قائد اعظم ٹرافی کی ’’بے توقیری‘‘ کیوں؟

دنیا بھر میں جہاں بھی کرکٹ کھیلی جاتی ہے وہاں فرسٹ کلاس کرکٹ کو پورا احترام دیا جاتا ہے اور اس عمل کو ممکن بنایا جاتا ہے کہ ملک کے صف اول کے کھلاڑی اس ایونٹ میں بھرپور انداز سے شرکت کریں کیونکہ فرسٹ کلاس کرکٹ ہی وہ پلیٹ فارم ہے جہاں عمدہ کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے ملک کی نمائندگی کا موقع ملتا ہے۔ اس لیے کھلاڑیوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں پوری تیاری کیساتھ شرکت کریں اور اچھی کارکردگی دکھائیں۔ آسٹریلیا کی شیفلڈ شیلڈ ہو یا پھر بھارت کی رنجی ٹرافی، انگلینڈ کی کاؤنٹی چمپئن شپ ہو یا نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ کی فرسٹ کلاس کرکٹ ...ہر ملک میں فرسٹ کلاس کرکٹ کو اہمیت دی جاتی ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا کوئی رواج نہیں جہاں کھلاڑی جب چاہیں فرسٹ کلاس کرکٹ چھوڑ کر ٹی20لیگز کھیلنے چلے جاتے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ انہیں ایسا کرنے کی ’’اجازت‘‘ پاکستان کرکٹ بورڈ ہی دیتا ہے۔

اس وقت ملک میں ڈومیسٹک سیزن کا سب سے بڑا ٹورنامنٹ قائد اعظم ٹرافی کھیلا جارہا ہے جس کا پہلا مرحلہ ختم ہونے کے بعد دوسرے مرحلے کیلئے ٹاپ آٹھ ٹیمیں کراچی میں جمع ہوچکی ہیں جس میں صرف ایک ریجن کی ٹیم ہے مگر سات ڈیپارٹمنٹس سے تعلق رکھنے والے اہم کھلاڑی اس وقت بنگلہ دیش میں ٹی20 لیگ کھیل رہے ہیں جبکہ چند ایک اپنی ٹیموں کو چھوڑ کر امریکہ میں دو اننگز پر مشتمل ٹی20 ٹورنامنٹ کھیلنے کے بعد واپس آچکے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم نیوزی لینڈ میں موجود ہے۔ یوں 40کے لگ بھگ کھلاڑی اس وقت قائد اعظم ٹرافی نہیں بلکہ ملک سے باہر کھیل رہے ہیں۔ نیشنل ڈیوٹی تو ایک الگ بات ہے مگر اپنے ملک کا فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ چھوڑ کر ملک سے باہر ٹی20لیگ میں کھیلنے کی کیا تُک بنتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  چھ سال میں بلندیوں کو چھونے کی داستان

اس کا جواب نہایت آسانی سے دیا جاسکتا ہے ٹی20لیگز میں ملنے والے معاوضے کا موازنہ قائد اعظم ٹرافی کی میچ فیس سے کسی بھی طور پر نہیں کیا جاسکتا جو 15ہزار سے بڑھا کر 25ہزار کی گئی ہے۔ اس لیے کھلاڑیوں کو اس بات سے نہیں روکا جاسکتا کہ وہ لاکھوں کی رقم چھوڑ کر چند ہزار کیلئے فرسٹ کلاس میچ کی سختیاں برداشت کریں۔ یہ درست ہے کہ قائد اعظم ٹرافی میں ملنے والی فیس نہایت کم ہے اور اگر اسے کئی گنا بڑھا بھی دیا جائے تو پھر بھی یہ کسی ٹی20لیگ میں ملنے والے معاوضے کا مقابلہ نہیں کرسکتی جبکہ دوسرا جواز یہ ہے کہ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنے کھلاڑیوں کو دوسری ٹی20 لیگز میں حصہ لینے کی اجازت نہ دے تو پھر اس کے بدلے میں نہ صرف پی سی بی کے تعلقات دوسرے بورڈز سے خراب ہونگے بلکہ دوسرے ملکوں کے بورڈز بھی اپنے کھلاڑیوں کو پاکستان سپر لیگ میں کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

