آسٹریلوی کرکٹ کا نظام شکستہ حال ہوچکا، ایئن چیپل

بین الاقوامی ٹیسٹ کرکٹ میں ایک طرف انگلستان نے بھارت کو اسی کی سرزمین پر مشکلات کا شکار کیا ہوا ہے، وہیں آسٹریلیا اپنے ہی ملک میں جنوبی افریقہ کے خلاف ناکام نظر آرہا ہے۔ پہلے ٹیسٹ میں 177 رنز سے شکست اور دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں صرف 85 رنز پر پوری ٹیم کے آؤٹ ہوجانے سے ’عظیم‘ آسٹریلیا کی عظمت شکوک و شبہات کے گھیرے میں نظر آنے لگی ہے۔ اس موقع پر سابق آسٹریلوی کپتان ایئن چیپل نے آسٹریلوی کرکٹ نظام کو شکستہ حال قرار دیتے ہوئے اس میں تبدیلیاں لانے پر زور دیا ہے۔

ایک زمانہ تھا کہ آسٹریلیا کے کرکٹ سسٹم کو مثالی تصور کیا جاتا تھا جس کے ذریعے آسٹریلیا کی قومی کرکٹ ٹیم کو ایک کے بعد ایک شاندار کھلاڑی ملتے رہے تھے اور خطرناک بلے بازوں اور گیند بازوں کی کمی محسوس نہیں ہوتی تھی لیکن اب منظر کچھ دھندلا سا رہا ہے۔

ایئن چیپل کہتے ہیں کہ گزشتہ چند سالوں میں آسٹریلوی کپتان کے لیے اس کی ذمہ داریاں نبھانا مشکل بنادیا گیا ہے اور فیصلوں میں بہت سے لوگ اثر انداز ہونے لگے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کے دور میں اگر مینیجر اپنی رائے ٹھونسنے کی کوشش کرتا تو اسے صاف جواب دے دیا جاتا تھا۔

ایئن چیپل کے مطابق کوچز کی تعداد میں اضافے کے باوجود غیر ملکی سرزمین پر بہت کم کامیابیاں حاصل ہوسکی ہیں۔ بھارت، انگلستان اور سری لنکا کے خلاف شکست کو عوام نے ’’آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل‘‘ کے مصداق بھلا دیا، لیکن پرتھ کے موافق حالات میں جنوبی افریقہ کے کمزور بالنگ اٹیک کے سامنے ناکامی نے آسٹریلوی بیٹنگ کی خستہ حالی واضح کرکے رکھ دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  'کلر بلائنڈ' میتھیو ویڈ گلابی گیند کے منتظر

سابق آسٹریلوی کپتان نے آسٹریلیا کا موازنہ بھارت اور انگلستان کے ساتھ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بھارت میں مسلسل نیا اور نوجوان ٹیلنٹ سامنے آرہا ہے، اور انگلستان نوجوان کھلاڑیوں کو منتخب کرنے گریز کیا کرتا تھا۔ وہ بنگلہ دیش اور بھارت کے دورے پر دو نوجوان بلے بازوں کو ساتھ لے کر گیا ہے۔

چیپل کے مطابق، اگر آسٹریلوی ٹیم نے جنوبی افریقہ کے خلاف صورتحال فوراً نہ بدلی تو پاکستان کی آمد سے قبل بڑی تبدیلیاں ناگزیر ہوں گی۔

Facebook Comments