انگلستان کا نوجوان حسیب حمید کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ

بنگلہ دیش کے مایوس کن دورے کے بعد اب انگلستان کا بڑا امتحان شروع ہونے والا ہے۔ کل 9 نومبر سے بھارت کے خلاف ٹیسٹ سیریز شروع ہو رہی ہے، جس کے لیے کپتان ایلسٹر کک نے اعلان کیا ہے کہ 19 سالہ بیٹسمین حسیب حمید اس مقابلے میں کھیلیں گے۔ یعنی وہ تاریخ کے کم عمر ترین انگلش کھلاڑیوں میں شامل ہو جائیں گے۔

راجکوٹ کے میدان میں اترتے ہوئے حسیب کی عمر 19 سال 297 دن ہوگی یعنی 1997ء کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ انگلستان 20 سال سے کم عمر کسی کھلاڑی کو میدان میں اتارے گا۔ آخری بار بین ہولیوک نے 1997ء میں آسٹریلیا کے خلاف ٹرینٹ برج ٹیسٹ کھیلا تھا جب ان کی عمر 19 سال اور 269 دن تھی۔ ملک کے لیے سب سے کم عمر میں ٹیسٹ کھیلنے کا ریکارڈ جیک کرافرڈ کے پاس ہے جنہوں نے 1906ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف جوہانسبرگ ٹیسٹ میں شرکت کی تھی۔ تب ان کی عمر صرف 19 سال اور 32 دن تھی۔ ان کے علاوہ این پیبلز، ڈینس کومپٹن اور برائن کلوز نے بھی 20 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے اپنا اولین ٹیسٹ کھیلا تھا لیکن یہ تینوں کھلاڑی 1949ء سے پہلے کے ہیں۔ یعنی پچھلے 67 سالوں میں انگلستان نے صرف دو نوعمر کھلاڑیوں کو میدان میں اتارا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ انگلستان پختہ عمر تک خطرہ مول نہیں لیتا۔ لیکن شاید دورۂ بنگلہ دیش کی کارکردگی اسے مجبور کر رہی ہے۔

حسیب حمید لنکاشائر کاؤنٹی کی طرف سے کھیلتے ہیں اور گو کہ ان کا تجربہ صرف 20 فرسٹ کلاس میچز کا ہے لیکن اس وقت بھی ان کا تقابل عظیم بلے باز جیفری بائیکاٹ سے کیا جا رہا ہے۔ وکٹ پر جمنے، ٹھیرنے، لمبا قیام کرنے اور دن بھر بلے بازی کی صلاحیت حسیب کا خاصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ایلسٹر کک شکست کے خوف میں مبتلا ہیں: کیون پیٹرسن کی سخت تنقید

اب دیکھنا یہ ہے کہ حسیب اپنے آبا و اجداد کی سرزمین پر کیا کمالات دکھاتے ہيں۔ حسیب کے والد اسماعیل کا تعلق بھارت کی مغربی ریاست گجرات سے تھا، جہاں وہ ہجرت کرکے انگلستان گئے تھے۔

Haseeb-Hameed

Facebook Comments