اظہر علی، سر منڈاتے ہی اولے پڑے

پاکستان کے کپتان اظہر علی کو بحیثیت کپتان اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میں نہ صرف بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا بلکہ سلو اوور ریٹ یعنی اوورز پھینکنے کی دھیمی شرح کی وجہ سے 100 فیصد میچ فیس کا جرمانہ بھی برداشت کرنا پڑا ہے۔ لیکن ہملٹن میں صرف اتنا ہی نہیں ہوا۔

دوسرے ٹیسٹ میں جہاں پاکستان کو کامیابی کی ضرورت تھی، وہاں وہ کپتان مصباح الحق کی خدمات سے بھی محروم تھا جو پہلے مقابلے میں اسی جرم کی پاداش میں ایک میچ کی پابندی بھگت رہے تھے۔ ان کی عدم موجودگی میں قیادت اظہر علی کو سونپی گئی، جنہوں نے آخری روز 369 رنز کے تعاقب کے لیے سمیع اسلم کے ساتھ پہلی وکٹ پر 131 رنز کی شراکت داری قائم کی۔ لیکن اس کے لیے 60 اوورز ضائع کردیے گئے۔ اس کا دباؤ آنے والے بلے باز برداشت نہیں کر سکے اور صرف 99 رنز کے اضافے سے تمام وکٹیں گرگئیں۔ پہلے اظہر علی خود آؤٹ ہوئے اور پھر "تو چل، میں آیا" ہوگیا۔

اس شکست کے ساتھ ہی پاکستان کو نہ صرف سیریز میں کلین سویپ کی ہزیمت سہنا پڑی، بلکہ عالمی درجہ بندی میں بھی چوتھے نمبر پر چلا گیا۔ ان دو زخموں پر نمک چھڑکا ہے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے جرمانے نے، جنہوں نے کپتان کی تو جیب ہی صاف کردی ہے جبکہ باقی پوری ٹیم پر بھی 50، 50 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

نیوزی لینڈ کے دورے میں یہ بدترین شکستیں آسٹریلیا کے دورے سے پہلے ایک طوفان کا پیش خیمہ لگتی ہیں۔ دیکھتے ہیں کپتان مصباح الحق اور کوچ مکی آرتھر اس بھیانک تجربے سے کیا سبق سیکھتے ہیں اور آگے کیا کرتے ہیں۔ لیکن یہ بات کافی حد تک واضح ہو چکی ہے کہ اظہر علی مصباح کے جانشین نہیں ہیں، خاص طور پر آخری دن کے آخری سیشن میں جس طرح پاکستان ہارا ہے اس کے بعد تو شاید ان کے مداح بھی ایسا نہیں کہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  محمد عامر کی کارکردگی، وہی ہوا جس کا خدشہ تھا
Azhar-Ali

Facebook Comments