"نیلسن کا باپ"، ایک یادگار میچ کا نایاب لمحہ

جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا ایک مرتبہ پھر مدمقابل ہیں بلکہ پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ نے 177 رنز کی واضح کامیابی بھی حاصل کی ہے۔ بلاشبہ یہ جنوبی افریقہ کے لیے ایک بڑی فتح کا دن تھا لیکن یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ دونوں ٹیموں کے درمیان کوئی شاندار مقابلہ کھیلا گیا ہو۔ ماضی میں بارہا دونوں ٹیموں کے میچز نے دنیا کی نظریں اپنی جانب مبذول کروائیں۔

ایسا ہی ایک مقابلہ آج سے ٹھیک پانچ سال پہلے یعنی 2011ء میں کھیلا گیا تھا، یعنی نومبر ہی کے مہینے میں اور 11 تاریخ کو ہی۔ یہ سیریز کا پہلا ٹیسٹ ہی تھا کہ جہاں آسٹریلیا نے مائیکل کلارک کے 151 رنز کی مدد سے 284 رنز بنائے اور جواب میں جنوبی افریقہ کی باری صرف 96 رنز پر ہی سمٹ گئی۔ 'پروٹیز' کی آخری 9 وکٹیں مجموعے میں صرف 47 رنز کا اضافہ کر سکیں۔ یکطرفہ مقابلہ آسٹریلیا کی شاندار کامیابی پر منتج ہوتا لیکن جنوبی افریقہ نے اپنی 'ورلڈ کلاس' باؤلنگ کی بدولت میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔

ڈیل اسٹین، ویرنن فلینڈر اور مورنے مورکل نے صرف 18 اوورز میں آسٹریلیا کی اننگز کا خاتمہ کردیا، صرف اور صرف 47 رنز پر۔ اس میں بھی آخری وکٹ پر بننے والی 26 رنز کی "بڑی" شراکت داری تھی جس نے آسٹریلیا کی کچھ عزت رکھ لی ورنہ تو 9 کھلاڑی صرف 21 رنز پر ہی میدان بدر ہو چکے تھے۔

جنوبی افریقہ کے گیند بازوں نے اپنا کام کر دکھایا، اب بلے بازوں کا نیا امتحان تھا جو پہلی اننگز میں بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئے تھے۔ جنوبی افریقہ کو جیتنے کے لیے 236 رنز کی ضرورت تھی۔ پہلی اننگز میں صرف 96 رنز پر ڈھیر ہونے والی ٹیم کے لیے یہ ہدف معمولی نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  [باؤنسرز] قومی انڈر 23 ٹیم کی سلیکشن کا معمہ!

اسی دوران 11 نومبر کا دن آن پہنچا، وہ یادگار دن جب تاریخ بھی 11 تھی، مہینہ بھی 11 واں اور سال بھی، یعنی 11-11-11۔ کرکٹ کے میدان نے اس کو اور بھی خاص بنا دیا۔ جب صبح 11 بج کر 11 منٹ ہوئے تو جنوبی افریقہ کو جیتنے کے لیے 111 رنز کی ضرورت ہے۔ ہے نا حیرت انگیز اتفاق؟ کرکٹ میں 111 رنز کو 'نیلسن' کہتے ہیں لیکن اس جنوبی افریقہ-آسٹریلیا میچ کو تو 'نیلسن کا باپ' کہنا چاہیے۔

بہرحال، گریم اسمتھ اور ہاشم آملا کی شاندار سنچریوں نے جنوبی افریقہ کے لیے معاملہ آسان کردیا۔ دونوں نے دوسری وکٹ پر 195 رنز کی شراکت داری قائم کی اور میچ 8 وکٹوں سے جنوبی افریقہ کے نام رہا۔ یہ میچ جہاں دو عظیم ٹیموں کے معمولی اسکور پر ڈھیر ہونے کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا، وہیں اپنے 'نیلسنز' کی وجہ سے بھی ہمیشہ کے لیے امر ہوگیا۔

ذرا اسکور کارڈ تو دیکھیں (تصویر: Getty Images)

ذرا اسکور کارڈ تو دیکھیں (تصویر: Getty Images)

Facebook Comments