'کلر بلائنڈ' میتھیو ویڈ گلابی گیند کے منتظر

جنوبی افریقہ کے ہاتھوں مسلسل دو ٹیسٹ میں شکست کے بعد میزبان آسٹریلیا کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا کہ آخر شکستوں کے تسلسل کو کیسے روکا جائے؟ بچاؤ کے جو ممکنہ ذرائع تلاش کیے جا رہے ہیں ان میں سے ایک بیٹنگ لائن اپ کو مضبوط کرنا بھی شامل ہے اسی لئے تین سال بعد وکٹ کیپر بیٹسمین میتھیو ویڈ کو واپس بلا لیا گیا ہے۔ جو 24 نومبر سے ایڈیلیڈ میں کھیلے جانے والے تیسرے ٹیسٹ میں موجودہ وکٹ کیپر پیٹر نیول کی جگہ دستے کا حصہ ہوں۔

میتھیو ویڈ کو تین سال پہلے وکٹوں کے پیچھے موثر ثابت نہ ہونے کی وجہ سے الگ کیا گیا تھا۔ لیکن اب پیٹر نیول کو بلے بازی میں مہارت نہ دکھلا پانے کی وجہ سے باہر کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میتھیو ویڈ کو بہتر بلے بازی کی برتری جو حاصل ہے، وہ انہیں بین الااقوامی کرکٹ میں واپس لے آئی ہے۔

2012-13ء میں ویڈ نے 34.61 کے اوسط سے 12 میچز کھیلے تھے، جن میں دو سنچریاں بھی شامل تھیں جبکہ نیول کی 17 میچوں میں اوسط صرف 22 ہے۔

میتھیو ویڈ نے اپنے انتخاب پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرے گزشتہ آخری ٹیسٹ میچ کی نسبت کیپنگ اور بیٹنگ میں کافی بہتری آئی ہے اور 24 نومبر سے جاری اہم میچ میں بہتری نظر آئے گی۔

ویڈ کے متعلق کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ کلر بلائنڈ یعنی رنگوں کے اندھے ہیں۔ وکٹ کیپنگ میں جو نقائص شامل تھے ان میں سے ایک یہ وجہ بھی تھی مگر اب ہو سکتا ہے صورتحال بدل گئی ہو کیونکہ اگلا ٹیسٹ ڈے نائٹ ہے اور گلابی گیند سے کھیلا جائے گا۔ ویڈ کا کہنا ہے کہ گلابی گیند سے مسلسل کھیل رہا ہوں اس لئے مجھے اس کی عادت ہو گئی، اور اسے دیکھنے میں کوئی پریشانی نہیں بلکہ کافی مددگار ثابت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:  کلین سویپ فتح کے ساتھ ہسی رخصت ہو گئے
Matthew-Wade2

Facebook Comments