بریڈمین کا "بہترین بیٹسمین"، مارک واہ

کرکٹ میں عام طور پر بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے نہ صرف جارحانہ انداز میں کھیلتے آئے ہیں بلکہ ان کے کھیلنے کے انداز میں قدرتی دلکشی بھی پائی جاتی ہے جب کہ اس کے برعکس چند ہی ایسے دائیں ہاتھ سے کھیلنے والے کھلاڑی آئے ہیں جن کے کھیل میں جارحانہ پن کے ساتھ ساتھ خوبصورتی بھی پائی جاتی ہو۔ آسٹریلوی بلے باز مارک واہ ان میں سے ایک تھے۔ مارک واہ ساری عمر اپنے جڑواں بھائی سٹیو واہ کے سائے میں رہے لیکن جب وہ ریٹائر ہوئے تو اپنے سے چار منٹ بڑے بھائی سے ایک الگ اور نمایاں شناخت بنا چکے تھے۔

2 جون 1965ء کو پیدا ہونے والے سٹیو کی متضاد شخصیت کے حامل شرمیلے اور کم گو مارک کو ٹیسٹ کرکٹ میں آنے کے لیے اپنے بھائی سے پانچ سال زیادہ لگے اور جب 1991 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف مارک کو پہلا موقع ملا تو جس کھلاڑی کو مارک کے لیے جگہ چھوڑنی پڑی وہ کوئی اور نہیں سٹیو واہ تھے۔ حالانکہ اس سے قبل دونوں بھائیوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں ڈیبیو 1985-86 میں اکٹھے بطور اوپنر کیا تھا۔اسی دور میں عام طور ڈسپلن کے پابند اپنے کپتان مارک ٹیلر کی سالگرہ کی پارٹی کے بعد اگلے روز دونوں بھائی سوئے رہ گئے اور جس کی پاداش میں کوچ بابی سمپسن نے دونوں بھائیوں کو دوران پریکٹس سو سو کیچ پکڑنے کی سزا سنائی۔

دو بار شیفیلڈ شیلڈ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کرنے والے مارک واہ کو شروع میں ٹیسٹ ٹیم میں جگہ بنانے کے لیے بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ مارک واہ کے بارے میں سمجھا جاتا تھا کہ شاید وہ صبر اور اطمینان کے امتحان میں پورا نہ اتر پائیں لیکن مارک نے ایک بار قدم جما لیے تو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور ایسی دھاک بٹھائی کہ ڈان بریڈ مین کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ مارک واہ اس زمانے کا سب سے دلکش اور نفیس بلے باز ہے جو ہمیشہ آسٹریلیا کے بہترین بلے بازوں میں سے ایک گنا جاتا رہے گا۔

مارک واہ کو اصل شہرت 1991 کے دورہ ویسٹ انڈیز سے ملی جہاں ویسٹ انڈیز کی خونی باؤلنگ کا سامنا کرنے میں باڈر، ٹیلر جیسے کھلاڑی ناکام رہے اور سریز ہار دی گئی وہاں نوجوان مارک واہ نے 61 سے زائد کی اوسط سے 367 رنز بنائے-

90 کی دہائی میں مارک واہ نے کرکٹ کو جارحانہ انداز کی بیٹنگ سے متعارف کرایا لیکن وہ جارحانہ پن جوش پر مشتمل نہیں تھا بلکہ مکمل طور پر منطقی بیٹنگ پر مشتمل تھا اور جس زمانے میں 200 رنز کرنا ون ڈے میں مشکل ہوجاتا ہے مارک واہ نے کرکٹ کو چوکوں اور چھکوں سے متعارف کرایا اور اسی وجہ سے ان کو انٹرٹینر کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالات جیسے بھی مارک واہ اپنے انداز میں بلے بازی کرتے اور میچ کا پانسہ آسٹریلیا کے حق میں پلٹا دیتے۔ مارک واہ کی ون ڈے کاکردگی اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ وہ ایک وقت میں ون ڈے میں سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والی دوڑ میں سعید انور اور سچن تنڈلکر کے شانہ بشانہ تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  آئی پی ایل 2016ء کا پہلا مرحلہ، اعداد و شمار کی نظر میں

مارک واہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ مسلسل 107 ٹیسٹ میچ کھیلے جو کہ ٹیسٹ میں دوسرا بڑا ریکارڈ ہے۔ جب مارک واہ ریٹائر ہوئے تو آسٹریلیا کے تیسرے سب سے زیادہ7800 ٹیسٹ رنز بنانے والےجبکہ ون ڈے میں آسٹریلیا کی طرف سے سب سے زیادہ 8500 رنز اسکور کرنے والے کھلاڑی تھے۔ علاوہ ازیں آسٹریلیا کی طرف سے کسی اننگز میں سب سے زیادہ رنز 173 اور سب سے زیادہ سنچریاں 18 بھی انہی کے نام منسوب تھیں۔ انہوں نے ایڈم گلکرسٹ کے ساتھ مل کر ون ڈے میں ایسی اوپننگ جوڑی کی بنیاد رکھی جو کسی بھی باؤلنگ اٹیک کے دانت کھٹے کر سکتی تھی اور ٹیسٹ میں چار نمبر پر تسلسل کے ساتھ کاکرردگی کے ساتھ سٹیو واہ کی ناقابل شکست آسٹریلیا میں بلاشبہ اہم کردار مارک واہ کا بھی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ 2002 میں مارک واہ نے انٹرنیشنل کرکٹ کو الوداع کہہ دیینے کے بعد آج بھی آسٹریلوی ماہرین کرکٹ اس بات پر متفق ہیں کہ ابھی تک آسٹریلیا کو دوسرا مارک واہ نہیں مل سکا۔

