پہلے ٹیسٹ سے قبل پاکستان کو بڑا دھچکا

پاکستان نے تاریخ میں کبھی آسٹریلیا کو اس کے ملک میں سیریز نہیں ہرائی بلکہ آخری ٹیسٹ جیتے ہوئے بھی پاکستان کو 21 سال گزر چکے ہیں۔ یعنی 15 دسمبر سے شروع ہونے والی سیریز کے لیے پاکستان کے تمام کھلاڑیوں کو ایڑی چوٹی کا زور لگانا ہوگا تب کہیں جاکر کوئی مثبت نتیجہ برآمد ہونے کی توقع ہے۔ ایسی صورت حال میں اگر نمبر ایک باؤلر زخمی ہو جائے تو پریشان ہونے کی بات تو ہے۔ پاکستان کے اہم ترین اسپن باؤلر یاسر شاہ پہلے ٹیسٹ سے قبل کمر کی تکلیف کا شکار ہوگئے ہیں اور انہیں جمعرات سے شروع ہونے والے ٹور میچ سے باہر کردیا گیا ہے

پاکستان اور کرکٹ آسٹریلیا الیون کے درمیان سہ روزہ مقابلہ کیرنز میں کھیلا جائے گا۔ یہ ڈے اینڈ نائٹ میچ ہوگا کیونکہ پاکستان کو برسبین میں ڈے نائٹ ٹیسٹ کھیلنا ہے۔ اس میچ سے قبل ایک تربیتی سیشن میں یاسر کی کمر میں تکلیف شروع ہوئی جس کے بعد ان کا معائنہ کیا گیا اور فوری طور پر آرام کا مشورہ دیا گیا ہے۔

پاکستان رواں سال ٹیسٹ میں عالمی نمبر ایک تک پہنچا جس میں بلاشبہ یاسر شاہ کا بہت اہم کردار ہے جو سب سے کم مقابلوں میں 100 وکٹیں مکمل کرنے والے پاکستانی گیند باز بھی بنے۔ اگر وہ برسبین ٹیسٹ سے پہلے فٹ ہو بھی گئے تو یہ بات یقینی ہے کہ وہ آؤٹ آف فارم ہونے کے ساتھ ساتھ آؤٹ آف پریکٹس بھی ہو جائیں گے۔ پاکستان نے نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں یاسر شاہ کو نہیں کھلایا تھا کیونکہ قائم مقام کپتان اظہر علی نے 'گرین ٹاپ' وکٹ پر چار فاٹ باؤلرز کے ساتھ کھیلنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس سے قبل کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں یاسر شاہ ایک وکٹ تک نہیں لے سکے تھے جو ان کے 20 مقابلوں کے کیریئر کا واحد لمحہ ہے۔ پاکستان یہ دونوں مقابلے ہارا اور 31 سال بعد نیوزی لینڈ کے ہاتھوں سیریز شکست کھائی۔

اب آسٹریلیا کے دورے سے پہلے پاکستان کو یاسر شاہ سے بڑی امیدیں ہیں۔ پاکستان نے یہاں دہائیوں سے کوئی ایک میچ تک نہیں جیتا اس لیے اپنے سب سے اہم اور میچ وننگ باؤلر سے کافی توقعات رکھتا ہے۔ اس لیے یاسر شاہ کا زخمی ہونا پاکستان کے لیے فیصلہ کن دھچکا ہو سکتا ہے۔ کیونکہ پاکستان کے پاس یاسر کا کوئی خاص بیک اپ بھی موجود نہیں۔ 16 رکنی دستے میں ان کے علاوہ واحد اسپنر محمد نواز ہیں جن کی کارکردگی اب تک مایوس کن ہے۔

Facebook Comments