دورۂ نیوزی لینڈ، پاکستان کی فتح کے امکانات زیادہ کیوں؟

جب پاکستان چند ہفتے پہلے ٹیسٹ میں عالمی نمبر ایک بنا تو یہ بات عام سننے کو ملی کہ پاکستان کرکٹ ٹیم صرف ایشیائی سرزمین پر ہی اچھا کھیل پیش کرسکتی ہے۔ اگر مقابلہ انگلستان، آسٹریلیا یا نیوزی لینڈ کے دوروں پر ہو تو وہاں جیتنے کے امکانات آٹے میں نمک کے برابر ہی ہوں گے۔ انگلستان کا میدان تو پاکستان نے کافی حد تک مار لیا، وہ سیریز جیتا تو نہیں لیکن برابر کرکے ورلڈ نمبر ون ضرور بنا لیکن ایک مرتبہ پھر ایسے ہی خیالات بہت زیادہ سننے کو مل رہے ہیں کیونکہ اگلے چند مہینے پاکستان نے نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے دورے کرنے ہیں۔

اعداد و شمار کے لحاظ سے دیکھیں تو یہ بات انگلستان و آسٹریلیا کے حوالے سے تو ٹھیک ہو سکتی ہے لیکن نیوزی لینڈ کا معاملہ یکسر مختلف ہے جہاں پاکستان رواں ماہ دو ٹیسٹ میچز کھیلے گا۔ پاکستان نے 1985ء سے لے کر آج تک نیوزی لینڈ کے دورے پر ایک ٹیسٹ سیریز بھی نہیں ہاری یعنی تقریباً 32 سالوں سے۔ بلکہ پاک-نیوزی لینڈ 'اوے' سیریز کی 51 سالہ تاریخ میں صرف یہی ایک سال تھا جب نیوزی لینڈ نے پاکستان کو سیریز ہرائی۔ پاکستان نے آج تک نیوزی لینڈ کے 12 دورے کیے ہیں اور پاکستان کو واضح برتری حاصل ہے۔ 12 میں سے 7 مرتبہ قومی ٹیم نے فتح سمیٹی اور نیوزی لینڈ کو صرف ایک بار سیریز جیتنے کا موقع ملا۔ چار سیریز بغیر کسی نتیجے تک پہنچے ختم ہوئیں۔

ٹیم پاکستان کو ملنے والی فتوحات میں بلے بازوں اور باؤلرز دونوں کا اہم کردار رہا ہے۔ پہلے بلے بازوں کی بات کریں تو یہاں جاوید میانداد سب سے کامیاب ہیں، جنہوں نے 77.33 کی اوسط اور تین سنچریوں کی مدد سے 928 رنز بنائے ہیں۔ اِن میں ایک شاندار ڈبل سنچری بھی شامل ہے جو 1989ء میں آکلینڈ ٹیسٹ میں بنائی گئی تھی۔ جاوید میانداد سے ہٹ کر سعید انور، انضمام الحق، محمد یوسف اور یونس خان سبھی نے نیوزی لینڈ کے میدانوں میں اپنا لوہا منوایا ہے۔ تمام کھلاڑیوں نے 50 سے زیادہ کی اوسط سے رنز بنائے ہیں لیکن اِن چاروں بلے بازوں میں یونس خان زیادہ کامیاب ہیں جنہوں نے پانچ ٹیسٹ میچوں میں 65.28 کی اوسط سے رنز بنائے۔

