ٹیسٹ اسپیشلسٹ کا ’’ٹیسٹ‘‘ کب ہوگا؟

پاکستان میں کچھ کھلاڑیوں پر ٹیسٹ یا محدود اوورزکے کھلاڑی ہونے کا ٹھپہ لگا کر انہیں دیگر فارمیٹس سے دور کردیا گیا ہے اور اُن کی اہلیت سے قطع نظر انہیں محض ایک فارمیٹ تک ہی محدود رکھا جاتا ہے۔ اگر ایسے کھلاڑیوں کو صرف ایک فارمیٹ میں بھی مستقل مواقع ملتے رہیں تو اسے انصاف گردانا جائے گا مگر جب ان کھلاڑیوں کو اُس فارمیٹ میں بھی موقع نہ دیا جائے جس کا اسپیشلسٹ گردانتے ہوئے انہیں دوسرے فارمیٹس سے دور کیا گیا ہے تو پھر یہ یقینا سب سے بڑی ناانصافی ہوگی۔ پاکستان میں محدود اوورز کے فارمیٹس میں اسپیشلسٹ کھلاڑیوں کو زیادہ موقع ملتا ہے اور یہ کھلاڑیوں نظروں میں بھی رہتے ہیں کیونکہ پاکستانی ٹیم ون ڈے اور ٹی20فارمیٹس میں زیادہ شرکت کرتی ہے مگر صرف ٹیسٹ کھیلنے والے کھلاڑی مکمل طور پر نظر انداز ہوجاتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کم بیک کے مواقع بھی کم ہوتے ہیں۔

یہاں شان مسعود کی مثال دی جاسکتی ہے جسے ٹیسٹ اسپیشلسٹ کے طور پر پاکستانی ٹیم میں جگہ دی گئی۔ عمدہ آغاز اور کچھ ناکامیوں کے بعد شان نے سری لنکا میں چوتھی اننگز میں فتح گر سنچری اسکور کرڈالی جس کے تین ماہ بعد انگلینڈ کیخلاف ہوم سیریز کے بعد شان مسعود نے آٹھ ماہ بعد اگلا ٹیسٹ کھیلا۔ ان آٹھ مہینوں نے پاکستان نے بے تحاشہ ون ڈے اور ٹی20 کرکٹ کھیلی اور انگلینڈ میں جب دو ٹیسٹ میچز میں شان مسعود نے واجبی سی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تو کھبے اوپنر کو ٹیم سے باہر نکال دیا گیا جو دورہ نیوزی لینڈ سے بھی ڈراپ کردیا گیا۔ فرسٹ کلاس کرکٹ پر اکتفا کرنے والے شان مسعود کو اگر آسٹریلیا کے دورے کیلئے منتخب نہ کیا گیا تو شاید دوبارہ پاکستان کی نمائندگی کا انتظار ایک سال سے بھی زیادہ ہوجائے۔

یہ بھی پڑھیں:  [باؤنسرز] حفیظ کو قومی ٹیم سے دور کرنے کی کوششیں

یہی صورتحال فاسٹ بالر عمران خان سینئر کیساتھ بھی ہے جس نے دو برس قبل آسٹریلیا کیخلاف ٹیسٹ ڈیبیو کیا اور یو اے ای کے علاوہ سری لنکا کی وکٹوں پر سات ٹیسٹ میچز کھیلتے ہوئے 28.10کی اوسط سے 20وکٹیں اپنے نام کیں جس میں اننگز میں پانچ وکٹوں کا کارنامہ ایک مرتبہ شامل ہے۔ کنڈیشنز اور موسم کے اعتبار سے کسی فاسٹ بالر کیلئے یہ تسلی بخش کارکردگی ہے مگر گزشتہ برس اکتوبر میں انگلینڈ کیخلاف تیسرے ٹیسٹ سے ڈراپ ہونے والا پیسر مسلسل آٹھ ٹیسٹ میچز بینچ پر بیٹھ کر دیکھ چکا ہے جبکہ نیوزی لینڈ میں بھی اس بات کا امکان کم ہے کہ عمران کو موقع مل سکے۔ عمران خان سینئر کا قصور صرف اتنا ہے کہ اُس نے مشکل کنڈیشنز میں پاکستانی اسپنرز کا ساتھ نبھاتے ہوئے وکٹیں حاصل کیں لیکن جیسے ہی محمد عامر کی پابندی کا خاتمہ ہوا تو ٹیم انتظامیہ نے ایک باصلاحیت بالر کو سائیڈ لائن کردیا جبکہ سہیل خان کی اچانک آمد نے بھی عمران کو پیچھے کردیا۔

