"گھر کے شیروں" کا خاتمہ کیسے؟

نیوزی لینڈ کے ہاتھوں پاکستان کی بیٹنگ لائن کی درگت تو ہم سب دیکھ ہی رہے ہیں کہ جہاں مصباح الحق اور یونس خان کا تجربہ کام آ رہا ہے اور نہ بابر اعظم، سمیع اسلم اور سرفراز احمد کا جوش کسی قابل ہے۔ اسی سے ملتی جلتی صورت حال نیوزی لینڈ کے بلے بازوں کو بھی درپیش رہی ہے حالانکہ وہ اپنے ملک کے میدانوں اور موسم کا مزاج خوب سمجھتے ہیں۔ یعنی یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ یہ وکٹ تیز گیند بازوں کی دھاک بٹھانے کے لئے تیار کی گئی تھی۔ پہلی اننگز میں تمام 20 وکٹیں تیز گیند بازوں کے حصہ میں آنا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس صورتحال کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جس شرمناک صورت حال سے پاکستانی بلے باز گزر رہے ہیں، ایسے ہی حالات گزشتہ ماہ نیوزی لینڈ کے بھارت میں اور آسٹریلیا کے سری لنکا میں رہ چکے ہیں۔ جس طرح آج کے بلے باز کرائسٹ چرچ کی وکٹ پر تیز گیند بازوں کے سامنے بے بس ہیں، ویسے ہی برصغیر کی وکٹوں پر نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے بلے باز اسپن باؤلرز کے سامنے مجبور نظر آئے تھے۔

یعنی یہ بات واضح ہے کہ "اپنی گلی میں شیر" بننے والے دوسرے کے علاقے میں "بلی" بن رہے ہیں۔ جب میزبان ممالک اپنی مرضی اور فائدے کی وکٹیں بنائیں گے اور 'ہوم ایڈوانٹیج' حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو ایسا ہی ہوگا۔ کینگروز کا سری لنکا اور کیویز کا بھارت میں جو حال ہوا ہے، کہیں پاکستان کا بھی نیوزی لینڈ میں وہی حشر تو نہیں ہوگا، یہ کہنا قبل از وقت ہے لیکن ایک غیر متوازن صورت حال ضرور جنم لے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  صلاحیت اور محنت ... پھر ضائع ہوگئی!

اس صورت حال میں جہاں بھارت جیسے ملکوں کا فائدہ ہو رہا ہے، جنہوں نے اب لمبے عرصے نے 'ہوم' سیریز کھیلنی ہیں، وہیں پاکستان جیسا ملک مسائل سے دوچار ہے کہ جنہیں اپنے حالات میں کھیلنا تو سرے سے میسر ہی نہیں۔ باقی دیگر ممالک بھی ہیں کہ جنہیں بہت کم ہوم سیریز ملتی ہیں۔

ان حالات سے نکلنے یعنی "گھر کے شیروں" کا خاتمہ کرنے کے دو راستے ہیں، ایک تو بین الاقوامی مقابلوں میں پچوں کی تیاری کا اختیار میزبان ملک سے لے کر آئی سی سی خود اپنے ہاتھ میں لے اور چند مقررہ معیارات طے کرتے ہوئے تمام ممالک میں وکٹوں کی تیاری کی جائے۔ خواہ وہ آسٹریلیا ہو یا نیوزی لینڈ، یا برصغیر کے میدان، سب پر جب وکٹوں کا معیار ایک ہوگا تو گیند بازوں اور بلے بازوں کے پاس سوائے موسم کے کوئی اور غیر ضروری 'ایڈوانٹیج' نہیں رہے گا۔ اس مساوی ماحول میں برابر کا مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔

دوسری رائے ایسی جو ہے ایک، ڈیڑھ سال سے زیر بحث بھی ہے کہ ٹاس کا خاتمہ کردیا جائے اور مہمان ٹیم کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ پہلے گیند بازی کرے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتی تو پھر معمول کے مطابق ٹاس ہوگا ورنہ میزبان کو پہلے بلے بازی کرنا پڑے گی۔ یوں میزبان پچ سے غیر ضروری فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے گا جیسا کہ ابھی انہیں میسر ہے۔ آپ کے خیال میں کون سی رائے زیادہ قابل عمل ہے؟

cricket-pitch

Facebook Comments