا چاہئے۔ "میرے خیال اپنے وقت کی کامیاب ترین پاکستانی جوڑی وسیم اکرم اور وقار یونس کے پاس یہ مہارت کمال درجے میں موجود تھی، اس لئے مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ یہ دونوں عظیم سابق گیندباز میرے لئے "رول ماڈل" کا درجہ رکھتے ہیں۔"

یہ بھی پڑھیں:  قومی کرکٹ اور میڈیا کا مچھلی بازار

ویسے انڈیا کے موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو کسی انڈین کے لئے پاکستانیوں کے متعلق ایسی مثبت رائے کا اظہار کرنا بڑے دل گردے کی بات ہے جو یقیناً قابل تعریف ہے۔

Jasparit-Bumrah2

Facebook Comments