گرین کیپ کا حصول مذاق نہ بنائیں!

انگلینڈ اور آسٹریلیا جیسے ملکوں میں اس بات کا تصور بھی نہیں ہے کہ انڈر19کے کھلاڑیوں کو ٹیسٹ کرکٹ کی سختیوں میں جھونک دیا جائے بلکہ ان ممالک میں تین چار سال فرسٹ کلاس کھلانے کے بعد ہی کسی کھلاڑی کو ٹیسٹ کرکٹ کے قابل سمجھا جاتا ہے جبکہ پاکستان، بھارت جیسے ملکوں میں ایسا نہیں ہوتا بلکہ یہاں کم عمری میں کھلانے اور پھر بھلا دینے کا رواج عام ہے۔

اگر کم عمر ترین ٹیسٹ کرکٹرز کی فہرست میں شامل پہلے 20 کھلاڑیوں کے نام پڑھیں تو ان میں سے گیارہ کا تعلق پاکستان سے ہے اور اس میں سرفہرست حسن رضا ہیں، جنہیں 14 برس کی عمر میں ٹیسٹ ڈیبیو کروادیا گیا تھا۔ مجموعی طور پر پاکستان نے 15کھلاڑیوں کو اٹھارہویں سالگرہ سے قبل ٹیسٹ کیپ دی اور ان میں سے چند ایک ہی بڑے کھلاڑی ثابت ہوئے لیکن دیگر کھلاڑی چند ٹیسٹ کھیلنے کے بعد ڈومیسٹک کرکٹ کی خوراک بن گئے ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں انگلینڈ نے صرف ایک اور آسٹریلیا نے صرف دو کھلاڑیوں کو 19ویں سالگرہ سے قبل ٹیسٹ کیپ پہنائی ہے اور1949ء میں برائن کلوز کے ٹیسٹ ڈیبیو کے بعدچھ عشروں تک ان دونوں ممالک کی طرف سے ایک بھی کھلاڑی اپنی 19ویں سالگرہ ٹیسٹ کرکٹر کے اعزاز کے ساتھ نہ منا سکا۔اب انگلینڈ نے طویل عرصے کے بعد 19سالہ حسیب حمید کو ٹیسٹ کیپ دی ہے جنہوں نے بھارت میں پہلی اننگز میں31 رنز بنائے اور دوسری اننگز میں 62 رنز پر کھیل رہے ہیں۔ اگر اننگز جاری رہی تو ممکنہ طور پر کل ڈیبیو پر سنچری بنانے والے انگلینڈ کے کم عمر ترین بیٹسمین بھی بن جائیں گے۔ انگلینڈ اور آسٹریلیا جیسے ملک اگر کسی کھلاڑی کو کم عمری میں ٹیسٹ کیپ دیتے ہیں تو اس کھلاڑی کی شکل میں مستقل کا اسٹار دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ 10 سال قبل نوجوان ایلسٹر کک کو بھارت میں ٹیسٹ کیپ دی گئی تھی جو آج کئی ریکارڈز پر قابض ہے اور اب 19سالہ حسیب حمید نے اپنے ٹیسٹ کیرئیر کے پہلے ہی مقابلے میں اپنے تابناک مستقبل کی نوید سنا دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  گرین شرٹس کو بھرپور وار کرنا ہوگا!

صلاحیت کی کمی تو پاکستان میں بھی نہیں ہے لیکن یہاں کھلاڑیوں کو ایک سسٹم سے گزارنے کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ میں نہیں لایا جاتا بلکہ کبھی انڈر19سے ٹیسٹ کرکٹ کا سفر چٹکیوں میں طے ہوجاتا ہے تو کبھی نیٹ پر بالنگ یا بیٹنگ کرنے والا کھلاڑی سلیکٹرز یا کپتان کو بھا جاتا ہے جبکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں جان مارنے والے کھلاڑی بس دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔

