لیگ کرکٹ بمقابلہ بین الاقوامی کرکٹ

کرکٹ کو مغرب میں سابق برطانوی کالونیوں یا برطانوی دولت مشترکہ ممالک کا کھیل کہا جاتا ہے۔ اس بات میں اس حد تک صداقت بھی ہے کہ تمام ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک سابق برطانوی کالونی رہ چکے ہیں۔ اور بنگلہ دیش کے 2000ء میں ٹیسٹ کرکٹ کا اسٹیٹس حاصل کرنے کے بعد سے کوئی ایک ٹیم اس اسٹیٹس کے پاس نہیں پھٹک سکی بلکہ معیار کی زبوں حالی کی وجہ سے زمبابوے سے ٹیسٹ کیپ واپس لے لی گئی اور مزید کبھی ٹیسٹ کرکٹ کو دو ڈویژن میں بانٹنے کی بات ہوتی ہے کبھی تعداد گھٹانے کی بات کی جاتی ہے۔

حالانکہ کئی ٹیمیں ماضی میں مختصر یا طویل عرصے کے لیے کارکردگی کا مظاہرہ کر چکی ہیں جس کی مثال زمبابوے، کینیا اور آئرلینڈ ہیں لیکن کئی وجوہات کی بنا پر وہ اپنی کارکردگی کا معیار قائم نہ رہ سکیں اور سب سے آخری ٹیسٹ ٹیم بنگلہ دیش تک نے کئی ماہرین کو مایوس کیا اور اس کی ٹیسٹ میں شمولیت کو آئی سی سی کا جلد بازی کا فیصلہ سمجھا گیا اور آخر تیرہ سال کے طویل عرصے بعد بنگلہ دیش کی ٹیم نے اپنے پاؤں جمانا شروع کیے ہیں۔

ادھر بنگلہ دیش کا دم پھر بھی غنیمت ہے کہ اس کے بعد تو چراغوں میں کوئی روشنی ہی نظر نہیں آرہی۔ افغانستان اور آئرلینڈ ہر چندکہیں کہ ہے، نہیں ہے کا سا حال ہے۔ ادھر دوسرا مسئلہ یہ بھی ہے کہ کرکٹ نئے ممالک اور اقوام کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں ناکام ہے۔ عرب ممالک کی کرکٹ ٹیمیں ہوں یا مشرقی ایشیائی ٹیمیں، یورپی ممالک کی آئی سی سی ایسوسی ایٹ ٹیمیں ہوں یا اوقیانوسیہ اور غرب الہند ہر جگہ انہی نو ممالک کے تارکین ہی کرکٹ کھیل رہے ہیں۔

اس کے برعکس دیگر کھیلوں کو دیکھیں تو روز بروز ان کی مقبولیت بڑھتی جارہی ہے۔ فٹ بال کو چھوڑیں فیلڈ ہاکی، بیس بال تک دیگر ممالک میں مقبولیت حاصل کررہے ہیں۔ کرکٹ کی وجہ سے کرکٹرز کے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے کہ ان کی مقبولیت ایک محدود طبقے تک ہے یعنی شاہد آفریدی پاکستان میں ہی مقبول ہیں بنگلہ دیشی یا آسٹریلوی جتنا پسند کرلے جب آفریدی نے ان کے خلاف میدان میں اترنا ہے تو ساری پسندیدگی دھری رہ جانی ہے یہی وجہ ہے کہ بھارت کے علاوہ جہاں بے انتہا پیسہ کرکٹ سے منسلک ہے (وہاں بھی دو تین کے علاوہ) کوئی کرکٹر کبھی دنیا کے کھلاڑیوں میں زیادہ پیسہ کمانے والوں میں شامل نہیں رہے۔ اور کرکٹ میں سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے۔

زمبابوے کی 1999ء کی ٹیم میں فلاور برادران، مرے گڈون، نیل جانسن سب پیسہ کمانے کے لیے ملک چھوڑ گئے اور زمبابوے ایسا لڑکھڑایا کہ اپنے پیروں پر آج تک کھڑا نہیں ہو سکا۔ یا پھر برطانوی ون ڈے کپتان ایون مورگن آئر لینڈ کو ٹیسٹ کرکٹ اور زیادہ بہتر مواقع کےلیے چھوڑ گئے۔ آئرلینڈ کو چھوڑیں ویسٹ انڈیز کو سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ وہ چاہتا ہے کھلاڑی پیسہ کا سوچے بغیر اس کے لیے کھیلیں لیکن کھلاڑی بھی انسان ہیں ان کو بھی پیسہ چاہیے، ان کے بھی بال بچے ہیں انہوں نے بھی خاندان پالنا ہے۔