یہ بھی پڑھیں:  [گیارہواں کھلاڑی] سوال جواب قسط 19

بلے بازوں کے ساتھ ساتھ قومی ٹیم کے گیند بازوں نے بھی کیوی سرزمین پر خوب راج کیا ہے۔ 90ء کی دہائی میں وسیم اکرم اور وقار یونس نے تو نیوزی لینڈ کے بلے بازوں کی ایک نہ چلنے دی۔ ان دونوں کا بھرپور ساتھ مشتاق احمد اور ثقلین مشتاق نے دیا۔ محمد سمیع اور شعیب اختر نے بالترتیب 2001ء اور 200ء میں ایک، ایک ٹیسٹ جتوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن اعداد و شمار کی روشنی میں نیوزی لینڈ کے میدانوں میں پاکستان کی جانب سے وسیم اکرم پاکستان کی جانب سے اب تک سب سے کامیاب گیند باز ثابت ہوئے ہیں جنہوں نے 7 اننگز میں 50 کھلاڑیوں کا شکار کیا۔ صرف اور صرف 17 کے اوسط سے۔ 1994ء میں کھیلی جانے والی سیریز وسیم اکرم کی کارکردگی کے حوالے سے ہمیشہ ہی یاد رکھی جائے گی جس میں انہوں نے تین ٹیسٹ میچوں میں 25 وکٹیں لے کر پاکستان کو سیریز میں دو-ایک سے فتحیاب کروایا تھا۔

ماضی کے نتائج تو یہ صاف بتارہے ہیں کہ پاکستان رواں ماہ شروع ہونے والی ٹیسٹ سیریز میں بالادست مقام رکھے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف ماضی کی بنیاد پر کوئی مقابلہ نہیں جیتا جا سکتا، دونوں ٹیموں کی موجودہ کارکردگی بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ گو کہ نیوزی لینڈ کی حالیہ کارکردگی کچھ خاص نہیں۔

ایک طرف جہاں پاکستان کو 2011ء میں دورۂ نیوزی لینڈ میں سیریز جتوانے والے مصباح الحق ہیں، جن کی قیادت میں پاکستان نے حال ہی میں ویسٹ انڈیز کو شکست دی ہے تو دوسری طرف نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیم سن ہیں، جو ابھی بھارت سے تین-صفر کی بدترین شکست کے بعد وطن واپس لوٹے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان کی بلے بازی کو مرمت کی ضرورت ہے: شعیب ملک

پاکستان کو سیریز میں مضبوط امیدوار قرار دینے کی دوسری اہم وجہ قومی کھلاڑیوں کی حالیہ کارکردگی اور فارم ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے پاکستان کے بلے باز خوب کھیل رہے ہیں، یہاں تک کہ انگلستان میں بھی بڑے کارنامے دکھائے کہ جہاں عموماً بلے بازوں کو دشواریاں پیش آتی ہیں۔ گیند بازی میں بالخصوص اسپنر یاسر شاہ عروج پر ہیں جبکہ نیوزی لینڈ کی وکٹوں پر محمد عامر اور دیگر تیز باؤلرز بھی بلے بازوں کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں۔

دورۂ نیوزی لینڈ کے لیے حیران کن اضافہ شرجیل خان کا ہے۔ نیوزی لینڈ کی وکٹیں دیکھیں، کنڈیشنز ملاحظہ کریں اور ساتھ ہی پاکستان کا ٹیم کمبی نیشن بھی، تو انہیں نیوزی لینڈ گھومنے پھرنے کے علاوہ کچھ کرنا تو نہیں چاہیے۔ لیکن پھر بھی ہو سکتا ہے کہ شرجیل کو ٹیسٹ کیریئر کے آغاز کا موقع مل جائے۔ پھر ویسٹ انڈیز کے خلاف سیريز کھیلنے والے محمد نواز کی جگہ بابر اعظم کو آنا چاہیے۔ نواز کی کارکردگی بہت مثالی نہیں رہی اور نہ ہی نیوزی لینڈ میں وکٹیں انہیں کچھ مدد دے سکیں گی۔

ابھی تک نیوزی لینڈ کی ٹیم کا اعلان نہیں کیا گیا جس کی وجہ اضافی سوچ بچار ہے جو ناکام دورۂ بھارت کے بعد پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی کے لیے کیا جا رہا ہے۔ مچل سینٹنر کے زخمی ہونے سے نیوزی لینڈ کو دھچکا تو پہنچا ہے لیکن ہوم گراؤنڈ کا ایڈوانیٹج نیوزی لینڈ کے حوصلے بحال کرنے کے لیے کافی ہوگا۔ اس لیے توقع یہی ہے کہ سیریز بہت جاندار ہوگی اور یہ دو ٹیسٹ میچز آسٹریلیا جانے سے پہلے پاکستان کے حوصلوں کا بڑا امتحان ہوں گے۔

Wahab-Riaz-Ross-Taylor

Facebook Comments