وہاب ریاض آسٹریلیا میں ہمارا نمبر 1 ہتھیار ہوگا، مکی آرتھر

پاکستان کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے کہا ہے کہ مصباح الحق کی عدم موجودگی پاکستان کے لیے بڑا نقصان ہے کیونکہ وہ تقریباً 50 کے اوسط سے رنز بنانے والے بیٹسمین ہی نہیں بلکہ ایک رہنما بھی ہیں۔ یہ ایک مشکل مرحلہ ہے لیکن اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ نوجوانوں کو آگے آنے کا موقع مل رہا ہے۔ مصباح ایک ناقابل یقین کپتان ہیں اور ان کا متبادل تلاش کرنا کافی عرصے تک بہت بہت مشکل ہوگا۔

معروف کرکٹ ویب سائٹ 'کرک انفو' کو دیے گئے انٹرویو میں قومی کوچ نے کہا کہ مصباح کی جگہ مڈل آرڈر میں محمد رضوان کو کھلایا جا سکتا ہے جنہوں نے حال ہی میں ڈومیسٹک کرکٹ میں 167 اور 95 رنز کی اننگز کھیلی ہیں۔ یا پھر شرجیل خان کو دیکھا جا سکتا ہے جو ایک ہی سیشن میں میچ کو حریف سے چھیننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ "شرجیل کو دیکھ کر مجھے ڈیوڈ وارنر کی یاد آتی ہے، جب وہ نئے نئے ٹیم میں آئے تھے۔ اگر شرجیل ضرورت کے مطابق دفاعی انداز کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوگئے تو یہ بہترین کام ہو جائے گا۔ شرجیل کا دفاعی کھیل اچھا ہے لیکن ایک عمدہ ٹیسٹ بلے باز ان کے دفاعی کھیل پر مزید کام کی ضرورت ہے۔"

مکی آرتھر نے کہا کہ پچ اور کنڈیشنز دیکھ کر ہی فیصلہ کریں گے کہ کون کون کھیلے گا۔ "اگر گیند ریورس ہونے کا امکان نظر آیا اور وکٹ میں رفتار و اچھال دکھائی دیا، تو وہاب ریاض ہماری اولین پسند ہوں گے۔ "وہاب آسٹریلیا، خاص طور پر گابا، میں ہمارا نمبر 1 ہتھیار ہوں گے، وہ ایک غیر معمولی باؤلر ہیں۔" محمد عامر کے بارے میں کوچ نے کہا کہ وہ بین الاقوامی کرکٹ میں اپنی واپسی کے بعد سے اب تک اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ بس ان کی گیندوں پر کیچ بہت ضائع ہوئے، خاص طور پر انگلینڈ میں۔ لیکن وہ اچھی باؤلنگ کر رہے ہیں اور بہتر سے بہتر ہو رہے ہیں۔ ان کی رفتار اور اعتماد واپس آ رہا ہے اور وہ گیند کو ایک مرتبہ پھر سوئنگ کرنا کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سری لنکا میں شکست کا سبب میچ پریکٹس کی کمی تھی: مصباح الحق
Wahab-Riaz

"انگلینڈ کے خلاف سیریز کے بعد نمبر 1 بننا شاندار تھا۔ سالوں سے اپنے میدانوں پر نہ کھیلنے کے باوجود یہاں تک پہنچنا بڑی بات تھی اور اب ہم اس مقام کو دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ محض ہمارا خواب ہی نہیں، بلکہ ہم جانتے بھی ہیں کہ یہ ایک مشکل ہدف ہے۔ خاص طور نیوزی لینڈ نے پچھلے ٹیسٹ میں اچھا کھیل پیش کیا اور اب انہیں ہرانے کے لیے ہمیں بہت اچھا کھیلنا ہوگا۔ پھر آسٹریلیا، اپنے ملک میں بہت سخت حریف ہے۔ ہمیں ضرورت ہے برصغیر کے حالات سے باہر نکل کر اچھی کارکردگی دکھانے کی اور یہاں ہمیں بالخصوص جس چیلنج کا سامنا ہوگا وہ شارٹ گیندوں اور وکٹ میں موجود رفتار سے نمٹنے کا ہے۔" کوچ نے کہا۔

پاکستان کو نیوزی لینڈ کے خلاف کل شروع ہونے والے دوسرے و آخری ٹیسٹ کے بعد تین ٹیسٹ میچز کے لیے آسٹریلیا جانا ہے۔ ان چاروں ٹیسٹ میچز میں کامیابی کے بعد پاکستان ہو سکتا ہے کہ ایک مرتبہ پھر عالمی نمبر ایک بن جائے البتہ اس کا انحصار دیگر ٹیموں کے مقابلوں پر بھی ہوگا۔

Facebook Comments