بڑے ناموں کو ’’بڑا پن‘‘ بھی دکھانا ہوگا!

چند ’’ماہرین‘‘ نے دورہ نیوزی لینڈ کو اتنا بڑا بنادیا ہے جیسا کہ کیویز کے دیس میں فتح کا حصول ناممکن سی بات ہے حالانکہ پاکستانی ٹیم کو 1985ء کے بعد سے نیوزی لینڈ میں کبھی شکست کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ یہ وہ ٹیسٹ سیریز ہے جب وسیم اکرم نے اپنے ٹیسٹ کیرئیر کا آغاز کیا تھاجبکہ پچھلے پندرہ برسوں میں نیوزی لینڈ نے اپنے میدانوں پر پاکستان کے خلاف صرف دو ٹیسٹ میچز میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اگر ان اعدادوشمارکو سامنے رکھا جائے تو اس مرتبہ بھی دو ٹیسٹ میچز کی سیریز میں گرین شرٹس کے لیے کامیابی سمیٹنا زیادہ مشکل نہیں ہونا چاہیے۔ دوسری جانب پاکستان کے خلاف سیریز کے لیے نیوزی لینڈ نے تجربہ کار اوپنر مارٹن گپٹل کو ڈراپ کردیا اور اہم اسپنر مچل سینٹنر ان فٹ ہونے کے باعث اسکواڈ کا حصہ نہیں ہیں۔ مگر اس کے باوجود کچھ ایسی صورتحال پیدا کی جارہی ہے جیسا کہ نیوزی لینڈ میں کامیابی حاصل کرنا ہمالیہ سر کرنے کے مترادف ہو۔

غیر یقینی کی یہ صورتحال پیدا کرنے کا آخر مقصد کیا ہے؟ حالانکہ پاکستان کی ٹیم حال ہی میں نمبر ون پوزیشن پر فائز تھی اور انگلینڈ جیسی ٹیم کے خلاف اُس کے ملک میں سیریز ڈرا کرنا بھی کسی کارنامے سے کم نہیں ہے مگر اس کے باوجود نیوزی لینڈ کی ٹیم کو ناقابل تسخیر بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو تینوں شعبوں میں پاکستانی ٹیم سے پیچھے ہے۔ پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر کی سر درد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے کیونکہ اُن کے لیے فائنل الیون میں تین پیسرز کا انتخاب کرنا مشکل ہوگیا ہے جبکہ ٹاپ آرڈر میں اس بات کا فیصلہ نہیں ہورہا کہ اننگز کا آغاز کون کرے گا۔ یہ غیر یقینی کی صورتحال غلط سلیکشن اور کچھ کھلاڑیوں پر حد سے زیادہ بھروسہ کرنے کے سبب پیدا ہوئی ہے کیونکہ ماضی کے مقابلے میں پاکستانی ٹیم میں اب ایسے کھلاڑیوں کی کمی ہوگئی ہے جو اپنی پرفارمنس کی بنیاد پر آٹو میٹک چوائس ہوا کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  فف کے ’’پاپ‘‘...سب معاف!!

تین فاسٹ بالرز کے انتخاب کے حوالے سے مکی آرتھر کی پریشانی اس لیے بجا ہے کہ جن فاسٹ بالرز کو پاکستانی ٹیم کا اہم ہتھیار کہا جارہا ہے وہ زنگ آلود ہیں اور کسی ایک میچ میں پرفارم کرنے کے بعد اگلے کئی میچز میں یہ توپیں خاموش رہتی ہیں۔ پاکستان نے انگلینڈ کے دورے سے قبل ایشیا (زمبابوے کے علاوہ) سے باہر آخری سیریز فروری 2013ء میں جنوبی افریقہ کے میدانوں پر کھیلی تھی۔ اس سیریز کے آغاز سے ویسٹ انڈیز کے خلاف شارجہ ٹیسٹ تک پاکستانی فاسٹ بالرز کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ صرف عمران خان سینئر ہی ایک ایسا بالر ہے جس کی اوسط 30سے کم رہی ہے جبکہ سہیل خان نے 30.12کی اوسط سے 16 وکٹیں لی ہیں۔ اس کے علاوہ کم از کم تین ٹیسٹ کھیلنے والے فاسٹ بالرز میں احسان عادل (52.60)، محمد طلحہ(52)، محمد عامر (41.11)، محمد عرفان (38.90) اور راحت علی(37.90) نے مایوس کیا ہے جبکہ جنید خان (34.81) اور وہاب ریاض(32.50) نے قدرے بہتر کارکردگی دکھائی ہے مگر مجموعی اعتبار سے یہ ایسی پرفارمنس ہرگز نہیں ہے جو کسی زمانے میں پاکستانی فاسٹ بالنگ کی شان ہوا کرتی تھی۔

