پاکستان پر گہرے بادل منڈلانے لگے؟

دورۂ نیوزی لینڈ کے لیے پاکستان کا آغاز ہی "نیک" نہیں ہے۔ پہلے تو ویسٹ انڈیز جیسے کمزور دستے کے ہاتھوں آخری مقابلے میں شکست کا بوجھ لئے نیوزی لینڈ پہنچے۔ تیز پچوں پر ہوا میں تیرتی گیندوں کا سامنا کرنا پاکستانی بلے بازوں کے لیے کبھی آسان نہیں رہا۔ یہ بےچارے تو دھیمی وکٹوں پر بھی کبھی ایسے آؤٹ ہو جاتے ہیں کہ گیند باز کو بھی یقین نہیں ہوتا۔ خیر، ماضی کے ریکارڈ سے پھر بھی حوصلہ پا کر مصباح الیون کرائسٹ چرچ پہنچ گئی تو ادھر درپیش مایوس کن حالات نے استقبال کیا۔

حالات اور وکٹوں سے واقفیت کے لئے رکھا گیا واحد پریکٹس میچ، بارش کی نذر ہوگیا۔ ایسے مقابلے مہمان دستے کے نئے حالات میں اعتماد اور حوصلے کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں لیکن اس بار بغیر کسی مشق کے میدان میں اترنا پڑے گا۔

ابھی پریکٹس میچ کے کھونے کا دکھ تازہ ہی تھا کہ قدرت نے زلزلے کی شکل میں ایسا دھچکا دیا کہ بیچارے ٹیم ساری رات کھلے آسمان تلے گزارنے پر مجبور ہوگئی۔ حالانکہ پاکستان کے بالائی علاقوں سے تعلق رکھنے والوں کے لئے زلزلے اب کوئی نئی بات نہیں رہے آئے روز ان حالت سے گزرتے رہتے ہیں مگر لاہور اور کراچی سے وابستہ کھلاڑیوں کا خوفزدہ ہونا یقیناً بنتا تھا، وہ بھی دیارِ غیر میں اور ساتویں منزل پر۔

امید ہے کہ کھلاڑیوں کو ایسی کیفیت سے نکالنے کے لئے خصوصی انتظامات ضرور کیے ہوں گے۔ ویسے عمراکمل کی غیر موجودگی کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ ٹیم کو محظوظ کرنے کے لئے الگ سے انتظام کرنے پڑیں گے ورنہ ضرورت ہی نہ پڑتی۔ خیر، ان مراحل سے گزر کر "ٹیم گرین" نے اصل مقابلے کے لئے کمر کسی ہی تھی کہ ایک بار پھر بارش نے جھل تھل ایک کردیا۔ یوں پہلے ٹیسٹ کا پہلا ہی دن ضائع ہوگیا۔ یعنی جب ٹیم پاکستان ہمت پکڑتی ہے تو کوئی نہ کوئی مسئلہ ان کا ردھم توڑنے کا سبب بن جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بڑے ناموں کو ’’بڑا پن‘‘ بھی دکھانا ہوگا!

ویسے تو ان سارے حالات سے نیوزی لینڈ کے دستے کو بھی گزرنا پڑا ہوگا، مگر وہ اپنے گھر میں ہیں اور یقیناً اطمینان سے ہوں گے۔ اگر بدشگونیوں کا یہ سلسلہ ایسے ہی جاری رہا تو خاکم بدہن پاکستان کا نیوزی لینڈ میں شاندار ریکارڈ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

Facebook Comments