یورپ میں بچے بچپن سے اسکول کے ساتھ کسی نہ کسی کھیل کے ساتھ منسلک ہو جاتے ہیں۔ مشرقی یورپ کے ایک چھوٹے سے ملک ایسٹونیا میں اسکول میں بچوں کو کرکٹ کھیلنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ لیکن جب وہ اس موقع پر آتے ہیں کہ کیا کھیل کو بطور پروفیشنل اختیار کریں تو وہ کرکٹ چھوڑ جاتے ہیں کہ اس میں کوئی مستقبل نہیں۔ ہم جیسے ملکوں میں تو پھر ملک کی نمائندگی کا چارم ہوتا ہے۔ خود سوچیں اگر آج کسی اور کھیل میں پیسہ آ جائے تو کتنے لوگ کرکٹ کو پروفیشن بنانا پسند کریں گے اور پاکستان میں تو یہ حال ہے کہ لاکھوں میں فقط چند سو لڑکے کی کچھ نہ کچھ کرکٹ سے کمانے کے قابل ہوتے ہیں اسی لیے والدین ہمیشہ بچوں کو کرکٹ کھیلنے سے منع کرتے ہیں۔

حب الوطنی اپنی جا لیکن پیٹ بھی ایک تلخ حقیقت ہے اور اگر آئی سی سی مستبقل میں کرکٹ کی بہتری اور پھیلاؤ چاہتی ہے تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ باقاعدہ لیگ کرکٹ شروع کی جائے۔ آئی پی ایل، بی پی ایل و دیگر جاری لیگوں کی طرح نہیں کہ شتر بے مہار کی طرح نہ کوئی روک نہ ٹوک نہ چیک اینڈ بیلنس بلکہ ایک گورننگ باڈی بنائی جائے جو لیگ کے باقاعدہ ڈھانچے کی مضبوطی دے اور کم از کم دو یا تین ڈویژن پر مشتمل لیگ تشکیل دی جائیں بھلے نو کی بجائے دو یا تین ہوں لیکن اس کے لیے باقاعدہ تین چار ماہ مختص کیے جائیں تاکہ کھلاڑی پیسہ کمانے کے قابل ہوں۔ مزید یہ کہ ان کو بین الاقوامی سپانسر ملیں گے اور کرکٹ بھی نئے علاقوں میں مقبول ہوگی۔ جب کھلاڑی لیگ سے پیسہ کمانے کے قابل ہوں گے تو ملکی نمائندگی ان کے لیے اعزاز ہوگی۔ کیا فٹ بال میں ملکوں کی نمائندگی کے وقت جذبات نہیں ہوتے؟ کیوں میراڈونا کو آج بھی ارجنٹینا کا سب سے بڑا ہیرو سمجھا جاتا ہے؟ حالانکہ کئی کھلاڑی میدان میں اس سے بہتر کارکردگی دکھا چکے ہیں لیکن اس کا ارجنٹینا کو ورلڈ کپ جتوانا اس کے ہیرو ہونے کا سبب ہے اسی لیے اربوں کمانے والے کھلاڑی تقریباً مفت ہی ملک کے لیے کھیلنے کو تیار رہتے ہیں۔ باقی چھوڑیں آخر کیا وجہ تھی کہ ذیشان رحمان، عاطف بشیر جیسے کھلاڑیوں یورپ میں فٹ بال کھیلنے والے کھلاڑیوں نے پاکستانی فٹ بال ٹیم کی نمائندگی کی اور یہ تو ہماری فیڈریشن کی نااہلی تھی وگرنہ ہماری ٹیم آج بھی جنوبی ایشیا کی بہترین ٹیم بن سکتی ہے۔

میں قطعاً اس بات کا حامی نہیں کہ بین الاقو امی کرکٹ کو منسوخ کر دیا جائے بلکہ میں اس بات کا حمایتی ہوں کہ کھلاڑیوں کو کمانے کے بہتر مواقع ملیں اور کرکٹ کو نئے علاقوں میں مقبول کرنے کے جتن کیے جائیں تاکہ کرکٹ بھی تمام دنیا میں پہچانی جائے اور نئے نئے ممالک اور نئے نئے کھلاڑی میدان میں دیکھنے کو ملیں وگرنہ کرکٹ ہمیشہ بگ تھری اور دیگر پیسے والے ممالک کے ہاتھوں میں کھلونا بنی رہے گی۔

kids-cricket

Facebook Comments