جب بھی ڈومیسٹک کرکٹ چھوڑ کر بیرون ملک ٹی20لیگز کھیلنے کی بات کی جاتی ہے تو اس میں کھلاڑیوں اور پی سی بی کی بات کی جاتی ہے کہ کھلاڑی جاتے کیوں ہیں اور پاکستان کرکٹ بورڈ انہیں اجازت کیوں دیتا ہے لیکن یہاں ایک اور پہلو نظر انداز کردیا جاتا ہے کہ یہ کھلاڑی (سنٹرل کانٹریکٹس کے علاوہ)پاکستان کرکٹ بورڈ کے نہیں بلکہ اپنے اداروں کے ملازم ہیں جو سال بھر انہیں بھاری معاوضہ بھی دیتے ہیں اور اکثر ادارے پکی نوکریاں بھی دیتے ہیں جو اِن کھلاڑیوں کا مستقبل محفوظ کردیتے ہیں مگر اس کے باوجود کھلاڑی سیزن کے دوران نہ اپنے ڈیپارٹمنٹس کا خیال کرتے ہیں اور نہ ہی اُن کے ادارے کسی قسم کی سختی سے کام لیتے ہیں کہ کھلاڑی ڈومیسٹک سیزن کے دوران ملک سے باہر جانے کی بجائے اپنے ٹیموں کی نمائندگی کریں۔

یہ بھی پڑھیں:  [باؤنسرز] دورۂ زمبابوے، امتحان یا مشق؟

قائد اعظم ٹرافی میں شریک 16ٹیموں میں سے 9 ٹیموں کے کپتان اس وقت شعیب ملک ( سوئی سدرن گیس)، احمد شہزاد (حبیب بنک)، انور علی (پی آئی اے)، ناصر جمشید (نیشنل بینک )، خالد لطیف(کراچی بلیوز)، سہیل تنویر (راولپنڈی)، عماد وسیم (اسلام آباد )، عمر اکمل (لاہور وائٹس)اورشاہ زیب حسن (کراچی وائٹس)اس وقت بنگلہ دیش لیگ کی رونق بڑھا رہے ہیں۔ اس سیزن میں حبیب بنک نے احمد شہزاد کو کپتانی کے عہدے پر فائز کیا اور احمد شہزاد نے سیزن کے آغاز پر پوری سنجیدگی سے حصہ لیا مگر جارح مزاج اوپننگ بیٹسمین اہم موڑ پر اپنے ادارے کی ٹیم کو چھوڑ کر بنگلہ دیش چلے گئے۔ اسی طرح خالد لطیف کراچی بلیوز کے کپتان تھے، ان کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر آخری نمبروں پر تھی مگر محدود اوورز کے فارمیٹس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے اوپنر نے بی پی ایل کو ترجیح دی جبکہ قائد اعظم ٹرافی میں اُن کی ٹیم تنزلی کا شکار ہوگئی۔ اسی صورتحال کا سامناپی آئی اے کی ٹیم کو بھی کرنا پڑا جس کے کپتان انور علی بی پی ایل کی رونق دوبالا کرنے چلے گئے۔

ڈیپارٹمنٹس کو بھی اپنی پالیسی وضع کرنا ہوگی کہ ان کے کھلاڑی سیزن کے دوران اپنی ٹیموں کوچھوڑ کر نہ جائیں کیونکہ ہر ڈیپارٹمنٹ اپنی ٹیموں پر خطیر رقم کی سرمایہ کاری کرتا ہے تاکہ ان کی ٹیمیں کامیابی حاصل کریں جبکہ کھلاڑیوں کو بھی اس بات کا کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ملک کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ کی اس طرح بے توقیری کریں!

Ahmed-Shehzad-Shoaib-Malik

Facebook Comments