میدان میں جان دینے والے کھلاڑی

کرکٹ ہو سکتا ہے دیکھنے والوں کے لیے ایک تفریح ہو، لیکن کھیلنے والے یہ جانتے ہیں کہ یہ صرف کھیل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیٹسمین سر سے لے کر پیر تک تمام تر حفاظتی سازوسامان کے ساتھ میدان میں اترتا ہے۔ قریب کھڑے ہوئے وکٹ کیپر اور فیلڈرز بھی ہیلمٹس اور پیڈز کا استعمال کرتے ہیں تاکہ کسی بھی غیر متوقع شاٹ کے نتیجے میں اپنی حفاظت کر سکیں کیونکہ باؤلر کی پھینکی گئی یا بیٹسمین کی جانب سے لگائی گئی کوئی بھی گیند جان لیوا ہو سکتی ہے۔ ہم نے ماضی قریب ہی میں دیکھا ہے کہ کس طرح ایک "بے ضرر" سے باؤنسر نے آسٹریلیا کے ابھرتے ہوئے اوپنر فلپ ہیوز کی زندگی کا خاتمہ کیا۔ 25 نومبر 2014ء کو شیفیلڈ شیلڈ ٹرافی کے ایک مقابلے کے دوران شان ایبٹ کا ایک اٹھتا ہوا باؤنسر کھیلنے کی کوشش ناکام ہوئی اور گیند ہیوز کے ہیلمٹ سے نیچے سر کے نچلے حصے میں لگی۔ وہ چند ثانیے کھڑے رہے اور پھر منہ کے بل گرکر بے ہوش ہوگئے، کبھی نہ اٹھنے کے لیے۔ دو دن بعد ان کی موت واقع ہوگئی۔ ہنستا بستا کھیل کس طرح کسی کی جان لے سکتا ہے، شاید جدید کرکٹ کے شائقین کو پہلی بار اندازہ ہوا ہے۔ لیکن کرکٹ ہر کھیل کی طرح جان لیوا ہو سکتا ہے اور یہ سلسلہ کافی پرانا ہے۔

کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار ایسا کوئی بڑا واقعہ پاکستان میں پیش آیا تھا۔ جنوری 1959ء میں پاکستان کے اہم فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ قائد اعظم ٹرافی کے فائنل میں نوجوان وکٹ کیپر عبد العزیز موت کا شکار ہوئے۔ کراچی کے 17 سالہ وکٹ کیپر پاکستان کمبائنڈ سروسز کے خلاف کھیل رہے تھے جب اسپر دلدار اعوان کی ایک گیند ان کے سینے پر آ لگی۔ زخمی عبد العزیز کو میدان سے باہر لایا گیا جہاں وہ کچھ دیر بعد بے ہوش ہوگئے اور پھر ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی انتقال کرگئے۔

یہ بھی پڑھیں:  یاسر کو لندن پسند ہے

اگست 1993ء میں انگلستان میں ایک کلب میچ کے دوران این فولی کی موت واقع ہوئی۔ فرسٹ کلاس کیریئر کو الوداع کہنے کے بعد 30 سالہ فولی ایک کلب میچ کھیل رہے تھے جہاں ایک باؤنسر ان کے گال پر لگا۔ وہ بے ہوش ہوگئے اور اسی عالم میں انہیں ہسپتال لایا گیا جہاں وہ اسی عالم میں دل کا دورہ پڑنے سے چل بسے۔

چند سال بعد فروری 1998ء میں بنگلہ دیش میں ایک بہت ہی افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ بھارت کے انٹرنیشنل کرکٹر رامن لامبا ڈھاکا پریمیئر لیگ کے ایک مقابلے میں کھیل رہے تھے جب فائنل میں قریبی پوزیشن پر فیلڈنگ کرتے ہوئے انہوں نے ہیلمٹ نہیں پہنا۔ ہی غلطی جان لیوا ثابت ہوئی کیونکہ اسی گیند پر بیٹسمین محراب حسین کا پل شاٹ ان کی پیشانی پر لگا اور وہ گرگئے۔ کچھ دیر بعد انہیں میدان سے باہر لایا گیا اور پھر ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ بے ہوش ہوگئے اور تین دن بعد چل بسے۔

2013ء میں جنوبی افریقہ میں بھی ڈیرن رینڈل نامی ایک 32 سالہ کھلاڑی کی موت باؤنسر لگے سے واقع ہوئی۔

کرکٹ میں کھلاڑیوں کی حفاظت اب ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ فلپ ہیوز کی وفات کے بعد ہیلمٹس میں آنے والی تبدیلیاں اس کی جھلک دکھاتی ہیں۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا صرف کسی کی موت کے بعد ہی تبدیلیوں پر غور ہوگا؟ بہتر تحقیق اور کھلاڑیوں کے ساتھ تعاون کے ذریعے ایسے کسی بھی حادثے سے قبل ہی اہم اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔

رامن لامبا

رامن لامبا

Facebook Comments