ماضی میں وسیم ، وقار کے ساتھ تیسرے 'پیسر' کا انتخاب کرنا درد سر ہوا کرتا تھا کیونکہ ایک جیسی صلاحیت کے تین چار بالرز دستیاب ہوتے تھے مگر اب صورتحال یہ ہے کہ اوسط درجے کی کارکردگی کے حامل متعدد بالرز میں سے تین کا انتخاب مشکل ہوگیا ہے۔ محمد عامر کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہر ’’آسائش‘‘ فراہم کرتے ہوئے انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس اتارا ہے مگر وہ اب تک کھیلے گئے چھ ٹیسٹ میچز میں 41 سے زائد کی اوسط سے صرف 18 وکٹیں ہی لے سکا ہے اور فی ٹیسٹ تین وکٹیں لینے والے کسی بالر کو بھلا کیسے ’’فتح گر‘‘ قرار دیا جاسکتا ہے مگر پاکستان کرکٹ میں ایسا ہورہا ہے۔ محمد عامر کے کچھ جذباتی مداح یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ عامر کی بالنگ پر پاکستانی فیلڈرز ’’جان بوجھ‘‘ کر کیچز گراتے ہیں تاکہ کھبے پیسر کو وکٹیں نہ مل سکیں مگر اُنہیں اتنا یاد رکھنا چاہیے کہ بولڈ اور ایل بی ڈبلیو کرنے کے لیے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن گیندوں میں کاٹ ضرور ہونی چاہیے جس کا عامر کی بالنگ میں فقدان دکھائی دے رہا ہے!

یہ بھی پڑھیں:  ورلڈ ٹی ٹوئنٹی، کھلاڑی جو توجہ کا مرکز رہیں گے

مکی آرتھر کو بڑا کوچ مانا جاتا ہے کہ مگر ابھی تک اُن کا ’’بڑا پن‘‘ دکھائی نہیں دیا۔ مکی آرتھر جیسے ہائی پروفائل کوچ کا کام کھلاڑیوں کی نشوونما اور ٹیم کو فتح گر یونٹ میں تبدیل کرنا ہے۔ اگر وہ بھی دوسرے غیر ملکی کوچز کی طرح یہاں صرف پیسے لینے کے لیے آئے ہیں تو وہ اپنے ’’گول‘‘ میں ضرور کامیاب ہوجائیں گے مگر اس چکر میں پاکستانی ٹیم کا ’’ڈبہ گول‘‘ ہوجائے گا۔ اب وہ وقت آگیا ہے کہ پاکستانی ٹیم صرف بڑے ناموں پر بھروسہ نہ کرے بلکہ ایسے کھلاڑیوں کو موقع دیا جائے جو ماضی قریب میں پرفارم کرتے رہے ہیں اور جن بڑے ناموں کے درشن چھوٹے ہورہے ہیں انہیں بھی باہر بٹھا کر یہ احساس دلایا جائے کہ ٹیم میں رہنے کے لیے نام نہیں بلکہ ’’کام‘‘ ہی اُن کے کام آئے گاکیونکہ شارجہ میں ناموں کی ناکامی کا عملی مظاہرہ دیکھے ہوئے ابھی زیادہ دن نہیں گزرے!

Wahab-Riaz

Facebook Comments