Rahat-Ali

اسی طرح کی صورتحال راحت علی کو بھی درپیش ہے جسے مستقل مواقع نہیں مل رہے بلکہ راحت کو ایسے میچز میں چانس دیا جاتا ہے جب گرین شرٹس کا چین اُڑ چکا ہوتا ہے تو راحت علی اپنے کم بیک ٹیسٹ میں کچھ نہ کچھ راحت کا سامان ضرور پیدا کردیتا ہے۔ راحت علی نے ساڑھے تین سال کے عرصے میں 18ٹیسٹ میچز میں 52وکٹیں حاصل کی ہیں مگر نومبر2014ء کے بعد سے راحت علی کو پاکستان کی ٹیسٹ الیون کا مستقل حصہ نہیں بنایا گیا بلکہ ضرورت کے وقت استعمال کرنے کے بعد راحت علی کو واپس بینچ پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ ذوالفقاربابر بھی ایک ایسا ہی ٹیسٹ ’’اسپیشلسٹ‘‘ ہے جسے انگلینڈ کے دورے پر کوئی ٹیسٹ نہیں کھلایا گیا اور اب نیوزی لینڈ کے ٹور سے بھی ڈراپ کردیا گیا ہے جبکہ ویسٹ انڈیز کیخلاف ہوم سیریز میں بھی کھبا اسپنر مستقل مواقع حاصل نہیں کرسکا۔ فواد عالم کو ایک سیریز میں ٹیسٹ اسپیشلسٹ کے طور پر منتخب کیا جاتا ہے اور کوئی موقع دیے بغیر ہی نہ صرف ڈراپ کردیا جاتا ہے بلکہ سنٹرل کانٹریکٹ میں بھی کھبے بیٹسمین کو کسی درجہ بندی کے قابل نہیں سمجھا جاتا۔ کیا کرکٹ بورڈ کا یہ سلوک اِن کھلاڑیوں کو مایوس کرنے کے مترادف نہیں ہے جو خود پر ٹیسٹ اسپیشلسٹ کا ٹھپہ لگوانے کے بعد کسی دوسرے فارمیٹ میں بھی منتخب نہیں ہورہے؟

یہ بھی پڑھیں:  ذوالفقار بابر: پرفارمنس اور فٹنس کے باوجود نظرانداز

ایک طرف ٹیسٹ اسپیشلسٹ کھلاڑیوں کو اُس فارمیٹ میں بھی پورا موقع نہیں دیا جارہا جبکہ دوسری جانب ون ڈے یا ٹی20فارمیٹس میں چند مواقع پر اچھی کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو ٹیسٹ ٹیم کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ شان مسعود، ذوالفقار بابر، عمران خان سینئر یا راحت علی باصلاحیت کھلاڑی ہیں جنہوں نے متعدد مرتبہ اپنی عمدہ صلاحیتوں کا ثبوت بھی دیا ہے مگر جب ان کھلاڑیوں کو ٹیسٹ کرکٹ سے بھی دور کردیا جائے گا تو پھر یہ کس فارمیٹ میں کھیل کر اپنی واپسی کو ممکن بنانے کی کوشش کریں گے۔ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹیسٹ کرکٹ کے اسپیشلسٹ کو ان کا حق نہ دیا تو پھر یہ گلہ کرنا مناسب نہ ہوگا کہ وکٹ پر رکنے والے بیٹسمین اور مکمل فٹنس کیساتھ لمبے اسپیلز کرنے والے بالر کیوں ناپید ہورہے ہیں۔ پی سی بی نے اگر ایسے کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی ختم نہ کی تو پھر شارجہ جیسے نتائج مزید تواتر کیساتھ ملیں گے جہاں بالرز تھک گئے تھے اور بیٹسمینوں نے ٹی20کی جھلک دکھانے کی کوشش میں پاکستانی اننگز کو ’’جھلکیاں‘‘ بنادیا تھا!!

Fawad-Alam

Facebook Comments