حسیب اگر 19 سال کی عمر میں ٹیسٹ کرکٹ کھیل رہے ہیں تو وہ 20 فرسٹ کلاس میچز میں 48.50 کی اوسط سے رنز بناچککے ہیں جبکہ 2016ء انگلش سیزن میں نوجوان بیٹسمین نے چار سنچریاں اسکور کرتے ہوئے تقریباً 50 کے اوسط سے 1200رنز بناتے ہوئے خود کو سلیکشن کمیٹی کی نظروں میں لاکھڑا کیا۔

مگر دوسری طرف پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں اس وقت فواد عالم (56.64) کے علاوہ کوئی بھی ایسا بیٹسمین دکھائی نہیں دے رہا جس نے فرسٹ کلاس میں 50سے زائد کی اوسط سے رنز کیے ہوں۔ پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم میں نئے آنے والے بیٹسمینوں میں سمیع اسلم کی صرف فرسٹ کلاس اوسط تقریباً 39 اور محمد نواز کی اوسط 34سے بھی کم ہے اسی طرح افتخار احمد کی اوسط بھی کم و بیش اتنی ہی ہے جنہیں انگلینڈ میں ڈیبیو کروایا گیا ۔

اب وہ وقت چلا گیا ہے جب کوئی بھی کھلاڑی اپنی خام صلاحیت کی بنیاد پر انٹرنیشنل کرکٹ میں کامیابی حاصل کرلیتا تھا بلکہ اب اس صلاحیت کو مزید نکھارنے کی ضرورت ہے۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں کئی ہیرے بکھرے ہوئے پڑے ہیں جنہیں نکھارنا پی سی بی کا کام ہے مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہورہا۔ اگر بورڈ کو جونیئر سطح پر کوئی باصلاحیت کھلاڑی دکھائی دیتا ہے تو بیٹسمین کی صورت میں اسے دو تین فرسٹ کلاس کرکٹ کھلاتے ہوئے مستقبل کیلئے تیار کیا جائے اور اگر کوئی بالر مسلسل دو سیزن بھی تسلسل کیساتھ پرفارم کرتا ہے تو پھر اسے انٹرنیشنل کرکٹ دی جائے جیسا کہ کے آر ایل کا فاسٹ بالر محمد عباس مسلسل دوسرے سیزن میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے کے باوجود قومی ٹیم سے بلاوے کا منتظر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  انضی کی ’’کمیٹی ‘‘روایتی نکلی!!

حسیب حمید جیسے باصلاحیت نوجوان کو ٹیسٹ کرکٹ کھیلتا ہوا دیکھ کر ایک طرف خوشی بھی ہورہی ہے مگر اس کیساتھ ساتھ پاکستان کرکٹ کے سسٹم پر افسوس بھی ہوتا ہے جو کئی باصلاحیت نوجوانوں کھاگیا اور کئی کھلاڑی ’’پرچی‘‘ کا سہارا لے کر انٹرنیشنل کرکٹ کھیل گئے۔ اب وہ وقت آگیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ بھی اپنے ڈومیسٹک کرکٹ خاص طور پر فرسٹ کلاس کرکٹ کے معیار کو بلند کرے تاکہ یہاں ٹاپ پرفارمنس دکھانے والے کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل کرکٹ میں ہم آہنگ ہونے میں دشواری پیش نہ آئے اور کئی جونیئر کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل کرکٹ میں پھینکے کے بعد ان میں سے کسی ایک کی کامیابی کا انتظار کرنے کی بجائے ان کی صلاحیتوں کو نچلے درجے پر تراشا جائے اور پھر صرف اسی کھلاڑی کو ٹیسٹ کیپ دی جائے جو اس کا اہل بھی ہے کیونکہ شرٹ لگے ہوئے سنہرے ستارے اور گرین کیپ سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے جس کا حصول پاکستان کرکٹ کے سسٹم نے مذاق بنا کر رکھ دیا ہے!!

Facebook Comments