پاک-نیوزی لینڈ ٹیسٹ منصوبے کے مطابق ہوگا

نیوزی لینڈ میں آنے والے شدید زلزلے کی خبر نے جہاں وہاں کے پریشان کیا، وہیں پر پاکستان کرکٹ ٹیم کے اراکین کے اہل خانہ اور مداحوں کو بھی تشویش میں مبتلا کردیا۔ پاکستان کی نہ صرف مردوں کی کرکٹ ٹیم اس وقت نیوزی لینڈ میں ہے بلکہ خواتین ٹیم بھی زلزلے کے قریب ترین بڑے شہر کرائسٹ چرچ میں مقیم ہے۔ یہی شہر 17 نومبر سے پاک-نیوزی لینڈ پہلے ٹیسٹ کا میزبان بھی ہے۔

اللہ کے فضل و کرم سے اس زلزلے میں کسی کھلاڑی کو کوئی نقصان تو نہيں پہنچا لیکن میچ کے انعقاد کے حوالے سے خدشات ضرور اٹھنا شروع ہوگئے۔ کرائسٹ چرچ کا پرانا میدان لنکاسٹر پارک 2011ء کے زلزلے میں بری طرح متاثر ہوا تھا اور آج تک دوبارہ وہاں کوئی میچ نہیں کھیلا گیا۔ اب نئے میدان ہیگلی اوول کو بھی زلزلے کا سامنا کرنا پڑا تو تشویش بجا تھی۔ بہرحال، انجینئرز نے تفصیلی معائنے کے بعد اسٹیڈیم کو 'کلیئر' قرار دے دیا ہے اور نیوزی لینڈ کرکٹ حکام نے واضح کردیا ہے کہ پاک-نیوزی لینڈ پہلا ٹیسٹ طے شدہ منصوبے کے مطابق ہی ہوگا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے بتایا کہ یہ زلزلہ بہت خوفناک تھا اور جس وقت آیا اس وقت پاکستانی دستہ ہوٹل کی ساتویں منزل پر تھا اس لیے جھٹکوں کی شدت زیادہ محسوس کی گئی۔ زلزلے کے وقت تمام کھلاڑی اپنے کمروں میں آرام کر رہے تھے اور اس کے بعد فوراً بعد سیڑھیوں کی طرف دوڑے اور نیچے کھلی جگہ پر جمع ہوگئے۔ 'آفٹر شاکس' کا سلسلہ بھی جاری رہا جس کی وجہ سے کھلاڑی کمروں میں جانے سے گھبراتے رہے۔ رات اسی خوف کے عالم میں جاگ کر گزاری۔

یہ بھی پڑھیں:  آسٹریلین کیمپ میں کھلبلی، بھارت تاریخی فتح کا منتظر

اس شدید زلزلے کے باوجود نیوزی لینڈ کسی بڑے حادثے سے محفوظ رہا۔ سوائے دو افراد کے کوئی جانی نقصان بھی نہیں ہوا لیکن راستوں اور عمارتوں کو کافی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ 2011ء میں جب اسی علاقے میں شدید زلزلہ آیا تھا تو 185 افراد جان سے گئے تھے اور مالی نقصان بھی بہت زیادہ ہوا تھا۔

کرائسٹ چرچ میں رہنے والے نیوزی لینڈ کے کھلاڑی میٹ ہینری کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں زلزلے معمول کی بات ہیں مگر کچھ زیادہ ہی شدید اور خوفناک تھا۔ اس لیے وقت عوام پریشان ہیں اور میچ کا انعقاد اچھا موقع ہے کہ جو ان کی پریشانی میں کمی کا باعث بنے گا۔

hagley-oval-christchurch

Facebook Comments