آشون کا دن، انگلستان کی حالت خراب

پہلے ٹیسٹ میں جاندار کارکردگی کے بعد امید تھی کہ دوسرے ٹیسٹ سے انگلستان زبردست مقابلہ کرے گا اور ہمیں ایک شاندار سیریز دیکھنے کو ملے گی، لیکن لگتا ہے کہ پہلا ٹیسٹ محض ایک مقابلہ تھا، جس میں انگلستان نے توقع سے بڑھ کر کچھ کر دکھایا ورنہ فارم کا حال وہی ہے جو پاکستان اور پھر بنگلہ دیش کے خلاف تھا۔ وشاکھاپٹنم میں صرف دو دن میں ہی انگلستان پچھلے قدموں پر دکھائی دے رہا ہے جس کی صرف 5 وکٹیں باقی بچی ہیں اور پہلی اننگز میں 352 رنز کا خسارہ ابھی باقی ہے۔ امید کی آخری کرنیں کریز پر موجود بین اسٹوکس اور وکٹ کیپر جانی بیئرسٹو ہیں لیکن دونوں کو تیسرے روز ہمالیہ عبور کرنا ہوگا۔

وشاکھاپٹنم میں دوسرے دن کا کھیل بھارت کے صرف 4 وکٹوں پر 317 رنز کے ساتھ شروع ہوا۔ پہلے دن کی طرح یہاں بھی انگلستان نے آغاز بہت اچھا لیا اور 363 تک بھارت کے 7 بلے باز ٹھکانے لگا دیے لیکن روی چندر آشون ایک مرتبہ پھر گلے کی ہڈی بن گئے۔ انہوں نے 58 رنز کی ایک عمدہ اننگز کھیلی اور بھارت کے 400 رنز کی نفسیاتی حد بھی عبور کروائی۔ بھارت کی پہلی اننگز کا خاتمہ 455 رنز پر ہوا جس میں ویراٹ کوہلی کی 167 رنز کی نمایاں اننگز بھی شامل تھی۔ چیتشور پجارا 119 رنز کے ساتھ دوسرے اہم بلے باز رہے۔ انگلستان کی جانب سے جیمز اینڈرسن اور معین علی نے تین، تین وکٹیں حاصل کیں۔

جواب میں انگلستان کو شروع ہی میں کپتان سے محروم ہونا پڑا۔ محمد سمیع کی ایک خوبصورت گیند ایلسٹر کک کی آف اسٹمپ کے دو ٹکڑے کرگئی۔ صرف 4 رنز پر پہلی وکٹ گرنے کے بعد حسیب حمید اور جو روٹ نے سنبھل کر کھیلنا شروع کیا اور اسکور کو 51 رنز تک لے آئے۔ یہاں حمید کے بھیانک رن آؤٹ کا منظر دیکھنے کو ملا۔ جو اپنی دھن میں مست اگلے رنز کے لیے دوڑتے ہی چلے گئے اور جب اندازہ ہوا تو واپس کریز میں پہنچنے میں ناکام رہے۔ انگلستان کی صفوں میں اصل افراتفری اس وقت مچی جب آشون کی خوبصورت گیند نے بین ڈکٹ کی گلیاں بکھیریں۔ کچھ ہی دیر بعد 53 رنز بنانے والے جو روٹ ایک غیر ذمہ دارانہ شاٹ کھیلتے ہوئے انہی کا اگلا نشانہ بنے۔ جو کسر رہ گئی تھی وہ یادو کی گیند پر معین علی کے ایل بی ڈبلیو نے پوری کردی، جنہیں امپائر کمار دھرماسینا کا فیصلہ بھی نہیں بچا سکا۔ یہ نوجوان جاینت یادو کی پہلی ٹیسٹ وکٹ تھی، جو انہوں نے امپائر سے ریویو پر حاصل کی۔ صرف 80 رنز پر آدھی ٹیم آؤٹ ہو جانے کے بعد ڈریسنگ روم کا جو حال ہوگا، اس کا صرف اندازہ ہی کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال، باقی 15 اوورز میں مزید کوئی وکٹ نہیں گری اور اسٹوکس اور بیئرسٹو نے 23 رنز کا اضافہ بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  'یہ دو دن میں کیا ماجرا ہوگیا؟' نیوزی لینڈ کو بدترین شکست

ویسے آج کے دن کو آشون کا دن کہا جا سکتا ہے، جنہوں نے دن کے سب سے قیمتی رنز لیے اور سب سے بہترین وکٹیں بھی۔ اب تیسرے روز انگلستان دنیا کے نمبر ایک باؤلر سے کس طرح بچ پائے گا؟ یہ پہلا سیشن واضح کردے گا۔

وڈیو بشکریہ cricket.com.au

Alastair-Cook

Facebook Comments