برائن لارا، ہارے ہوئے لشکر کا جیتا ہوا سپاہی

پرکشش شخصیت، پستی مائل قد، بائیں ہاتھ میں بلّا پکڑے اور ذرا سا گھٹنوں کی طرف جھک کر ایک مخصوص انداز سے گیند کو باؤنڈی کی راہ دکھانے والے "برائن لارا" سے کون واقف نہیں ہوگا. ایک وقت تھا گیند بازی میں وسیم اکرم اور بلے بازی میں برائن لارا بننے کی خواہش ہر کرکٹ کھیلنے والے کی زبان پر ہوتی تھی اور حیرت یہ ہے کہ آج بھی برقرار ہے۔

کہتے ہیں اچھے وقت پر اچھا کر گزرنا اتنا مشکل نہیں، اصل بات مشکل دور میں خود کو بہتر ثابت کرنا ہے اور یہی لارا نے کیا۔ جب وہ ویسٹ انڈین دستے کا حصہ بنے تو اس وقت "کالی آندھی" کا زور ٹوٹ چکا تھا۔ ٹیم زوال سے دوچار تھی، اس لئے وہ اپنے ملک کو ویسی کامیابیوں سے تو ہمکنار نہ کروا سکے جیسے ویوین رچرڈز کے حصے میں آئیں لیکن انفرادی ریکارڈز میں دور دور تک کوئی لارا کے مقابل نہیں۔

آئیے برائن لارا کی چند اہم یادوں کو پھر سے یاد کرتے ہیں جب انہوں نے ٹیسٹ اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں رنز کے ہمالیہ کھڑے کر دیے تھے۔

بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے کے اس گوہر نایاب نے اسکول کی سطح سے ہی اپنے جوہر دیکھانا شروع کر دیے تھے۔ لارا نے صرف 15 سال کی عمر میں اسکول سیزن میں سات سنچریاں بنا کر مستقبل کے ہیرو کی جھلک دکھا دی تھی۔ پھر 19 سال میں دوسرے فرسٹ کلاس میچ میں ہی پانچ گھنٹوں تک میلکم مارشل اور جوئیل گارنر جیسے گیندبازوں کے مقابل کریز پر کھڑا رہ کر 92 رنز بنائے۔ اسی اننگز نے بین الااقوامی کرکٹ کے لئے ان کی راہیں ہموار کیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان سپر لیگ 2017ء – کون کس کے لیے کھیلے گا؟

ویسے تو لارا کا پورا بین الاقوامی کیریئر ہی شاندار ہے مگر 1994ء بہت "لکی" ثابت ہوا جب لارا کی عمر صرف 22 سال تھی۔ تب انہیں ایک ریکارڈ ساز اننگز کھیلنے کا موقع ملا۔ انگلینڈ کے خلاف 538 گیندوں پر 365 رنز کی ایسی اننگز، جس نے عظیم گیری سوبرز کی 1958ء میں کھیلی گئی اننگز کا رکیارڈ توڑا۔ ایک ایسی عمر میں جس میں خون بہت جوش مارتا ہے اور جذبات زیادہ ہوتے ہیں، 766 منٹ تک کریز پر کھڑے ہو کر لارا نے اپنے مستقل مزاج ہونے کا ثبوت دیا۔

بس یہ اننگز کھیلنے کی دیر تھی کہ لارا کے لئے شہرت اور دولت کے دروازے کھل گئے۔ انعامات کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جو کیریئر کے اختتام تک جاری رہا۔ ان کا یہ ریکارڈ اگلے 9 سالوں تک کوئی نہ توڑ سکا یہاں تک کہ 2003ء میں آسٹریلیا کے میتھیو ہیڈن نے زمبابوے جیسے قدرے کمزور حریف کے خلاف 380 رنز بنا ڈالے۔

لارا کو ہرگز اپنا ریکارڈ ٹوٹنا پسند نہیں آیا۔ انہوں نے ٹھان لی کہ وہ اپنا اعزاز جلد واپس لیں گے۔ صرف چھ ماہ بعد لارا نے 400 رنز کی ایک حیرت انگیز اننگز کھیل کر نہ صرف اپنا ریکارڈ واپس چھینا بلکہ آنے والے کھلاڑیوں کے لیے ایک چیلنج بھی چھوڑ دیا کہ کوئی ہے جو تاریخ کی پہلی کواڈرپل سنچری کا ریکارڈ توڑے؟ 13 سال گزر چکے ہیں، بڑے بڑے بیٹسمین گزرے لیکن کوئی اس کے قریب بھی نہیں پہنچا۔

اس عظیم ریکارڈ کے بعد تو برائن لارا کا ہاتھ کھل ہی گیا۔ صرف دو ماہ بعد انہوں نے فرسٹ کلاس میں حنیف محمد کا 499 رنز کا دہائیوں پرانا ریکارڈ بھی توڑ ڈالا۔ واروکشائر کاؤنٹی کی طرف سے کھیلتے ہوئے لارا نے 501 رنز کی اننگز کھیل کر ایک اور سنگ میل مرتب کردیا۔ آج تک کوئی اس ریکارڈ کے قریب بھی نہیں پہنچا اور اب تو یہ کرکٹ کے ناممکنات میں سے ایک دکھائی دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کرکٹ انتظامیہ کا عروج اور کھیل کا زوال

یہ دونوں عظیم اننگز ثابت کرتی ہیں کہ لارا کس کلاس کے بیٹسمین تھے۔ جدید کرکٹ میں موٹے تازے بیٹس اور دیگر کئی سہولیات میسر ہونے کے باوجود اب بھی برائن لارا کے ان ریکارڈز کو کوئی خطرہ نہیں دکھائی دیتا۔ آج بھی ان ریکارڈز کو توڑنے کے لیے غیر معمولی ٹیمپرامنٹ اور حوصلے کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان ریکارڈز کو کوئی خاص خطرہ لاحق نہیں دکھائی دیتا جو ظاہر کرتا ہے کہ لارا جو بیٹنگ دکھا گئے، وہ کتنی غیر معمولی نوعیت کی تھی۔

لارا ہارے ہوئے لشکر کا وہ سپاہی تھا، جو اپنے دستے کو فتح یاب تو نہ کر سکا، لیکن خود ضرور امر ہوگیا۔

brian-lara-400

Facebook Comments