مارک واہ ایک باصلاحیت باؤلر بھی تھے جو شروع میں میڈیم جبکہ بعد میں آف سپن گیندیں پھینکا کرتے تھے۔ آسٹریلوی ٹیم میں بہت سے آل راؤنڈرز کی موجودگی، شین وارن کی ہم عصری اور خود بلے بازی پر زیادہ دھیان کے باعث لوگ مارک واہ کو گیند باز کے طور پر کم یاد رکھتے ہیں تاہم ٹیسٹ میں 59، ون ڈے میں 85 اور فرسٹ کلاس میں 208 وکٹیں مارک واہ کو قابل اعتماد آل راؤنڈر گنوانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

صرف باؤلنگ ہی ان کو ہر فن مولا ثابت نہیں کرتی بلکہ اس زمانے میں جب فیلڈنگ ایک ثانوی شے ہوتی تھی وہ ایک ماہر فیلڈر بھی تھے جس کا ثبوت ان کے 181 ٹیسٹ کیچز ہیں جو کہ ان کی ریٹائرمنٹ کے وقت کسی بھی غیر وکٹ کیپر کے کیچوں میں دوسرے نمبر پر تھے۔ سلپ میں مارک واہ نے وارن کی گیندوں پر کئی ناقابل یقین کیچ پکڑے ہیں اور اسی لیے ان کو اپنے وقت کے بہترین کیچرز میں گنا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  [آج کا دن] باب وولمر بڑی شکست کا صدمہ نہ جھیل سکے

1997-98 میں بھارتی بک میکر سے پیسے لینے پر مارک واہ کو کافی خفت کا سامنا کرنا پڑا لیکن غلطی کا ازالہ خاموش طبع مارک نے میدان میں دیا اور جلد ہی آسٹریلوی شائقین نے مارک واہ کی غلطی فراموش کر دی۔

مارک واہ کی خاصیت بغیر کسی کوشش کے کی جانے والی ڈرائیو، پل اور کٹ شاٹس تھیں جو دیکھنے میں ایسا لگتا جیسا کسی نے زور سے کھیلتے کھیلتے بیٹ روک لیا ہو لیکن نتیجہ باؤنڈری کے پار دیکھنے کو ملتا۔ بعض اوقات یہی آسانی ان کی توجہ ہٹانے کا باعث بھی بن جاتی اور شروع میں مارک واہ چار مسلسل "بطخیں" حاصل کرکے اعتماد کھو بھی چکے تھے لیکن بڑے کھلاڑی ان کے کھیل کے مداح رہے ہیں جیسا کہ مارک ٹیلر نے کہا کہ میں نے مارک واہ جیسا لیگ پر کھیلنے والا بیٹسمین نہیں دیکھا۔

مارک واہ کو "جونیئر" اور "افغان" بھی کہا جاتا تھا۔ جونئیر اس وجہ سے کہ وہ سٹیو سے چھوٹے تھے جبکہ افغان اس لیے کہا جاتا تھا کہ روس کی افغانستان میں مداخلت کے بعد اس کو Forgotten war کہا جانے لگا چونکہ وار اور واہ کی آواز ایک ہی صوتی اثرات چھوڑتی تھی اس لیے مارک واہ کو فارگوٹن واہ یا افغان کہا جانے لگا کیونکہ اپنے بڑے بھائی کی نسبت مارک کو فرسٹ کلاس میں پانچ سال جدوجہد کے بعد بین الاقوامی مقابلوں میں کھیلنے کا موقع ملا۔

مارک واہ کا نام آتے ہی مہارت، اطمینان، آسانی اور نفاست سے کھیلے گئے اسٹروکس دماغ کے پردے سے گزرنے لگتے ہیں۔ مارک واہ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں لیگ بائے کے رنز ختم کر دیے جائیں اور نیکر پہن کر کھیلنے کی اجازت ہونی چاہیے اور مارک کی بیٹنگ دیکھنے کے بعد ان باتوں کا اندازہ بھی ہوتا تھا کہ لیگ بائے تو اس کو چاہئیں جو لیگ والی بال کو نہ کھیل سکے اور نیکر کیا مارک واہ جس آسانی سے اسٹروک کھیلا کرتے تھے وہ تو بستر میں لیٹے لیٹے بھی کھیلے جاسکتے تھے۔

Mark-Waugh-Steve-Waugh

Facebook Comments