میکسویل واپسی کے لیے پر تولتے ہوئے

آسٹریلیا کے طوفانی بلے باز گلین میکسویل گزشتہ چند سالوں نے قومی دستے کے مرکزی رکن تھے، لیکن سال 2016ء ان کے لیے بہت مشکل رہا ہے۔ دورۂ ویسٹ انڈیز کے وسط سے انہیں باہر کردیا گیا اور پھر سری لنکا کے خلاف معمولی اور جنوبی افریقہ کے خلاف چنداں مواقع نہیں دیے گئے۔ البتہ آل راؤنڈر کو نیوزی لینڈ کے خلاف چیپل-ہیڈلی ٹرافی کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ یعنی سال ختم ہونے سے پہلے "میکس" کے پاس موقع ہوگا، خود کو منوانے کا!

4 دسمبر سے سڈنی میں شروع ہونے والی تین ون ڈے میچز کی سیریز میں سے پہلے میکسویل کہتے ہیں کہ وہ تکنیکی اور ذہنی دونوں طرح سے تیار ہے اور اپنی سوچ اور کھیل کے انداز میں کچھ تبدیلیاں کرکے میدان میں اتریں گے۔ "میں یقینی بناؤں گا کہ مقابلے میں آگے سے آگے جائیں، بجائے اس کے کہ اننگز کے آغاز ہی میں اپنی وکٹ ضائع کروں۔"

رواں سال میکسویل کے لیے کتنا برا رہا ہے؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جنوری میں بھارت کے خلاف ملبورن میں 96 رنز بنانے کے علاوہ انہوں نے ایک مرتبہ پھر 50 کا ہندسہ عبور نہیں کیا۔ 11 اننگز میں صرف 4 مرتبہ وہ دہرے ہندسے میں داخل ہوئے اور تین بار تو صفر کی ہزیمت سے بھی دوچار ہوئے۔ گزشتہ سال 46 کے اوسط سے رنز بنانے والے میکسویل کا 2016ء میں بیٹنگ اوسط صرف 25 رہا اور یہی ان کے اخراج کی وجہ بھی بنا۔

میکس ویل نے امید ظاہر کی ہے کہ نیوزی لینڈ کے خلاف اچھی سیریز انہیں دو سال بعد ٹیسٹ ٹیم میں واپس لائے گی۔ اب تک صرف تین ٹیسٹ میچز کھیلنے والے میکس ویل کی نظریں اب آسٹریلیا کی اگلی ٹیسٹ مہم پر ہیں، جو پاکستان کے خلاف ہے۔ پاک-آسٹریلیا سیریز کا آغاز 15 دسمبر سے برسبین میں ہو رہا ہے جس کے لیے پاکستانی ٹیم آسٹریلیا پہنچ چکی ہے اور مصباح الحق ہرگز نہیں چاہیں گے کہ میکسویل جیسا "گیم چینجر" پاکستان کے خلاف کسی بھی فارمیٹ میں کھیلے۔

یہ بھی پڑھیں:  [ویڈیوز] میکس ویل کی ایک اور طوفانی اننگز؛ صرف 38 گیندیں اور 90 رنز
Glenn-Maxwell2

Facebook Comments