فیصلہ جو جنوبی افریقہ کے گلے پڑ گیا

آسٹریلیا کے خلاف پہلے دونوں ٹیسٹ مقابلوں میں فتوحات کے ساتھ جنوبی افریقہ نے حریف کے میدانوں پر سیریز جیتنے کی ہیٹ ٹرک تو کرلی، لیکن اس کے ساتھ ہی ایک تنازع کھڑا ہو گیا۔ جنوبی افریقی کپتان فف دو پلیسی پر بال ٹیمپرنگ یعنی گیند سے چھیڑ چھاڑ کا الزام لگا اور اس 'منٹ گیٹ' معاملے سے لے کر ایڈیلیڈ میں ہونے والے تیسرے ٹیسٹ کے اختتام تک جنوبی افریقہ پچھلے قدموں پر ہی رہا۔ آسٹریلیا آخری ٹیسٹ جیت کر کلین سویپ کی ہزیمت سے تو بچ گیا لیکن ان کی اس کامیابی میں فف کے ایک ایسے فیصلے کا بھی کردار ہے جسے پہلے دن بہت جرات مندانہ سمجھا گیا تھا۔

ایڈیلیڈ میں جب فف دو ٹاس جیتا اور پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا تو جلد ہی انہیں خود میدان میں اترنا پڑا کیونکہ تین وکٹیں صرف 44 رنز پر گر چکی تھیں۔ پھر صورت حال گمبھیر تر ہوتی چلی گئی اور آدھی ٹیم 117 رنز پر آؤٹ ہو چکی تھی۔ یہاں پر فف دو بہت عمدہ اننگز کھیلی اور مجموعے کو 259 رنز تک لے گئے۔ لیکن یہ کیا؟ فف نے اننگز ڈکلیئر کردی؟ آخری وکٹ پر اچھی بھلی شراکت داری چل تو رہی تھی؟ کپتان اور ڈیبیوٹنٹ دونوں مل کر اسکور میں 39 رنز کا اضافہ کر چکے تھے کہ اننگز کے خاتمے کا اعلان کردیا گیا۔ فف 118 رنز ناٹ آؤٹ کے ساتھ میدان سے واپس آئے، اس امید کے ساتھ کہ دن کے بچ جانے والے آخری 14 اوورز میں آسٹریلیا کی چند وکٹیں حاصل کرکے غلبہ حاصل کرلیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  اجمل کو بچانے کے لیے ’’دوسرا‘‘ طریقہ اختیار کرنا ہوگا

لیکن اس جرات مندانہ فیصلے نے جنوبی افریقہ کو کافی نقصان پہنچایا۔ وہ نہ صرف پہلے دن کے بچ جانے والے اوورز میں کوئی وکٹ حاصل نہ کر سکے بلکہ اگلے دن بھی آسٹریلیا کے قدموں کو نہ روک پایا۔ عثمان خواجہ نے ایک شاندار سنچری بنائی، کپتان اسٹیون اسمتھ کے ساتھ ساتھ پیٹر ہینڈس کمب اور آخر میں مچل اسٹارک نے بھی عمدہ نصف سنچریاں بنائیں اور آسٹریلیا کو 383 رنز تک پہنچا دیا۔ یوں جنوبی افریقہ کو پہلی اننگز میں 124 رنز کا خسارہ ہوگیا جو غالباً میچ کا 'ٹرننگ پوائنٹ' تھا۔

جنوبی افریقہ نے دوسری اننگز میں اسٹیفن کک کی سنچری کی مدد سے مقابلے میں واپس آنے کی کوشش تو کی لیکن مچل اسٹارک کے باؤلنگ اور پہلی اننگز کے خسارے نے اسے کہیں کا نہیں چھوڑا۔ 250 رنز بنانے کے باوجود آسٹریلیا کو صرف 127 رنز کا ہدف دے سکا جو میزبان نے صرف تین وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔

ہو سکتا ہے کہ فف پہلی اننگز کو ڈکلیئر نہ کرتے، اور خود رنز بناتے رہتے تو شاید آخری وکٹ کے قیمتی رنز میچ کے نتیجے پر اثر ڈالتے۔ بہرحال، پہلے ہی دن اننگز ڈکلیئر کرنے کے اس دلیرانہ فیصلے نے جنوبی افریقہ کو فائدہ نہیں پہنچایا اور اس کی بہت کم مثالیں ہی موجود ہیں جیسا کہ 1974ء میں جب پاکستان اور انگلستان کا لارڈز ٹیسٹ۔ یہاں پاکستان بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے 51 رنز بنا چکا تھا کہ بارش کی وجہ سے کئی گھنٹے کا کھیل ضائع ہوگیا۔ جیسے ہی اننگز دوبارہ شروع ہوئی انگلینڈ کے ڈیرک انڈرووڈ کی باؤلنگ سے پاکستان بے حال ہوگیا۔ صرف 130 رنز پر 9 وکٹیں گر چکی تھیں جن میں سے پانچ انڈرووڈ نے حاصل کی تھیں، وہ بھی صرف 20 رنز کے عوض۔ یہاں پر انتخاب عالم نے اننگز ڈکلیئر کرنے کا فیصلہ کیا، یعنی صرف 130 رنز پر۔ جواب میں انگلستان نے پہلے دن کا اختتام ایک وکٹ پر 42 رنز کے ساتھ کیا یعنی کافی حد تک پاکستان کی حکمت عملی کو ناکام بنا دیا جو آخری اوورز میں وکٹیں حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اگلے دن انگلینڈ 270 رنز تک پہنچا۔ دوسری اننگز میں بھی پاکستان کے ساتھ وہی کہانی دہرائی گئی۔ تیسرا دن مکمل ہوا تو اسکور صرف 3 وکٹوں پر 173 رنز تھا لیکن چوتھے دن بارش کے بعد انڈر ووڈ ایک مرتبہ پھر چھا گئے۔ انہوں نے صرف 51 رنز دے کر 8 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور پاکستان کی اننگز صرف 226 رنز تک محدود کردی۔ انگلینڈ کو جیتنے کے لیے صرف 87 رنز کا ہدف ملا لیکن ہوا وہی جو ہونا چاہیے تھا۔ آخری دن کا پورا کھیل بارش کی نذر ہوگیا اور انگلستان ایک یقینی فتح سے محروم ہوگیا۔ یوں بارش نے انتخاب عالم الیون کو ایک مایوس کن شکست سے بچا لیا۔

یہ بھی پڑھیں:  گانگلی صاحب! کیا واقعی بھارت پاکستان سے بہتر ہے؟

بارش تو فف کو نہ بچا سکی لیکن یہی کافی نہیں کہ وہ کپتان ابراہم ڈی ولیئرز اور ڈیل اسٹین جیسے اہم گیند باز کے بغیر آسٹریلیا کو اس کے ملک میں ٹیسٹ سیریز ہرانے میں کامیاب ہوئے؟

Faf-du-Plessis2

Facebook Comments